پیر , 16 جولائی 2018

کنٹرول لائن، جنوبی ایشیا کا رستا ہوا زخم

(عارف بہار)
بھارت کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ایک بار پھر یہ دھمکی دی ہے کہ ملک بچانے کی خاطر بھارتی فوج سرحد پار کر سکتی ہے۔ اس سے پہلے بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کہہ چکے ہیں کہ کنٹرول لائن پر امن ہماری شرائط پر ہوگا بلکہ پاکستان ہمیں کنٹرول لائن پر چوکس اور چوکنا رکھتا تھا اب ہم نے پاکستانی فوج کو کنٹرول لائن پر مصروف کر دیا ہے۔ اس سے یوں لگتا ہے کہ بہت سوچ سمجھ کر ڈیورنڈ لائن سے کنٹرول لائن تک بھارت نے پاکستانی فوج کو مصروف رکھنے کی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے۔ صرف یہی نہیں ایک طرف کنٹرول لائن پر بلااشتعال گولہ باری کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے تو دوسری طرف مقبوضہ کشمیرکے عوام میں بے چینی پیدا کرنے کیلئے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستان جوابی کارروائی میں شہری آبادیوں اور فوجی تنصیبات کا فرق روا نہیں رکھتا۔ اس کیلئے مقبوضہ پونچھ کے منڈھیر علاقے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی ہلاکت اور دو کا زخمی ہونا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مقبوضہ علاقے کا یہ گھر پاکستانی فوج کی جوابی گولہ باری کا نشانہ بنا۔ بھارتی میڈیا نے بھی اس واقعے کی اس انداز سے رنگ آمیزی کی کہ مقبوضہ علاقے کے عوام میں یہ تاثر گہرا ہو کہ پاکستان کو وہاں کی آبادی کا کوئی احساس نہیں۔

اخبارات نے اس واقعے کو شہ سرخیوں میں اور ٹی وی چینلز نے بریکنگ نیوز کی صورت میں چلایا۔ حقیقت یہ ہے کہ کنٹرول لائن پر مقبوضہ کشمیر کی آبادی پاک فوج کی کمزوری رہی ہے اور وہ بھارت کی بلااشتعال گولہ باری کے جواب میں حد درجہ احتیاط برتا جاتا ہے۔ اسی کمزوری کا فائدہ بھارتی فوج آج کل اُٹھا رہی ہے۔ ایسے میںصدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کنٹرول لائن پر بنکرز کی تعمیر کیلئے فنڈز منظور ہو چکے ہیں۔ جلد ہی بنکروں کی تعمیر شروع ہو جائے گی۔ کنٹرول لائن پر بسنے والے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے طبی سہولیات سمیت ایمبولینسز فراہم کی جائیں گی۔ جدید سڑکوں کی تعمیر ہوگی اور ضلعی انتظامیہ کو متاثرین کی دادرسی کے وسائل فراہم کئے جائیں گے۔ صدر آزاد کشمیر کے ان اعلانات سے پہلے بھی وزیراعظم راجہ فاروق حیدر اور کابینہ کمیٹی اس طرح کی سفارشات پیش کر چکی ہے۔ اس معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ فنڈز کی منظوری تھی۔ سردار مسعود خان نے فنڈز کی منظوری کی نوید سنا دی ہے اور اب اس منصوبے پر عمل درآمد کا مرحلہ آن پہنچا ہے۔ فنڈز کی منظوری سے بھی بڑا مسئلہ فنڈز کا دیانتداری سے استعمال ہے۔ اکثر اوقات فنڈز زمین پر لگنے کی بجائے ایک مخصوص اور بااثر طبقہ کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں۔

زلزلے کے بعد تعمیرنو اور بحالی کے تمام مراحل میں عوام کو یہی مناظر دیکھنے کو ملے۔ اب بھی بعید نہیں کہ کنٹرول لائن کے متاثرین کیلئے منظور ہونے والے فنڈز بیوروکریسی اور سیاسی لوگوں کی ملی بھگت کی نذر ہو جائیں۔ اسلئے ان فنڈز کے استعمال کی مانیٹرنگ کا شفاف اور سخت نظام اپنانا بھی لازمی ہے۔ کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں کے عوام اس وقت انتہائی کربناک حالات سے گزر رہے ہیں۔ انسان، مویشی، کھیت کھلیان، مکان اور دکان غرضیکہ کچھ بھی محفوظ نہیں رہا۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کسی گاؤں میںکوئی لاشہ نہ اُٹھتا ہو۔ بھارتی فوجی تاک کر انسانوں پر گولیاں برساتے ہیں۔ گولیوں کی زد میں آنے والے اکثر لوگ معصوم اور نہتے ہوتے ہیں ان میں کوئی درانداز نہیں ہوتا، کوئی اسلحہ بردار نہیں ہوتا، کسی کے ہاتھ میں گرنیڈ اور بندوق نہیں ہوتی۔ یہ آزادکشمیر کا کوئی عام شہری ہوتا ہے جو غم ِ روزگار میں گھر سے نکلا ہوتا ہے اور بھارتی فوج کی نشانہ وار گولی جس کا کام تمام کرتی ہے اور یوں ایک اور گھر اورخاندان میں المیہ کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں کنٹرول لائن پر 2004 کی جنگ بندی عملاً ختم ہو چکی ہے۔ جن علاقوں میں بظاہر امن بھی ہے وہاں بھی ہر دم خوف کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں اور کچھ ہو جانے کا دھڑکا عوام کو غیر یقینی کے عذاب میں مبتلا رکھے ہوئے ہے۔ نیلم اور لیپا کی حسین وادیوں میں یا تو بھارتی فوج کی گولہ باری ماحول پر خوف طاری کئے ہوئے ہے یا کچھ ہو جانے کے احساس نے مقامی افراد اور سیاحوں کو خوف ودہشت میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ نکیال سیکٹر میں تو انسانی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور یہاں بستیاں اور گھر ماتم کدوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

سول اور عسکری حکام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مستقبل قریب میں یہ سلسلہ کم تو ہو سکتا ہے مگر کلی طور پر اس کے خاتمے کی صورت نظر نہیں آتی۔ بھارت کے سیاسی اور فوجی حکام کے بیانات اور ارادے بھی اس بات کا پتا دے رہے ہیں کہ بھارت اب کلبھوشن ڈاکٹرائن کی ناکامی کے بعد کنٹرول لائن پر براہ راست دباؤ بڑھانے کا راستہ اختیار کر چکا ہے۔ کنٹرول لائن عبور کرنے اور سرجیکل سٹرائیکس کی دھمکیوں کا مقصد بھی پاک فوج کو ان علاقوں میں ہمہ وقت مصروف رکھنا ہے۔ کنٹرول لائن پر ہونے والی فائرنگ کا بھارت کو قطعی کوئی نقصان بھی نہیں کیونکہ بھارتی فوج کے آگے تو مسلمان آبادیاں ہیں ہی ان کے پیچھے بھی مسلمان اور آمادہ بغاوت آبادی ہے، ایسی آبادی جو پتھر اُٹھائے بھارتی فوج کیساتھ عملی طور برسرجنگ ہے۔ اس آبادی کا مرنا یا زندہ رہنا بھارت کیلئے برابر ہے۔ اسلئے کنٹرول لائن کے عوام کو مضبوط اور باحوصلہ بنانے کیلئے ان کی مشکلات کو کم کرنے کی ضرورت ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام کی حفاظت اور بحالی کے نظام کو بددیانتی اور کرپشن کی نذر ہونے سے بچانا ضروری ہے۔

یہ بھی دیکھیں

’آئرلینڈ بائیکاٹ بل‘ صہیونی غاصبوں کے منہ پر نیا طمانچہ!

’آئرلینڈ کے سفیر کو طلب کر کے ڈانٹ ڈپٹ کا کائی فایدہ نہیں۔ اسرائیل کے ...