اتوار , 23 ستمبر 2018

پاکستان کے لیے خوش کن اشارے

(مزمل سہروردی)
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اعلان کیا ہے کہ اب پاکستان میں کسی بھی دہشت گرد تنظیم کا کوئی بھی منظم ٹھکانہ نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پاک فوج نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھی بھرپور آپریشن کیا ہے اور اب دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ حقانی نیٹ ورک بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

پاکستان میں رہنے والے لوگ تحریک طالبان کو جانتے ہیں ،دیگر دہشت گرد تنظیموں کو جانتے ہیں کیونکہ یہ تنظیمیں پاکستان میں دہشت گرد ی کے واقعات میں نہ صرف ملوث رہی ہیں بلکہ ان کی ذمے داری کی بھی قبول کرتی رہی ہیں۔ان کی قیادت ریاست پاکستان کو چیلنج بھی کرتی رہی ہے۔ لیکن حقانی نیٹ ورک ایک ایسی تنظیم ہے جس کے بارے میں ہم نے امریکا سے زیادہ سنا ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ امریکا نے جب بھی پاکستان کو دباؤ میں لانا ہوتا ہے، وہ حقانی نیٹ ورک کا ہی بہانہ بناتا رہا ہے۔ افغان حکومت بھی وقتاً فوقتاً اپنے تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہے۔

اس لیے اس سارے منظر نامہ میں پاک فوج کے ترجمان کا یہ بیان خوش آئند ہے۔گزشتہ ایک ہفتہ میں پاکستان نے سفارتی سطح پر بڑے بڑے قدم اٹھائے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ تین دن کے سرکاری دورے پر پاکستان آئے ہیں۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ ایک ایسا بھی وقت تھا جب پاک ایران تعلقات شدید سرد مہری کا شکار ہو گئے تھے لیکن پاک فوج کے موجودہ چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کافی کام کیا ہے۔ وہ خود بھی ایران گئے ہیں۔
اب شاید جنرل باجوہ کی ایران پالیسی کے ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کا ایک نجی دورے پر امریکا جانا اور اس نجی دورے کے دوران پاکستانی سفیر کی رہائش گاہ پر ان کی امریکی نائب صدر سے ملاقات بھی ایک بڑا بریک تھرو تھا۔ اس کو حسن اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سب طے تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹ کے بعد شاید امریکیوں کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ پاکستان کے وزیر اعظم کو باقاعدہ ایک سرکاری دورہ پر امریکا بلا لیتے اور وائٹ ہاؤس میں ملتے۔ پھر اگر شاہد خاقان عباسی سرکاری دورے پر جاتے تو ان کا ڈونلڈ ٹرمپ سے ملنا ضروری تھا۔ سفارتی روایات اس کی اجازت نہ دیتیں کہ وزیر اعظم پاکستان سرکاری دورے پر امریکا جاتے اور امریکی صدر ان سے نہ ملتے۔ اس لیے بات یہی سمجھ میں آتی ہے کہ پاکستان اور امریکا دونوں اعلیٰ سطح پر بات کرنا بھی چاہ رہے تھے لیکن رکاوٹیں بھی تھیں۔ ایسے میں نجی دورے کا راستہ نکالا گیا۔

شاہد خاقان عباسی کی امریکی نائب صدر سے ملاقات پاکستان کی سیکریٹری خارجہ کے دورہ امریکا اور پاک فوج کی جانب سے کی جانے والی بہت ساری بیک چینل ڈپلومیسی کا ہی نتیجہ تھی۔ یہ ملاقات نہ تو اتفاقی تھی نہ ہی غیر رسمی تھی کیونکہ بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے اس ملاقات کے حوالے سے باضابطہ اعلامیہ بھی جاری کیا ہے۔

یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اس اعلامیہ سے امریکی موقف میں تبدیلی کے آثار نظر نہیں آتے ہیں۔ اس کی زبان ایسی نہیں ہے کہ کہا جا سکے کہ امریکی پالیسی تبدیل ہو گئی۔ لیکن بے شک الفاظ تبدیل نہیں ہوئے ہیں تا ہم رویے تبدیل ہو رہے ہیں۔ اگر پاک فوج کے ترجمان کے اس اعلان کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کے تمام ٹھکانے تباہ کر دیے گئے اور شاہد خاقان عباسی کی امریکی نائب صدر سے ملاقات کو ملا کر دیکھیں۔ تو بات زیادہ آسانی سے سمجھ آسکتی ہے۔ ایسے میں امریکیوں کی جانب سے افغانستان میں مقیم پاکستانی دہشت گردوں کے سروں کی قیمت مقرر کیا جانا بھی ایک ایسی پیش رفت ہے جو بتا رہی ہے کہ دوسری طرف ہماری بات بھی سنی جا رہی ہے۔

اسی تناظر میں وزیر اعظم کی امریکی نائب صدر سے ملاقات کے اگلے دن پاکستان کے نیشنل سیکیورٹی کے مشیر ناصر جنجوعہ کی افغانستان روانگی بھی ساری کہانی بیان کر رہی ہے۔ ان کی افغان صدر سے ملاقات اور اس ملاقات کے بعد افغان صدر کی وزیر اعظم پاکستان کو دورہ افغانستان کی دعوت بھی کوئی معمولی پیش رفت نہیں ہے۔ افغانستان میں ایک ایسا ماحول نظر آتا تھا جیسے افغانستان پاکستان سے بات کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ لیکن ایک ایسے ماحول میں جب افغانستان روز پاکستان کے ساتھ بلیم گیم کھیل رہا تھا۔ اور تناؤ کا ماحول تھا۔ لیکن ایسے ہی ماحول میں پاکستان کے آرمی چیف اور دیگر عسکری حکام کی بیک چینل ڈپلومیسی نے ماحول کو تبدیل کیا ہے۔

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پاکستان کا دفتر خارجہ کچھ نہیں کر رہا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے سفارتی محاذ پر گزشتہ چند ماہ میں جو مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ان میں پاک فوج کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت پاک فوج بنیادی طورپر ایک طرف اندرونی محاذ پر لڑ رہی ہے اور دوسری طرف بیرونی محاذ پر بھی لڑ رہی ہے۔پاکستان میں الیکشن کا بگل بج چکا ہے۔ ساری سیاسی قیادت انتخابی دنگل میں اتر چکی ہے۔

لیکن آج پاکستان میں جو انتخابی دنگل سج چکا ہے۔ اس کا سہرا بھی پاک فوج کے ہی سر ہے۔ ایک طرف تو یہ پراپیگنڈا ختم نہیں ہوتا کہ فوج پاکستان میں جمہوریت کو چلنے نہیں دے رہی۔ فوج جمہوریت کی ٹانگیں کھینچتی رہتی ہے۔ فوج جمہوریت کا بستر گول کرنے کے درپے رہتی ہے۔ تو دوسری طرف آج جو انتخابی گہما گہمی نظر آرہی ہے وہ بھی رد الفساد کیو جہ سے ہی ہے۔

آج ملک کی سیاسی قیادت ملک کے کونے کونے میں جس طرح جلسے کر رہی ہے اور ریلیاں نکال رہی ہے یہ بھی پاک فوج کے رد الفساد کی وجہ سے ہی ہے۔ لیکن شاید فوج پر تنقید کرنے والی سیاسی قیادت اس بات کو بھول جاتی ہے۔ اس ملک میں سیاست کا کھیل چلتا رہے اس کے لیے فوجی جوانوں کی قربانیوں کو بھول جاتی ہے۔ ایسے میں پاک فوج کے ترجمان کا کام اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک طرف انھیں ملک میں بھی رائے عامہ ہموار رکھنی ہے اور دوسری طرف بین الاقوامی رائے عامہ کو بھی ہموار کرنا ہے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

بیورو کریسی کیا چاہتی ہے؟

(تسنیم نورانی) وزیرِ اعظم عمران خان نے حال ہی میں بیورو کریسی کو اپنے تبدیلی ...