پیر , 16 جولائی 2018

شمالی سندھ: انتہا پسند گروہوں کا نیا ہدف

(ضیا ء الرحمان)
صوبہ سندھ کا شمالی حصہ آج کل کالعدم انتہاپسند اورفرقہ وارانہ گروہوں کا نیا مرکزبن گیاہے جہاں بلوچستان اورجنوبی پنجاب کے ساتھ سرحدیں ہونے کی وجہ سے شدت پسند گروپوں کی آزادانہ نقل وحرکت اورخطے میں شیعہ کمیونٹی اورصوفی مزاروں پرخودکش حملوں کے بعد قانون نافذکرنے والے ادارے اس خطے کوملک میں امن وامان کے حوالے سے سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔

شمالی سندھ کے اضلاع شکارپور، کشمور، جیکب آباد، گھوٹکی اور قنبرشہدادکوٹ ان دنوں قانون نافذکرنے والے ادارے کی نظروں میں ہے جہاں حالیہ برسوں میں متعدد خودکش حملے رونما ہوئے ہیں۔ رواں سال ماہ فروری میں سہون شریف میں واقع حضرت لال شہبازقلندر کے مزار پر ایک خود کش حملے کے نتیجے میں نوّے افراد ہلاک اوردوسو کے لگ بھگ زخمی ہوئے جبکہ رواں سال محرم میں بلوچستان سندھ سرحد سیل کرنے کے سبب خود کش حملہ آورنے قنبرشہدادکوٹ ضلع سے متصل بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں پیرراکیل شاہ کے مزارکونشانہ بنایاجہاں بیس افراد جاں بحق ہوئے۔ اس سے قبل بھی شکارپور اورجیکب آباد میں شیعہ امام بارگاہوں پرخودکش حملوں کے نتیجے میں سینکڑوں افراد جاں بحق اورزخمی ہوچکے ہیں۔ اکتوبر۲۰۱۵ء میں جیکب آباد میں ماتمی جلوس میں بم دھماکہ ہواتھا۔ جیکب آباد سے ۴۰کلومیٹر دور واقع شکارپور شہر میں اسی سال جنوری میں امام بارگاہ میں خودکش بم دھماکہ کیا گیا، جس میں۵۷سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ جنوری ۲۰۱۳ء میں شکارپور شہر سے دس کلومیٹر دور واقع درگاہ غازی شاہ میں نصب ایک بم دھماکے میں گدی نشین سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے، یہ شیعہ درگاہ ہے جس کے عقیدت مندوں کی بڑی تعداد بلوچستان سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سے اگلے ماہ فروری میں جیکب آباد میں بریلوی مسلک کے پیر سائیں حسین شاہ کی گاڑی کے قریب بم دھماکہ کیا گیا تھا، جس میں وہ محفوظ رہے تاہم ان کا پوتا جاں بحق ہوگیا تھا۔ مئی۲۰۱۳ء میں شکار پور میں سیاستدان ابراہیم جتوئی (مسلکی طورپرشیعہ) کے انتخابی قافلے پر خودکش حملہ کیا گیا لیکن بلٹ پروف گاڑی میں سوار ہونے کی وجہ سے وہ محفوظ رہے۔ سکھر میں ۲۴جولائی ۲۰۱۳ء میں پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے دفتر پر خودکش حملہ کیا گیا، جس میں دو بمباروں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ کالعدم تحریک طالبان مہمند ایجنسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ دسمبر۲۰۱۰ء میں شکار پور میں عاشور کے موقع پر ایک مجلس پر حملے کی کوشش کے دوران ایک مشتبہ خودکش بمبار ہلاک ہوگیا جبکہ چار پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے، اس مجلس کا انتظام بھی جتوئی خاندان نے کیا تھا۔

سندھ کے شمالی حصے میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات کے بعد قانون نافذکرنے والے اداروں نے تحقیقات کادائرہ وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کاآغاز بھی کر دیا ہے۔ تحقیقات میں شکارپورکے ایک رہائشی عبدالحمید پندرانی (بروہی) کا نام خطے میں شدت پسندوں کے اہم کمانڈرکے حیثیت سے سامنے آیاہے۔ اس گروہ کی سرگرمیوں کے حوالے سے قانون نافذکرنے والے اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ جیش محمد، لشکرجھنگوی اورتحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ساتھ گروہ نے بلوچستان کے ایک کمانڈر شفیق مینگل سے بھی رابطے رکھے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں سندھ سی ٹی ڈی نے گرفتار ہونے والے جنود الفدا ء کے کمانڈر عبدالحمید پندرانی کے حوالے سے ڈی پی او شکار پور سے ذاتی کوائف پر مشتمل رپورٹ طلب کر لی تاکہ گروپ کے مطلوب کمانڈر عبدالحفیظ پندرانی کے تعلق کی اصلیت سامنے لائی جاسکے۔ خیال رہے کہ عبدالحفیظ پندرانی کانام سندھ پولیس کی ریڈبک میں بھی شامل ہے۔ پولیس ذرائع کاکہناہے کہ گروہ نے شکار پور خود کش حملوں سے شمالی سندھ میں کارروائیوں کا آغاز کیا۔ بلوچستان اور سندھ کے ملحقہ علاقوں میں مذکورہ تنظیم کو کالعدم لشکر جھنگوی کے ان کارکنوں کی مدد حاصل تھی جو کراچی اور پنجاب کے علاقوں سے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے بعد فرار ہوکر ان کے پاس پہنچے تھے۔

حال ہی میں قانون نافذکرنے والے اداروں کو اس حوالے سے کامیابی اس وقت ملی جب عبدالحفیظ بروہی گروہ کے ایک مبینہ کمانڈر مولوی عبدالحمید پندرانی کو گذشتہ ہفتے مقابلے کے بعد زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق عبدالحمید عرف سمیع شکار پور امام بارگاہ خودکش حملہ کرنے والے ملزم کا ساتھی ہے۔ اور عبدالحمید نے لشکرجھنگوی کے اہم کمانڈر آصف چھوٹو کو سندھ بلوچستان کے سرحدی علاقے جھل مگسی کے ساتھ ساتھ قلات اور خضدار میں پناہ دلوائی۔ عبدالحمید ہی نے عبدالحفیظ پندرانی بروہی گروپ کو بارودی مواد بھی پہنچایا جس سے شکار پور میں خودکش حملہ کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ملزم جہاد کے لیے جانے والے افراد کی ذہن سازی کرتا اور ٹریننگ کے لیے بھجواتا تھا، دہشت گرد نے سندھ اور بلوچستان میں دہشت گردی کے منصوبے بنائے جبکہ دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں خود بھی شامل رہا۔ حال ہی میں کراچی کے علاقے منگھوپیرسے سہون شریف میں حضرت شہبازقلندرکے مزارپرخود کش حملے میں معاون کا کردار اداکرنے والے نادرجھکرانی عرف مرشد کوگرفتارکیاگیاجس نے دوران تفتیش یہ بتایاکہ خود کش حملہ آور بابربروہی کواس نے کشمورکے علاقے کندھ کوٹ میں پناہ دی تھی جسے بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں منتقل کرکے حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ نادرجھکرانی نے یہ بھی بتایاکہ حملے میں شامل ان کا ایک ساتھی غلام مرتضیٰ عرف ڈاکٹرکچھ عرصہ قبل بلوچستان کے علاقے مستونگ میں قانون نافذکرنے والے ادارے کے اہلکاروں کے ساتھ مقابلے میں ہلاک ہوا۔

سندھ حکومت کی جانب سے بھی شمالی سندھ میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کیے جارہے ہیں۔ رواں سال محرم الحرام میں دونوں صوبوں کی سرحدوں کوسیل کردیاگیاتھاجبکہ بلوچستان حکومت کے ساتھ مل کرسرحدوں پرمشترکہ پولیسنگ کے حوالے سے بھی بات چیت جاری ہے۔ شمالی سندھ میں بڑھتے ہوئے مدارس پراظہارتشویش کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی طرف سے مدارس کی جیوٹیگنگ کے ساتھ ساتھ رجسٹریشن اورریگولیشن کے لیے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ البتہ صوبے میں مدارس کی رجسٹریشن اورریگولیشن کے حوالے سے سندھ اسمبلی میں قانون سازی کی کوششیں مذہبی جماعتوں کے دباؤ اورمخالفت کی وجہ سے اب تک کامیاب نہیں ہو سکیں۔

شمالی سندھ کے سکیورٹی معاملات پرنظررکھنے والے حکام کاکہناہے کہ شمالی سندھ میں قائم ہونے والے مدارس کی اکثریت کاتعلق جمعیت علمائے اسلام(ف) سے ہے جوبظاہرفرقہ پرستی اوردہشت گردی کے معاملات سے الگ تھلگ ہے مگرانہی مدارس کے اساتذہ اورطلبہ انفرادی طورپرکالعدم فرقہ پرست گروہوں سے جڑرہے ہیں اور دہشت گردی کے واقعات میں استعمال ہو رہے ہیں۔ انھوں نے شکارپور میں نیشنل پیپلزپارٹی کے سربراہ عابد جتوئی پرخود کش حملے کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ شکارپور شہرکے داخلی راستے پرواقعہ مدرسے سے وابستہ جمعیت علمائے اسلام(ف) کے مقامی رہنما بخت اللہ پہوڑ کواس واقعے میں ملوث ہونے کی بناء پرانٹیلی جنس ادارے اٹھا کرلے گئے ہیں۔بشکریہ شفقنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

نواز شریف کو سونے کیلئے بستر نہیں دیا گیا، حسین نواز

نواز شریف کو سونے کیلئے بستر نہیں دیا گیا، حسین نواز