پیر , 16 جولائی 2018

بنگلہ دیش میں نوجوان پناہ گزین روہنگیا لڑکیوں کی انسانی سمگلنگ

میانمار (مانیٹرنگ ڈیسک)بی بی سی کی تفتیشی ٹیم کو علم ہوا ہے کہ بنگلہ دیش کے روہنگیا پناہ گزین کیمپوں سے نوجوان لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے سمگل کیا جا رہا ہے۔غیر ملکی افراد کو یہ نو عمر جوان لڑکیاں بہ آسانی دستیاب ہیں جو کہ میانمار (برما) میں جاری تصادم کے نتیجے میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئی ہیں اور اب ان کے سامنے ایک نیا خطرہ ہے۔14 سالہ انورا (بدلا ہوا نام) اپنے اہل خانہ کے قتل کے بعد امداد کے لیے بنگلہ دیش جانے والی سڑک پر آ گئیں۔

‘بہت سی خواتین ایک وین میں آئيں اور پوچھا کہ کیا میں ان کے ساتھ جانا چاہوں گی۔امداد کے لیے حامی بھرنے کے بعد انورا کو ایک نئی زندگی کے وعدے کے ساتھ ایک کار میں گٹھری بنا کر ڈال دیا گیا۔ لیکن اسے نزدیک ترین شہر کےکس بازار لے جایا گیا۔

‘اس کے بعد وہ دو لڑکے میرے پاس لائے۔ انھوں نے مجھے چاقو دکھائے اور میرے پیٹ میں گھونسے مارے کیونکہ میں ان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ پھر دونوں لڑکوں نے میرا ریپ کیا۔ میں سیکس کرنا نہیں چاہتی تھی لیکن وہ میرے ساتھ کرتے رہے۔

سمگلنگ کی کہانی پناہ گزین کیمپ میں چاروں جانب بکھری پڑی ہیں۔ خواتین اور بچے ان کے زیادہ شکار ہیں جنھیں لالچ دے کر کیمپ سے باہر لے جایا جاتا ہے اور محنت مزدوری یا پھر جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔

بچوں کے استحصال کے خلاف بیداری پیدا کرنے والے ادارے فاؤنڈیشن سینٹینل کے ساتھ بی بی سی کی ٹیم نے اس کاروبار کے پس پشت کام کرنے والے نیٹ ورک کے بارے میں تفتیش شروع کی کیونکہ انھوں نے اس بابت بہت سن رکھا تھا۔

بچوں اور ان کے والدین نے بتایا کہ انھیں بیرون ملک اور دارالحکومت ڈھاکہ میں گھریلو ملازمت، ہوٹل اور کچن میں کام کی پیشکش کی گئی۔ کیمپ میں موجود افراتفری بچوں کو جنسی صنعت میں دھکیلنے کے بڑے مواقع فراہم کرتی ہے۔14 سالہ مسعودا (بدلا ہوا نام) نے بتایا کہ انھیں کیسے وہاں پہنچایا گیا۔ اب ایک خیراتی تنظیم ان کی مدد کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا: مجھے معلوم تھا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ جس عورت نے مجھے کام کی پیشکش کی اس کے بارے میں سب جانتے تھے کہ وہ جسم فروشی کرواتی ہے۔ وہ روہنگیا ہے جو یہاں ایک عرصے سے مقیم ہے اور سب اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ لیکن میرے پاس کوئی آپشن نہیں تھا۔ میرے لیے یہاں کچھ تھا ہی نہیں۔

میرے گھر کے افراد غائب ہیں۔ میرے پاس پیسہ نہیں ہے۔ میانمار میں میرا ریپ ہوا تھا۔ میں اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ جنگل میں کھیلا کرتی تھی۔ اب مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ کیسے کھیلا جاتا ہے۔

بعض والدین اپنے بچوں کے کبھی نہ ملنے کے خوف میں رو پڑے۔ جبکہ دوسرے بہتر زندگی کی امید پر مسکرا دیے حالانکہ انھیں اپنے پیاروں کی ایک عرصے سے کوئی خبر نہیں۔ایک ماں نے کہا: ‘کیمپ سے باہر کوئی بھی جگہ بہتر ہے۔لیکن ان بچوں کو کون اور کہاں لے جا رہا ہے۔

بی بی سی کے سٹاف نے یہ ظاہر کیا کہ وہ بنگلہ دیش میں تازہ تازہ آئے ہیں اور کیا انھیں بچے مل سکتے ہیں۔صرف 48 گھنٹے کے اندر ہمیں ان بدنام زمانہ ساحلی جھونپڑیوں اور ہوٹلوں کے مالکوں سے مقامی دلالوں کے نمبر ملنے لگے جہاں سیکس کے لیے کمرے دیے جاتے تھے۔

ہم نے پولیس کو بتا کر ان دلالوں سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس بیرونی ممالک کے ایک شخص کے لیے نوخیز لڑکیاں بطور خاص روہنگیا لڑکیاں دستیاب ہو سکتی ہیں۔ایک دلال نے کہا: ‘ہمارے پاس بہت سی نوجوان لڑکیاں ہیں لیکن آپ کو روہنگیا ہی کیوں چاہیے۔ وہ تو بہت گندی ہوتی ہیں۔

ہماری جانچ کے دوران اس طرح کی باتیں بار بار آئیں۔ کاکس بازار میں جسم فروشی کی صنعت میں روہنگیا لڑکیوں کو سب سے سستا تصور کیا جاتا ہے اور ان کی مانگ بھی سب سے کم ہے۔

ہم لوگوں کو مختلف قسم کے دلالوں سے لڑکیوں کی پیشکش ہوئی جوکہ نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ بات کے دوران ہم نے اس بات پر زور دیا کہ ہم ان کے ساتھ جلدی سے رات گزارنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم یہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ اپنی قیمت بڑھائیں۔

مختلف لڑکیوں کی تصاویر ہمارے پاس آنے لگیں اور ہمیں بتایا گيا کہ ان کی عمر 13 سے 17 سال کے درمیان ہے۔ دستیاب لڑکیوں کی تعداد اور جس سطح پر نیٹ ورک کام کر رہا تھا وہ حیرت انگیز تھی۔ اگر ہمیں تصویر میں کوئی لڑکی پسند نہیں آتی تو مزید تصاویر دی جاتیں۔بہت سی لڑکیاں دلالوں کے گھر میں رہتی ہیں۔ اگر ان کو کوئی گاہک نہیں ملتا تو وہ ان کے گھروں میں کھانا پکاتی اور صفائی کرتیں۔

ہمیں بتایا گيا: ‘ہم لڑکیوں کو زیادہ دنوں تک نہیں رکھتے۔ زیادہ تر بنگلہ دیشی ان کے لیے آتے ہیں۔ وہ ایک وقت کے بعد ان سے بور ہو جاتے ہیں۔ نوجوان لڑکیاں زیادہ پریشانی پیدا کرتی ہیں اس لیے ہم ان سے جلدی سے چھٹکارا حاصل کر لیتے ہیں۔

ریکارڈنگ اور جانچ کے بعد ہم نے وہ شواہد پولیس کے حوالے کر دیے اور ایک چھوٹی سی ٹیم کو سٹنگ آپریشن کے لیے تعینات کر دیا۔پولیس نے دلالوں کو فورا پہچان لیا۔ ایک افسر نے کہا: ‘میں اس کو جانتا ہوں۔ ہم ان کو اچھی طرح جانتے ہیں۔

سٹنگ آپریشن کی تیاری کے سلسلے میں ہم نے دلال کو بلایا اور کہا کہ جو دو لڑکیاں ہم نے تصویر میں دیکھی ہے اسے کاکس بازار کے ایک معروف ہوٹل میں مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے پہنچا دے۔

آٹھ بجنے سے قبل ہمارے انڈر کور گاہک اور دلال کے درمیان فون پر بات ہوئی۔ وہ چاہتا تھا کہ ہم لوگ ہوٹل سے باہر آئیں، ہم نے انکار کردیا، پھر اس نے دو لڑکیوں کو ڈرائیور کی معرفت بھیجا۔پیسے دیے اور ہمارے انڈرکور نے ڈرائیور سے پوچھا کہ ‘کیا آج کی رات مزید اچھی لڑکیاں مل سکتی ہیں؟ ڈرائیور نے ہاں میں سر ہلایا۔

رقم کی وصولی کے بعد پولیس نے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا اور بچوں کی دیکھ بھال کے ہمارے ماہرین نے لڑکیوں کا ذمہ لے لیا۔ایک لڑکی نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا جبکہ دوسری جس نے اپنی عمر 15 سال بتائی وہ سماجی دیکھ بھال میں جانے کے لیے تیار ہو گئی۔

یہ لڑکیاں غربت اور جسم فروشی کے درمیان پھنسی نظر آئیں۔ انھوں نے کہا کہ جسم فروشی کے علاوہ ان کے پاس اپنے اور گھر والوں کو کھلانے کا دوسرا راستہ نہیں ہے۔روہنگیا بحران نے بنگلہ دیش میں جسم فروشی کی صنعت کو پیدا نہیں کیا ہے لیکن اس صنعت کے لیے عورتوں اور بچوں کی فراہمی میں اضافہ کیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ملکی تاریخ میں پہلی بار انتخابی عملے سے حلف لینے کا فیصلہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) الیکشن کمیشن نے ملکی تاریخ میں پہلی بار انتخابی عملے سے حلف ...