اتوار , 23 ستمبر 2018

اگر ایران نے بنایا تو ہم بھی ’’بہت جلد‘‘ بنالیں گے

(تسنیم خیالی)
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے دورہ امریکہ سے قبل امریکی نیوز چینل ’’سی بی ایس‘‘ کو ایک انٹرویو دیا تھا جو کہ انتہائی متنازعہ انٹرویو سمجھاجارہا ہے، اس انٹرویو میں سب سے زیادہ متنازعہ بات سعودی عرب کی جوہری ہتھیار کے حوالے سے حصول کی بات تھی جس میں بن سلمان کا کہنا تھا کہ ’’سعودی عرب جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا لیکن اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرلیا تو سعودی عرب بھی بہت جلد جوہری ہتھیار حاصل کرلے گا‘‘انٹرویو میں بن سلمان نے بہت کچھ کہا، ایران اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے بارے میں بچگانہ اور غیر موزوں باتیں کی جسکا ایران دفتر خارجہ نے بھی بھر پور طریقے سے جواب دیتے ہوئے بن سلمان کو آئینہ دکھایا، البتہ اس انٹرویو میں جوہری ہتھیار کا معاملہ قابل غور وخوض ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ بن سلمان کہہ رہے تھے کہ ’’سعودی عرب بہت جلد جوہری ہتھیار حاصل کرلے گا‘‘ اگر ایران حاصل کرلیتا ہے تو،اب سوال یہ ہے کہ سعودی عرب ’’بہت جلد‘‘جوہری ہتھیار کیسے حاصل کرسکتا ہے؟

سعودی نظام دو طریقوں سے جوہری ہتھیار جلدی حاصل کرسکتا ہے پہلاتو یہ کہ سعودی عرب ،پاکستان سے جوہری ہتھیار خریدلے اور اس حوالے سے کچھ عرصہ قبل خبریں بھی آرہی تھیں ،جن کی پاکستانی حکومت نےدوٹوک الفاظ میں تردید کی تھی۔

دوسرا یہ کہ سعودی عرب اپنی سرزمین پر جوہری پلانٹس کی تعمیر کرتے ہوئے ’’سعودی جوہری پروگرام‘‘ کا آغاز کرے، جسے چلانے کے لیے غیر ملکی سائنسدانوں کی خدمات حاصل کی جائے اور انکے ذریعے سعودی سائنسدان اور ٹیکنیکل افراد کی تربیت کی جائے گی ، پہلے آپشن کے بارے میں بات کی جائے تو یہ بہت مشکل ہے کہ پاکستان سعودی عرب کو جوہری ہتھیار فروخت کرے، کیونکہ اس طرح ایران اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی میں پاکستان یکطرفہ ہوکر سعودیوں کے حق ہوجائےگا اور بلاشبہ ایسا کرنے سے پاکستان اور اس کے پڑوسی ملک ایران کے درمیان اختلافات پیدا ہوجائے گا اور پاکستان ہرگز نہیں چاہتاکہ ایسا ہوعلاوہ ازیں پاکستانی پارلیمنٹ کا یمن جنگ کے حوالے سے 3سال قبل موقف اور اس جنگی سعودی اتحاد میں شامل نہ ہو نے کے فیصلےسے بھی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کسی بھی صورت سعودی عرب کو جوہری ہتھیار فروخت نہیں کرے گا۔

دوسرے آپشن کی بات کی جائے تو اس وقت سعودی عرب میں کوئی جوہری پلانٹ موجود نہیں خواہ وہ توانائی کے حصول کی غرض سے ہی کیوں نا ہو، اور آج کل سعودی عرب کی امریکہ، چین اور روس جیسے ممالک کے ساتھ جوہری پاور پلانٹس کی تعمیر کی بات ہورہی ہے، اس سارے معاملے میں ہمیں اسرائیل کے موقف کو ذہن میں رکھنا چاہیے، اسرائیل ایران کے خلاف سعودی عرب کا اتحادی ہونے کے باوجود سعودی عرب کے جوہری طاقت بننے کے بہت خلاف ہیں، اسرائیل اس بات پر آمادہ ہی نہیں کہ کوئی عرب ریاست جوہری طاقت بن جائے، یہی وجہ ہے کہ 1981ء میں ایران کے خلاف جنگ لڑنے کے باوجود اسرائیل نے عراقی جوہری پلانٹس ’’اوزیراک ‘‘اور ’’تموز‘‘ کو ایک اسرائیلی فضائی کارروائی میں نشانہ بناکر تباہ کردیاتھا، اس طرح اسرائیل نے شام میں زیر تعمیر ایک جوہری پلانٹ کو بھی تباہ کیا تھا،سعودی عرب کی راہ میں رکاوٹ حائل کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہونے بن سلمان کے امریکہ جانے سے پہلے ہی اپنے ’’جگری یار‘‘ ٹرمپ سے کہہ دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کو جوہری طاقت نہ بننے دیں، سعودیوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا جوہری طاقت بننا اسرائیل کو گوارہ نہیں، کیونکہ اسرائیل کی نظر میں اگر سعودی عرب میں نظام حکومت تبدیل ہوجائے اور اس وقت سعودی عرب جوہری طاقت ہوتو اس سے اسرائیل کوخطرہ لاحق ہوسکتا ہے بالخصوص اگر آنے والا نظام اسرائیل مخالف ہوتو اسرائیل کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا، بن سلمان پر واضح ہونا چاہیے کہ جب تک سعودی عرب امریکہ کا اتحادی ہوگا تب تک سعودی عرب جوہری طاقت نہیں بن سکتا، کیونکہ اسرائیل بھی امریکی گروپ کا حصہ ہے جسے سعودی عرب سمیت متعدد عرب ممالک کے ساتھ اتحاد کے باوجود اُن پر اعتماد نہیں، لہٰذا سعودی عرب جلدی تو کیا دیر سے بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا۔

 

یہ بھی دیکھیں

حسینؓ ابن علیؓ دنیا کو حیران کر دیا تو نے

(ڈاکٹردوست محمد) انسانی تاریخ میں حضرت ابراہیمؑ نے اپنے چہیتے فرزند اسماعیلؑ کی قربانی کا ...