پیر , 16 جولائی 2018

’’داعش‘‘ ایک اور گواہی


(عارف بہار)
پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خطے میں دہشتگردی بڑھانے اور پڑوسی ملکوں کو دھمکانے کیلئے افغانستان میں داعش کے جنگجوؤں کی مدد کر رہا ہے۔ امریکی ہیلی کاپٹر داعش کے جنگجوؤں کو افغانستان کے مشرقی ضلعے ھسکہ مینہ دمیہ بالا کی جیل سے نامعلوم مقام کی طرف لے جاتے دیکھے گئے ہیں۔ افغانستان میں داعش کے پنپنے کی خبریں پہلے بھی ملتی رہی ہیں۔ روس، ایران، پاکستان اور افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی داعش کے نامعلوم سرپرستوں کی کبھی کھل کر تو کبھی ملفوف نشاندہی کر چکے ہیں۔ جواد ظریف نے کھل کر نامعلوم ہیلی کاپٹروں کی شناخت ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نامعلوم نہیں بلکہ امریکی ہیلی کاپٹر ہیں جو داعش کے ارکان کو محفوظ علاقوں کی طرف لے جاتے رہے ہیں۔ افغانستان کا صوبہ ننگرہار اس وقت داعش کے بیس کیمپ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ جس سے افغانستان کے ہمسایہ ملکوں ایران اور پاکستان میں خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ گزشتہ برس وسط ایشیائی ریاستوں سے ملحق جوزجان کے علاقے میں داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں محسوس کی گئی تھیں جس کے بعد سے وسط ایشیائی ریاستوں کے راستے روس بھی خطرے کی بُو محسوس کر رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے دورے سے پہلے پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا تھا کہ افغانستان میں داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کے تحفظات ہیں۔ الدولۃ الاسلامیہ فی العراق والشام (داعش) مسلمان ملکوں کو تباہ وبرباد اور اسلام کو عالمگیر سطح پر بدنام کرنے کا جدید ہتھیار اور نیا بہانہ ہے۔ جنگ زدہ اور غیر ملکی افواج کے بوٹوں تلے کراہتے ہوئے عراق سے جنم لینے والی یہ تنظیم اس وقت تیزی سے اُبھر کر سامنے آئی جب اُسامہ بن لادن کی سرپرستی میں القاعدہ کا زور ٹوٹ رہا تھا اور یہ تنظیم مرکزیت سے محروم ہو رہی تھی۔ القاعدہ کے کمزور ہونے سے مسلمان معاشروں میں یہ اُمید بندھ چلی تھی کہ اس کے بعد مغرب بطور تہذیب اسلام کو بدنام کرنا اور مسلمان ملکوں کے اقتدار اعلیٰ سے چھیڑ چھاڑ کرنا ترک کر دے گا۔

امریکہ اور یورپ نے القاعدہ کے نام پر ہی افغانستان اور عراق کو ادھیڑ کر رکھ دیا تھا اور دوسرے مسلمان ملکوں کے اندر نقب زنی کیلئے بھی القاعدہ کی موجودگی یا قومی وسائل پر القاعدہ کے قبضے کی تھیوری استعمال کی گئی تھی۔ القاعدہ کے کمزور ہونے سے یہ خیال پیدا ہونا فطری تھا کہ اب مغرب کے پاس مسلمان ملکوں میں مسلح مداخلت کا جواز بھی نہیں رہے گا۔ یہ محض خیال خام ہی نکلا کیونکہ القاعدہ کی راکھ سے اچانک داعش کی چنگاری نمودار ہوئی اور یوں مسلمان دنیا میں جاری کھیل ایک نئے سائے کے تقاقب کی صورت جاری رہا اور اس تنظیم نے القاعدہ کی کمزوری کے بعد مسلمان ملکوں کو تاراج کرنے کا کارڈ مغرب کے ہاتھ سے گرنے ہی نہیں دیا۔ فرق صرف یہ ہوا کہ پہلے امریکہ اور اس کے اتحادی مسلمان ملکوں میں القاعدہ کے خطرے کے نام پر اپنا اثر ورسوخ بڑھاتے تھے، اب یہ کام داعش کے نام پر کیا جانے لگا۔ طاقتور فوج اور سول سٹرکچر کے حامل ملک پاکستان، ترکی اور ایران اور سعودی عرب تو اس وار کو سہہ گئے مگر مشرق وسطیٰ میں کئی ملکوں کا حلیہ ہی بگڑ کر رہ گیا۔

اس صورتحال پر ’’تراشیدم، پرستیدم، شکستم‘‘ کی صورتحال ہی صادق آتی ہے۔ پہلے خود ہی داعش کو گھڑا گیا، اسے مسلمان معاشروں کے تار وپود بکھیرنے کیلئے استعمال کیا گیا اور آخر میں داعش کا قلع قمع کرنے کی مہم بھی خود ہی شروع کر دی گئی، جیسا کہ شام اور عراق میں ہو رہا ہے۔ مرکزیت سے محروم، عسکریت کے سایوں میں گھرے اور خانہ جنگی کا شکار عراق سے جنم لینے والی داعش کے پھلنے پھولنے اور پنپنے کیلئے انہی حالات کا شکار افغانستان تھا۔ افغانستان کو بنیاد بنا کر داعش گرد وپیش کے ملکوں میں سرایت کرنے کیلئے کوشاں رہی ہے جو غیر ملکی طاقتوں کو ان ملکوں میں مداخلت کا جواز فراہم کر سکتی تھی۔ افغانستان سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی تھی اور اسی بات کا بہانہ بنا کر امریکہ قبائلی علاقوں میں مشترکہ زمینی کارروائی کی فرمائشیں کرتا رہا مگر پاکستان نے اس کی بھرپور مزاحمت کی۔ ایرانی وزیرخارجہ کے دوٹوک بیان کے بعد چار بااثر اور مضبوط دفاع کے حامل مسلمان ملکوں پاکستان، ایران، ترکی اور سعودی عرب کو باہمی مشاورت کیساتھ داعش کے نام پر بڑے کھیل کا مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے گوکہ ان ملکوں کے باہمی اختلافات میں یہ ایک مشکل معاملہ ہے مگر گرم کیک کی طرح ٹکڑوں میں ہضم ہونے کے عمل کو روکنے کیلئے ان چار ملکوں کو یہ تلخ گھونٹ پینا ہی پڑے گا۔ بصورت دیگر سب اپنی اپنی باری پر اس شعر کی مانند شام اور عراق بن کر رہ جائیںگے۔بشکریہ مشرق نیوز

پُژمردگیٔ گل پر ہنسی جب کوئی کلی
آواز دی خزاں نے کہ تو بھی نظر میں ہے

یہ بھی دیکھیں

’آئرلینڈ بائیکاٹ بل‘ صہیونی غاصبوں کے منہ پر نیا طمانچہ!

’آئرلینڈ کے سفیر کو طلب کر کے ڈانٹ ڈپٹ کا کائی فایدہ نہیں۔ اسرائیل کے ...