منگل , 24 اپریل 2018

شام جنگ میں ایران کی جیت

(حافظ شاہد احمد)
جو ممالک کبھی قوت اور طاقت کا مظاہر رہے ہوں آخرکار وہ پھرسے اس مقام کوحاصل کرنے میں لگ جاتے ہیں۔اور وہ مکمل یا جزوی طور پر وہ مقام حاصل بھی کرجاتے ہیں ۔کیونکہ وہاں قومیت اورسیاسی شعور پروان چڑھ رہا ہوتا ہے۔ ایسے ممالک کے لوگوں کا نفسیہ دوسری اقوام سے یکسرمختلف ہوتا ہے۔اسلامی دنیا میں اسکی واضح مثال ترکی اور ایران ہے۔ ترکی خلافت اسلامیہ کا مرکز رہا ہے ۔اس نے یورپ پر برتری حاصل کرنے کی ہرممکن کوشش کی ۔اور کافی عرصے تک یورپ کو زیر اثر رکھا ۔اسلامی دنیا کے بادشاہوں کو سندخلافت دیکر خود موجود ہونے کا احساس دلاتا۔ایک صدی گزرنے کے بعد ترکی پھر سے پر تول رہا ہے گو کہ اب منظر وہ نہیں ہے مقصود میرا برتر قوم کی سوچ اور اسکے مظاہر کی عکاسی ہے۔

ایران اس باب میں دوسرا ملک ہے جو اسلام کے اوائل میں سپر طاقت رہا ہے ۔اسلامی دور میں بھی ایران کومرکزی حیثیت حاصل رہی ۔ علوم اسلامیہ کا پہلامرکز نیشاپور ایران میں ہے جہاں سے ہزاروں محدثین ،فقہاء ،سائنسداں نکلے ۔بوعلی سینا اور عمرخیام یہاں کی پیداوار ہیں۔امام مسلم اور امام غزالی یہاں کے رہنے والے تھے۔بایزیدبسطامی ،ابوالحسن خرقانی نے یہاں مقامات عرفان حاصل کئے۔ مشہورادیب سعدی شیرازی ،قدوسی اور فریدالدین عطار ایران کے باشندے تھے۔

خلافت کے زمانے میں ایران مستقل حیثیت رکھتا تھا کیونکہ وہاں امامت چلتا ہے کارخلافت سے سروکار نہیں رکھتے ہیں۔ مغربی کالونیزم سسٹم کے صرف پچاس بعد تقریبا ایران قوم بیدار ہوگئی اور کھوئی ہوئی مقام کوحاصل کرنے کی جدوجہد شروع کیں اور کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ امام خمینی کی مخلص قیادت نے ایک ایسی ٹیم تشکیل دی جسکے توڑنے میں ایک سپر طاقت کو اپنے حلیفوں کے ہمراہی میں چالیس سال گزرنے کے باوجود کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

ایران کو کمزور کرنے کیلئے صدام حسین کو ایک عشرہ تک لڑایا ۔یہ ایرانی انقلاب کے ابتدائی ایام تھے ۔بادشاہت کے نشہ میں دھت صدام اپنے بیگانوںمیں فرق نہیں کرتا تھا سویت یونین کا حلیف تھا اور امریکہ کے اشاروں پہ ناچتا تھا ۔آل سعود کی مزیدمہربانیوں سے وہ قعرمذلت میں چلاگیا ۔زندہ تھا تو حجاج بن یوسف سے زیادہ سفاک تھا بے تدبیر اتنا کہ نادان یہ نہیں سمجھتا تھا کہ میرا ملک میرے ہاتھوں برباد ہورہا ہے ۔بچے دواؤں کو کیلئے تڑپ تڑپ کرمررہے ہیں ۔بے حکمت ایسا تھا کہ جاتے جاتے قوم کو برباد اور ملک کو تباہ کر چھوڑا۔ لیکن ایران کی تدبیراور قومیت نے ایران کو بالادست رکھا ۔حکمران باتدبیرہوتے ہیں۔اس جنگ میں ایران نے قومییت کو پروان چڑھایا قوم یک زبان اور حکمرانوں پر اعتماد کرتی تھیں اسلئے سپر طاقتوں کا نشہ بھی اتر گیا اور عراق حلیف جماعتوں کو ہزیمت بھی اٹھانی پڑی۔

اسلامی دنیا کو کمزور کرنے کیلئے عراق وشام میں مغربی قوتوں نے داعش کو اتارا ۔داعش کو فنڈ امریکہ اور برطانیہ کرتا تھا علاج معالجہ انکا تلابیب اسرائیل میں ہوتا تھا اور لڑائی مسلمانوں کے خلاف لڑتے تھے۔امریکہ اور سعودی فنڈ وحمایت سے یہ کراےکے مسلمان لڑ رہے تھے ۔ان کا مطمح نظر ایران اور شیعہ قوم کو کمزور کرنا تھا لہذا مجبورا ایران کو دفاع کیلئے ملیشا بھیجنا پڑا۔ایران کھل کر داعش کیخلاف لڑا اور کامیاب رہا کیونکہ جس قوم کی قیادت کی ہے اس قوم کا دفاع ان پر فرض ہے جو وہ پور ا کررہا ہے ۔ یمن میں ایران مظلوم اقوام کی بالادستی اور امریکہ کی زیردستی کیلئے لڑرہاہے ۔

شام میں بشارالاسد کے درخواست پر آئے ہوئے روس اور ایران نے وہاں خانہ جنگی ختم کرائی ہے ۔امریکہ کو تنہا کردیا ہے اور ایران نے دنیاکو احساس دلایا ہے کہ ہم اسلامی ممالک کیساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑےرہیں گے ۔ایرانی قوم نے جس بیداری اور عزیمت کا پیغام اسلامی دنیا کو دیاہے وہ بجاطور پر لائق صد تحسین ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیا پانچ سال اقتدار کے مزے لینے سے بعد جماعت اسلامی حکومت سے الگ ہو جائے گی؟

کیا پانچ سال اقتدار کے مزے لینے سے بعد جماعت اسلامی حکومت سے الگ ہو ...