ہفتہ , 15 دسمبر 2018

پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی

(محمد اشفاق)
غوطہ شرقیہ کے حموریہ نامی علاقے کو شامی فوج کی طرف سے آزاد کرنے کے بعد، 20000 سے زائد افراد کو دھشت گردوں کے چنگل سے آزاد کردیا گیا، انسانوں کا یہ جم غفیر جب دھشت گردوں کے قبضے سے رھا ہوا، تو انتہائی اطمینان کے ساتھ اس سمت روانہ ہوا، جہاں شامی فوج کا قبضہ ہے، اس منظر کو دنیا کے مختلف چینلز نے براہِ راست دکھایا، یہ اور بات کہ پاکستان کے چینلز اس مناظر کو دکھانے سے قاصر رہے، چونکہ مغربی، اسرائیلی اور سعودی میڈیا نے اس خبر کو بالکل بھی کوئی اہمیت نہیں دی۔

انسانوں کے اس جم غفیر میں زیادہ تر تعداد، بوڑھوں، عورتوں، اور بچوں کی تھی، شامی فوج کے تازہ دم دستوں نے انتہائی گرمجوشی سے ان لوگوں کا استقبال کیا، کسی جگہ بچوں کو پانی فراہم کیا جا رہا ہے، تو کسی جگہ ضعیف افراد کی رھنمائی ہو رہی ہے، کسی جگہ پہلے سے تیار شدہ بسوں میں ان رہا شدہ افراد کو بٹھایا جا رہا ہے، مستورات کی آنکھیں اس خوشی کے موقع پر اشکبار ہیں، اور سب شکر خدا کے ساتھ ساتھ شامی فوج کا شکریہ ادا کررہے ہیں، حموریہ گاؤں سے نکلنے والے لوگوں نے متعدد چینلز کے نمائندوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غوطہ شرقیہ میں موجود دھشتگرد ان کو کیمپوں میں جانے سے روک رہے تھے، اور ساتھ اس ظلم وستم کا ذکر بھی کیا جو پچھلے پانچ سالوں سے ان دھشتگردوں نے علاقے میں رھنے والے لوگوں کے ساتھ روا رکھا، یہ سب کے سب کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیا، آپ گوگل پر عربی زبان کی یہ عبارت (إجلاء أهالي حمورية) لکھیں، آپ خود بھی یہ مناظر دیکھ سکتے ہیں۔جب میں نے ٹی وی پر انسانی ہمدردی کے یہ مناظر دیکھے، تو اچانک میرے ذہن میں راشدین دھماکے کے مناظر گھومنے لگے۔

یہ 15 اپریل 2017 کا واقعہ ہے، جب شامی حکومت اور دھشت گردوں کے درمیان ایک معاہدے کے تحت اس بات پر اتفاق ہوا کہ شام کے شمال میں واقع دو علاقے جو فوعہ اور کفریا کے نام سے مشہور ہیں، جن کو دھشتگردوں نے پچھلے چار سالوں سے چاروں طرف سے محاصرہ کیا ہوا ہے، جہاں روزانہ مارٹر گولوں، ٹینکوں اور بھاری توپ خانوں سے گولے برسائے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک ہزار سے زیادہ لوگ شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہے۔معاہدے کے تحت 2000 کے لگ بھگ بیمار افراد، بچے اور عورتوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر کے شامی فوج کے حوالے کرنا تھا، دسیوں کی تعداد میں بسوں پر مشتمل یہ قافلہ جب حلب شہر کے ایک مضافاتی علاقے راشدین پہنچا کہ جہاں دھشتگردوں کا قبضہ تھا، اور یہاں سے اس قافلے کو شامی فوج کے حوالے کرنا تھا، جب یہ قافلہ راشدین پہنچا، تو کچھ دیر گزرنے کے بعد ایک خود کش دھماکا ہوا، اس دھماکے کے نتیجے میں 400 سے زیادہ لوگ شہید ہوئے، جن میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی تھی، دھماکے کے بعد جو مناظر موبائل فون سے ریکارڈ کرکے بھیجے گئے تھے، وہ انتہائی دلسوز، دردناک اور دل ہلانے والے مناظر تھے، بس کی کسی سیٹ پر بچہ ماں کی گود میں ماں سمیت جل کر شہید ہو چکا تھا، تو کسی جگہ کوئی بچہ بس کی کھڑکی سے باہر کی طرف لٹک کر جل کے شہید ہو گیا تھا، روڈ پر ہر طرف بچوں، بوڑھوں اور مستورات کی جلی سڑی لاشیں قیامت کا منظر پیش کر رہی تھیں۔

یقیناً 15 اپریل 2017 کی یہ دل دہلانے والی خبر پاکستان کے کسی چینلز پر نہیں آئی ہوگی، چونکہ اس دھماکے میں شہید ہونے والے مظلوم اور نہتے لوگ تھے، جبکہ مارنے والے، امریکی اسرائیلی اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ دھشت گرد تھے۔یہ دو مناظر آپ کے سامنے ہیں، ایک مارچ 2018 میں حموریہ سے نکلنے والے لوگ جن کا شامی فوج نے انتہائی گرمجوشی سے استقبال کیا، دوسرا 15 اپریل 2017 کو فوعہ اور کفریا سے نکلنے والے بیمار اور بوڑھے افراد، اور ساتھ میں بچے اور مستورات، جن کو راشدین میں اس بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا۔میڈیا کے ذمدار افراد سے گزارش ہے، کہ خدارا غلط بیانی سے لوگوں کو گمراہ نہ کریں۔ کل ہم سب نے اللہ کو جواب دینا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

موڈیز کا پاکستان کے کم ہوتے زر مبادلہ پر خدشات کا اظہار

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی مالیاتی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز انویسٹرز سروس نے پاکستان کے کم ...