اتوار , 23 ستمبر 2018

محمد بن نائف کس حال میں ہیں؟ (مجتہد کے انکشاف)

(تسنیم خیالی)
ٹویٹر پر سرگرم مشہور صارف ’’مجتہد‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا حالیہ دورہ امریکہ 2ہفتوں پر محیط ہوگا دورے کی اتنی لمبی مدت کی وجہ بیان کرتے ہوئے مجتہد کا کہنا تھا کہ بن سلمان اس طرح امریکی انتظامیہ کو باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ سعودی عرب کے تمام شہزادے بشمول ان کے چچا شہزادہ احمد بن عبد العزیز آل سعود ان کی (بن سلمان) غیر موجودگی میں کسی بھی قسم کی انتقامی کا رروائی یا انقلاب نہیں کرسکتے، مجتہد کا کہنا تھا کہ بن سلمان کو اس ضمن میں اپنے اُپر اعتماد نہیں بلکہ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ اب آل سعود کے شہزادوں میں اتنادم نہیں کہ وہ اس کے خلاف کچھ کرسکیں، مجتہد کے بقول بن سلمان کو اس بات کا یقین ہے کہ آل سعود کے شہزادوں کے دلوں میں خوف سماچکا ہے کہ عام سعودی شہریوں کے دلوں میں بھی اس قدر خوف وہراس نہیں۔

علاوہ ازین مجتہد کا کہنا تھا کہ بن سلمان امریکہ میں اپنے لیے مزید حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور اس ضمن میں وہ امریکی کانگریس میں اثرورسوخ رکھنے والے اداروں اور کمپنیوں کو اپنے حق میں قائل کرنے کی کوشش کریں گے، بن سلمان کے دورہ امریکہ کے علاوہ مجتہد نے سابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کے حوالے سے بھی اہم انکشافات کیے ہیں،مجتہد کے مطابق بن سلمان نے بن نایف پر غداری کی الزام عائد کررکھا ہے اور وہ اپنے اس الزام پر مصر ہیں جس کی وجہ سے بن نائف کافی پریشان ہیں اور بارہا اس بات کی تاکید کرتے ہوئے پھررہے ہیںکہ وہ بادشاہ اور ولی عہد کے وفادار ہیں، مجتہد نے بن نائف کے حوالے سے مزید انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ عرصہ قبل بن نائف سعودی عرب کے شمالی علاقے میں شکار کے ٹور پر گئے تھے ٹورپر جانے سے قبل بن نائف کو بن سلمان سے اجازت حاصل کرنی پڑی اور بن نائف کو اس وقت شدید خوف کا سامنا کرنا پڑا جب انہیں اس بات کا علم ہوا کہ بن سلمان انہیں قتل کرنے کے احکامات جاری کرچکے ہیں، بن سلمان کے حکم کے مطابق اگر بن نائف اپنے خصوصی طیارے کے ذریعے سعودی عرب کے شمالی علاقے سے سعودی عرب سے فرار ہونے کی کوشش کرتا ہے تو طیارے کو فوری طور پر مارگرایا جائے۔

مجتہد نے چند روز قبل محمد بن نائف کے نفسیاتی حالات، اُن پر نظر رکھنے والے شخص اور بن نائف کےبن سلمان سے رابطہ کرنے کے طریقہ کار کے حوالے سے بھی کافی انکشافات کیے تھے، مجتہد کے انکشاف نے ثابت کردیا ہے کہ بن سلمان انتہائی ڈرپوک اور بے بس شخص ہیں ،مجتہد نے اپنے انکشافات میں بن نائف کو ’’کاغذی شیر‘‘ قرار دیا، یعنی مجتہد کے مطابق سعودی میڈیا بن نائف کو ایک طاقتور اور مضبوط شخصیت کے طور پر پیش کرتا رہتا تھا جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں، علاوہ ازین مجتہد نے انکشاف کیا ہے کہ بن سلمان نے اپنے قریبی مشیر ترکی آل الشیخ کو بن نائف کی نگرانی اور اُس پر نظر رکھنے کا حکم دیا ہے اور اگر بن نائف نے بن سلمان سے کچھ کہنا ہو یا انہیں کوئی پیغام دیناہو تو وہ ترکی آل الشیخ کے ذریعے ہی ہوسکتا ہے، مجتہد کے مطابق بن نائف کے ساتھ بھی وہی سلوک ہورہا ہے جو ریٹزکارلٹن سے آزاد ہونے والے قیدیوں کے ساتھ ہورہا ہے، انہیں بھی 24گھنٹے زیر نظر رکھا جارہا ہے اور ان کے پائوں میں بھی انہی کی طرح ڈیٹیکٹر نصب ہے اور ان کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کردیے گئے ہیں، بن نائف اپنے ساتھ بن سلمان کی طرف سےہونے والے ناروا سلوک کے حوالے سے اپنے خاندان کے افراد سے شکوہ کرتے رہتے ہیں اور ان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ بن سلمان کو یہ پیغام پہنچائیں کہ وہ ان کے وفادار ہیں کیونکہ بن نائف کے نزدیک ترکی آل الشیخ یہ پیغامات بن سلمان تک پیغامات نہیں پہنچائیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

بیورو کریسی کیا چاہتی ہے؟

(تسنیم نورانی) وزیرِ اعظم عمران خان نے حال ہی میں بیورو کریسی کو اپنے تبدیلی ...