منگل , 24 اپریل 2018

مغرب اتنا بے غیرت کیوں ہے؟

(عدنان خان کاکڑ)
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ مغرب میں غیرت کیوں نہیں ہے؟ حد تو یہ ہے کہ انگریزی زبان میں غیرت کا لفظ ہی موجود نہیں ہے۔ بہت ہی ہو تو آنر یعنی عزت کو غیرت کے مفہوم میں استعمال کرنے کی کوشش کر لیتے ہیں۔ مشرق اور مغرب کے مزاج میں اس تضاد کی وجہ دو بادشاہ ہیں۔ ایک سکاٹ لینڈ کا بادشاہ جس کے فلسفے سے اہل مغرب اتنا زیادہ متاثر ہیں کہ اسے اپنے ننھے بچوں کو گھول گھول کر پلاتے ہیں اور انہیں بے غیرت بنا دیتے ہیں۔ ایک ہمارے وطن کا بادشاہ ہے جس کی کہانی ہماری غیرت کو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھاتی ہے۔

صدیوں پہلے سکاٹ لینڈ میں رابرٹ بروس نامی بادشاہ گزرا ہے۔ وہ ایک جنگجو بادشاہ تھا۔ اس نے بہت سی جنگیں جیتیں۔ لیکن وہ جیت کا سپاہی تھا ہار دیکھ کر ڈر جاتا تھا۔ ایک دن اس کے لشکر کو شکست فاش ہوتی دکھائی دی تو اپنا ٹوپی جوتا میدان میں ہی پھینک کر یہ بادشاہ وہاں سے فرار ہو گیا۔ نہ اس نے شاہی خون کا خیال کیا اور نہ یہ سوچا کہ رعایا میں اس کی کیا عزت رہ جائے گی۔ جو سنے گا وہ یہی کہے گا کہ کتنا بے غیرت بادشاہ تھا جو اپنی آن پر پران کو ترجیح دی۔

بہرحال کنگ بروس نے میدان سے جو دڑکی لگائی تو سیدھا ایک پہاڑی غار میں جا چھپا۔ ادھر اس نے بے غیرتوں کی طرح سوچنا شروع کر دیا کہ اب تو بس سارا کھیل ختم ہو گیا ہے۔ اب کہاں جیت پاؤں گا۔ بہتر ہے کہ بھیس بدل کر کسی دوسرے ملک نکل جاؤں اور کوئی نیا کام دھندا دیکھوں۔ وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس کی نظر غار کے دہانے پر پڑی جہاں ایک ننھا سا مکڑا ایک دھاگے کے ذریعے اوپر چھت تک جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ مکڑا کچھ دور ہی اوپر جاتا کہ پھسل کر پھر نیچے گر جاتا۔

کنگ بروس ایک ظالم اور بے رحم بادشاہ تھا۔ بجائے اس کے کہ مکڑے کو اپنی تلوار کی نوک پر بٹھا کر غار کی چھت تک بلند کر دیتا، وہ مزے سے بیٹھ کر اس معصوم مکڑے کی بے بسی کا تماشا دیکھنے لگا۔ مکڑا اوپر تک جاتا، پھسل کر پھٹاک سے نیچے گرتا، پھر کوشش کرتا۔ کنگ بروس اس کی بے بسی دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ اس احمق مکڑے کو پتہ ہی نہیں کہ عزت اسی میں ہے کہ بار بار ناکام ہو کر اپنا مذاق مت اڑوائے۔ لیکن کنگ بروس کی آنکھیں یہ دیکھ کر پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ مکڑا اپنی ساتویں کوشش میں غار کی چھت تک پہنچ گیا۔

کنگ بروس نے فوراً یہ فیصلہ کیا کہ عزت غیرت جائیں بھاڑ میں، اصل شے کامیابی ہے۔ چار چھے مرتبہ بندے کی بے عزتی ہو جائے تو پروا نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ہر قیمت پر کامیاب ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ سوچ کر وہ اٹھا، تلوار کے ایک ہی وار سے چھت لگا مکڑے کا جالا توڑ کر راستہ بنایا اور غار سے نکل کر اپنی شکست خوردہ فوج میں پہنچ گیا۔ مکڑا دوبارہ فرش سے چھت تک پہنچنے میں مصروف ہو گیا۔ کنگ بروس نے فوج کو اکٹھا کر کے دوبارہ حملہ کیا اور فتح یاب ہوا۔ اپنی وکٹری سپیچ میں اس نے وہ تاریخی جملہ کہا جسے اہل مغرب نے اپنا نظریہ حیات بنا لیا، یعنی ”عزت آنی جانی چیز ہے، ٹرائی ٹرائی اگین، ہر قیمت پر کامیاب ہونا چاہیے“۔ ہر قیمت پر اپنا ہدف حاصل کرو، باقی عزت غیرت وغیرہ کی پروا نہ کرو۔

اسی بے اصولی کی وجہ سے وہ فاتح ٹھہرے ہیں۔ سیاست، تجارت، سیادت اور جنگ میں وہ تین سو سال سے فاتح ہیں۔ مگر ہم اہل دل ہیں، ان سب چیزوں کی اتنی بھاری قیمت نہیں چکا سکتے۔

اہل مشرق اتنے بے غیرت کبھی نہ ہونے پائے۔ ان کا مقولہ تھا کہ جان جائے پر بچن نہ جائے۔ ان کا آئیڈیل میسور کا عظیم بادشاہ ٹیپو سلطان تھا جس نے میدان جنگ سے فرار ہو کر دوبارہ جنگ لڑنے کی بجائے یہ کہا کہ ”شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے“ اور یہ کہہ کر انہوں نے عزت کی جان دی اور میسور کے عوام دو سو سال کے لئے انگریز کے غلام بن گئے۔ ٹیپو سلطان غیرت والے تھے، وہ مکڑے کی بجائے شیر کی چال چلتے تھے۔

ہم بھی شیر کی چال چلنے پر یقین رکھتے ہیں۔ اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ وقت کی مصلحت کیا ہے۔ ہم غیرت مند لوگ ہیں، اپنے سے سو گنا بڑے دشمن سے بھی بھڑ جاتے ہیں۔ بات عزت پر آن پڑے تو دماغ سے نہیں دل سے سوچتے ہیں۔ یہ نہیں کرتے کہ بزدلوں کی طرح انتظار کریں کہ ہمارے خزانے میں کچھ روپیہ ہو اور ہماری فوجی طاقت میں اضافہ ہو اور اس کے بل پر لڑیں، ہم تو کہتے ہیں کہ کل کے مرتے آج مریں، مگر بے غیرت نہ کہلائیں۔ اب افغانستان اور عراق وغیرہ میں بندے تو بہت مر گئے ہیں اور جو زندہ ہیں وہ بے گھر ہو کر بھکاری بنے بیٹھے ہیں مگر شکر ہے کہ عزت بچ گئی ہے۔بشکریہ ہم سب نیوز

یہ بھی دیکھیں

کیا پانچ سال اقتدار کے مزے لینے سے بعد جماعت اسلامی حکومت سے الگ ہو جائے گی؟

کیا پانچ سال اقتدار کے مزے لینے سے بعد جماعت اسلامی حکومت سے الگ ہو ...