ہفتہ , 24 اگست 2019

سعودی عرب میں عسکری اور خارجہ پالیسی کے تمام فیصلوں کے پیچھے محمد بن سلمان کا ہاتھ

mohammed-bin-salman-al-saud

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز کے بیٹے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید نے علاقے میں ایک نیا کھیل شروع کر رکھا ہے،اس وقت سعودی عرب میں فعلی بادشاہ بن سلمان کو تصور کیا جاتا ہے،خارجہ پالیسی ہو،تقرریاں،اقتصادی ،سماجی و مذہبی فیصلہ حتیٰ کہ عسکری اور خارجہ پالیسی کے تمام فیصلوں کے پیچھے محمد بن سلمان کا ہاتھ ہوتا ہے،یہاں تک کہ اندرونی سیکورٹی اور سیاسی گرفتاریوں تک کے احکامات بن سلمان کے ہاتھوں میں ہیں جیسا کہ حالیہ سیاسی و مذہبی گرفتاریاں ہیں،اماراتی ولی عہد محمد بن زاید محمد بن سلمان کی جانب مائل ہیں اور ان کی مکمل طور پر تائید کرتے ہیں اور بن سلمان کو سعودی عرب کے نئے بادشاہ بنتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں،کیونکہ بن زاید خطے پر مکمل کنٹرول کا خواب دیکھ رہے ہیں اور بن سلمان اس کے لئے آئیڈیل سرمایہ کاری کا ذریعہ بھی ہیں۔بن زاید بن سلمان کو یقین دلارہے ہیں کہ بادشاہ کے مرنے کے بعد بن نائف اگر نئے بادشاہ بن گئے تو بہت سی رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں،بن سلمان کی راہ میں اوبہتر یہ ہے کہ محمد بن سلمان اپنے والد بادشاہ کے زندہ ہوتے ہوئے بادشاہ مقرر ہوسکے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران یک طرفہ طور پر ایٹمی معاہدے کی پابندی کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا، صدر حسن روحانی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)صدر مملکت حسن روحانی نے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں کمی …