جمعہ , 6 دسمبر 2019

غزہ میں مظاہرین کے قتل عام کی تحقیقات ہونی چاہئیں:امیر قطر

دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک)اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کےسیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے فلسطین میں ’یوم الارض‘ کےموقع پر اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے حوالے سے عالمی رہ نماؤں سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق سوموار کو حماس کے رہ نما اسماعیل ھنیہ نےامیر قطرتمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔

ھنیہ کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیاہے کہ حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ نے امیر سے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی حالیہ ریاستی دہشت گردی پر بات چیت کی۔

اسماعیل ھنیہ نے غزہ میں ’یوم الارض‘ ریلیوں پر صہیونی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں، غزہ کی ناکہ بندی اور دیگر صہیونی جرائم کے حوالےسے الشیخ تمیم حمد بن آل ثامی کو آگاہ کیا۔

حماس رہ نما نے فلسطینیوں کے خلاف صہیونی فوج کے وحشیانہ کریک ڈاؤن اور قتل عام کی روک تھام کے لیے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے امریکا کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جرائم کی قرارداد ویٹو کیے جانے کی بھی شدید مذمت کی اورکہا کہ صہیونی ریاست اور امریکا مل کر فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کا استحصال کر رہےہیں۔

دوسری جانب امیر قطر نے بھی صہیونی فوج کی جانب سے غزہ میں پرامن ریلیوں پر فائرنگ اور وحشیانہ تشدد کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے تحاشا استعمال قابل مذمت اقدام ہے اور وحشیانہ قتل عام کی جامع تحقیقات ہونی چاہئیں۔

خیال رہے کہ 30 مارچ کو فلسطین میں ’یوم الارض‘ کی مناسبت سے احتجاجی ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی شہریوں نے یوم الارض پر مقبوضہ فلسطین کی طرف مارچ کیا تو اسرائیلی فوج ان پر براہ راست فائرنگ کی اور آنسوگیس کی شیلنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 18 فلسطینی شہید اور ڈیڑھ ہزار سے زاید زخمی ہوچکے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستانی معیشت کی بہتری کا اعتراف روسی میڈیا کرنے لگا، امریکا کا بھی خیر مقدم

(لاہور) پاکستانی معیشت میں بہتری آنے کے آثار بین الاقوامی اداروں کی طرف سے آ …