اتوار , 23 ستمبر 2018

دنیا کےامیر ترین شخص جیف بیزوس کی زندگی کی مختصر داستان

مارچ 2018ء میں آن لائن خریداری کی مشہور زمانہ ویب سائٹ ’’ایمازون‘‘ کے مالک جیف بیزوس ، بل گیٹس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کے امیر ترین شخص بن بیٹھے اس وقت بیزوس کی کل دولت 14ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے یہی نہیں بیزوس وہ پہلے شخص جن کی دولت 100 ارب ڈالر کے ہندسے سے تجاوز کرگئی ہے۔

تاریخ پیدائش: 12 جنوری 1964ء
جائے پیدائش: البیکرکی ، نیومیکسیکو، امریکہ
پیدائش کے وقت کا نام: جیفری پریسن جارجنسن
والد کا نام: ٹیڈ جارجنسن
شریک حیات: میکینزی بیزوس
بچے :3بیٹے اور ایک لے پالک بیٹی
تعلیم: (بی ایس) پریسٹن یونیورسٹی (1986ء)
دیگر حقائق:
بیزوس کو بچپن کی عمر میں میگیل بیزوس نےاپنایااور ان کے سوتیلے والد بن گئے۔

عملی زندگی:
1994ء: جیف بیزوس نے (ڈی ای شائو اینڈ کو) نامی کمپنی کو چھوڑ کر ایمازون کی بنیاد رکھی۔
1999ء: ٹائم میگزین نے بیزوس کو ’’پرسن آف دی ائیر‘‘قرار دیا۔
2000ء: میں بیزوس نے ’’بلیو اوریجن ایل ایل سی‘‘ کمپنی کی بنیاد رکھی جو کہ ائیروسپیس کے شعبے میں منسلک ہے کمپنی کا مقصد عام لوگوں کو بھی خلائی سفر سے محفوظ کرنا۔
2012ء: امریکہ کی مشہور میگزین ’’مرچون‘‘ نے بیزوس کو سال کا بزنس پرنس قرار دیا۔
5اگست2013ء : بیزوس نے مشہور امریکی اخبار’’دی واشنگٹن پوسٹ‘‘ کوخرید لیا اور یکم اکتوبر 2013ء میں وہ آفیشل طور پر اخبار کے مالک بن گئے۔

24نومبر 2015ء بیزوس کی کمپنی ’’بلیو اوریجن ‘‘کا راکٹ کامیابی کے ساتھ فضائی اڑان کے بعد زمین پر واپس آجاتا ہے ، ماضی میں راکٹ کے فضائی اُڑان کے بعد راکٹ تلف کردیاجاتا تھا مگر بیزوس کے راکٹ کی واپسی کے بعد یہ ممکن ہوتا ہوا نظر آرہا ہے کہ خلاء میں بھیجے گئے راکٹ کو پھر خلاء میں بھیجا جائے کہ ایک اہم پیشرفت ہے۔

14دسمبر2016ء: میں بیزوس اور متعدد دیگر امریکی سرمایہ دار اور کاروباری شخصیات کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے نیویارک میں واقع ٹرمپ ٹاور میں ملاقات ، تعلیم ، تجارت اورف امیگریشن جیسے معاملات پر تبادلہ خیال۔

6مارچ 2018ء: میں مشہور امریکی میگزین ’’فاریز‘‘ نے بیزوس کو سال کا امیر ترین شخص قرار دیا، فاربر کے مطابق بیزوس 112ارب ڈالر سے بھی زائد رقم کے مالک ہیں اور وہ پہلے شخص ہیں جنکی دولت 100ارب ڈالر کے ہندسے کو تجاوز کرگئی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امارات انوکھے قسم کے پناہ گزینوں کا مرکز

(تسنیم خیالی) ہم سب نے جنگوں اور تنازعوں کے باعث ہجرت یا پھر دیگر ممالک ...