جمعہ , 14 دسمبر 2018

پی آئی اے کو برباد کرنیوالے غدار قرار، ایم ڈیز، سی ای اوز کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان کے عوام کو تیز ترین انصاف کی فراہمی کے سلسلے میں اقدامات جاری ہیں،یہی وجہ ہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کبھی لاہور تو کبھی کوئٹہ ہوتے ہیں،دوسرے دن کراچی ،اگلے دن پشاور کے دورے پر ہوتے ہیں،اسلام آباد میں بھی متعدد مقدمات کی سماعت کررہے ہیں۔

آج سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں پی آئی اے کی نجکاری اور آڈٹ سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی،سماعت کے دوران پی آئی اے کے وکیل نے 9 سال کا آڈٹ ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔

یاد رہے کہ مذکورہ کیس کی 6 اپریل کو ہونے والی گذشتہ سماعت پر چیف جسٹس نے پی آئی اے کے مینیجنگ ڈائریکٹر سے ادارے کی 10 سالہ آڈٹ رپورٹ طلب کی تھی۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مارکیٹ میں پی آئی اے کےشیئرز کی قیمت کیا ہے؟وکیل پی آئی اے نے آگاہ کیا کہ اس وقت مارکیٹ میں پی آئی اے کی فی شیئر قیمت 5 روپے ہے۔

چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اب تک ہونے والے نقصانات سے آگاہ کریں،وکیل پی آئی اے نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ 2013 میں پی آئی اے کو لگ بھگ 44 ارب روپے، 2014 میں 37 ارب روپے، 2015 میں 32 ارب روپے، 2016 میں45 ارب روپے اور 2017 میں 44 ارب روپےکا نقصان ہوا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگوں نے ظلم کیا، اتنا بڑا اثاثہ برباد کردیا، پی آئی اےکو برباد کرنے والے دشمن اور غدار ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ اس نقصان کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی اور ہم انہیں کسی طور نہیں چھوڑیں گے۔

ساتھ ہی جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پی آئی اے کے وہ تمام ایم ڈیز عدالت آجائیں جن کے ادوار میں نقصان ہوا،جسٹس ثاقب نثار نے حکم دیا کہ پی آئی اے کے تمام سابق ایم ڈیز کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں، ہم ایک کمیشن بنا رہے ہیں تاکہ معاملے کی تحقیقات ہو۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز ( پی آئی اے ) کے تمام سابق ایم ڈیز کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے قومی ایئرلائن کی نجکاری سے متعلق وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیل بیت المقدس میں ‘سفارتی کالونی بنائے گا

یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیلی حکومت نے امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کے بعد شہر ...