جمعہ , 14 دسمبر 2018

سابق امیر قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی زندگی کی مختصر داستان

تاریخ پیدائش: یکم جنوری 1952ء
جائے پیدائش: دوحہ،قطر
والد کا نام : شیخ خلیفہ بن حمد آل ثانی (سابق امیر قطر)
شریک ِحیات: ۱) مریم بنت محمد حمد ثانی
۲) موزہ بنت ناصر السند
۳) نورہ بنت خالد بن حمد آل ثانی
سیاسی اعتبار سے مورہ بنت ناصر المسند قطر کی طاقتور ترین خاتون ہیں جنکا قطر کی حکمرانی کے معاملات میں کافی اثرورسوخ پایا جاتا ہے
بچے: 11 بیٹے (جن میں موجود امیر قطر شیخ تمیم بن حمد ثانی سامل ہیں)13 بیٹیاں

تعلیم
شیخ حمد نے اپنے ابتدائی اور متوسط تعلیم قطر میں ہی حاصل کی جس کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے حصوں کےلئے برطانیہ کی مشہور ملٹری اکیڈمی سانڈ ہیرسٹ میں داخلہ لیا اور 1971ء میں دفاع التحصیل ہوئے اور قطر فوج میں شمولیت اختیار کرلی، قطر کی افواج کی بہتری اور ترقی میں شیخ حمد کا کلیدی کردار رہا۔

31مئی 1977ء میں شیخ حمد کو قطری ولی عہد مقرر کیا گیا ساتھ ہی انہیں وزیر دفاع کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی تھی۔

اسی سال شیخ حمد نے موزہ بنت ناصر المسندسے شادی کی، یہ شادی ایک غیر معمولی شادی تھی کیونکہ موزہ آل ثانی خاوند کے سب سے بڑے مخالف ناصر المسند کی بیٹی ہیں اس شادی سے آل ثانی اور المسند کےدرمیان پرانی دشمنی کا خاتمہ ہوا اور قابل ذکر بات یہ کہ موزہ نے اس شادی کےبعد قطر کے حکمران خاند ان اور حکومت میں اہم تبدیلیوں کی بنیاد رکھی۔

27 جون 1995ء میں شیخ حمد نے اپنے ہی والداور اس وقت کے امیر قطر شیخ خلیفہ بن حمد آل ثانی کے خلاف ’’سفید انقلاب‘‘ برپا کرتے ہوئے خود کو امیر قطر مقرر کردیا، یہ انقلاب اس وقت ہوا جب شیخ خلیفہ بیرون ملک کے دورے پر گئے تھے اور کہا جاتا ہے کہ اس انقلاب میں شیخ حمد کی بیوی موزہ کا کلیدی کردار رہا۔

اقتدار میں آنے کے بعد شیخ حمد نے قطر کو ایک طاقتور ملک بنانے کا کام شروع کیا، قطر کا آئین حمد کے ہی دور میں منظور کیا گیا۔قطر کو دنیا کا امیر ترین ملک اور قطری شہریوں کو دنیا کے امیر ترین شہری بنانے میں شیخ حمد کا ہی ہاتھ ، شیخ حمد کے دور میں قطر نے تمام شعبوں میں بڑے پیمانے پر ترقی کی اور دیگر خلیجی ریاستوں کو پیچھے چھوڑدیا۔مگر شیخ حمد کی خارجہ پالیسیز کافی حد تک متنازعہ رہیں جسکی وجہ سے امارات اور سعودی عرب کی قطر کےساتھ ایک دشمنی کی کیفیت پیدا وہوئی ، حتی کہ 1996ء میں امارات ، سعودی عرب ، بحرین اور مصر نے قطر میں شیخ حمد کےتخت کو الٹنے کی ناکام کوشش بھی کی تھی۔

خلیج کے علاوہ قطر نے دیگر عرب ممالک کے معاملات میں بھی بڑے پیمانے پر داخل اندازیاں کیں اور متعدد رپورٹس کے مطابق عرب ممالک میںچلنے والی تبدیلیوں کی لہر(عرب بہار) میں قطر کا اہم کردار رہا جسکی وجہ سے قطر متعدد عرب ممالک کے ساتھ خراب ہوئیں،علاوہ ازین قطر ترکی کی طرح اخوان المسلمین کی حمایت کرتا ہے اور مصر سے فرار ہونے والے اخوان المسلمین رہنمائوں کی ایک تعدادا س وقت قطر میں مقیم ہے۔

25جون 2013ء میں شیخ حمد اپنے بیٹے تمیم بن حمد آل ثانی کے حق میں دستبردار ہوئیں البتہ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ تمیم نے اقتدار میں آنے کےلئے والد پر ایک اور سفید انقلاب باپا کیا اور اس انقلاب میں بھی حمد کی اہلیہ اور تمیم کی والدہ موزہ بنت ناصر المسند نے کلیدی کردار ادا کیا۔

تمیم کا امیر قطر بننے سے شیخ حمد کو ’’الامیر الوالد‘‘ کا خطاب دیا گیا اور آج بھی وہ ’’حکمران خاندان کونسل‘‘ کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ہائی کمیٹی فار کوآزڈینشن اینڈ فالو اپ‘‘ کے بھی سربراہ ہیں جو قطری پالیسیز، فیصلوں اور قیادت کی رہنمائی کرتا ہے۔

قطر کے حوالے سےماہر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر چہ ےتمیم قطر کے امیر ہیں مگر عملی طور پر امیر اب بھی شیخ حمد ہی ہیں اور ان کے پرانے ساتھی ابھی ان کے ساتھ مل کر ملک کے تمام معاملات چلا رہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

دوھرا معیار

الوقت نیوز (ترجمہ تسنیم خیالی) ایک بندہ قتل ہوا تو پوری دنیا کہہ رہی ہے ...