اتوار , 23 ستمبر 2018

شام پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا حملہ

(تسنیم خیالی)

گزشتہ روز امریکہ، برطانیہ اورفرانس نے 50 منٹ پر محیط شام کے خلاف ایک فوجی کارروائی کی جس میں جنگی طیارے بھی شامل تھے، حملے کےلیے ان ممالک نے چند روز قبل ’’دوما‘‘ نام کے علاقے میں بظاہر ہونے والی کیمیائی حملے کو بہانہ بنایا اور کہا کہ شامی صدر بشارالاسد اپنی عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کررہا ہے اور ’’اسد‘‘ کو سبق سکھانے کےلیے شام کے خلاف کارروائی ناگزیرہے‘‘، دلچسپ بات یہ ہے کہ خود امریکی ، برطانوی اور فرانسیسی عہدیدارو ں نے حملے سے ایک دو روز قبل اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ دوما میں کیمیائی حملے کےحوالے سے کسی بھی قسم کا کوئی ثبوت موجود نہیں،

خود امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے امریکی سینٹ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے ان سب کے باوجود امریکہ او ر اس کے اتحادیوں نے شام پر حملہ کیا ہے، حملے پر ردعمل کی بات کی جائے تو روس نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو دھمکی دی ہے کہ انہیں اس حملے کا جو اب بہت جلد دیا جائیگا کیونکہ حملے سے روسی صدر پیوٹن کی توہین ہوئی ہے جو کہ کسی بھی طور قابل قبول نہیں، ایران نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے اس قسم کے اقدامات سے شامی مسئلہ مزید پیچیدہ ہوگا، دیکھا جائے تو امریکہ برطانیہ اور فرانس کے اس حملے سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ شام میں قیام امن کی خواہش نہیں،

رکھتے اور اگر مسئلہ شام میں حل کی طرف جائے تو حل انکی مرضی کے مطابق ہو، عملی طور پر امریکہ ، برطانیہ ،فرانس اور ان کے اتحادی شام کے میدان میں شکست سے دوچار ہوچکے ہیں اور مسئلہ شام انکی نہیں بلکہ شام اور اس کے اتحادیوں کی مرضی کے مطابق حل کی طرف آہستہ آہستہ جارہا ہے جس میں بلاشبہ امریکہ، اسرائیل ، برطانیہ، فرانس، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے، گزشتہ 7سالوں سے ان ممالک نے مسئلہ شام پر بے تحاشہ دولت اور محنت صرف کی ہے کہ کسی بھی طرح اسد حکومت کا خاتمہ کیا جائے اور شام کو ایسا ملک بنایا جائے جو امریکہ اور مغربی ممالک کا،

تابع دار ہو جیسا کہ بہت سے عرب ممالک اس وقت ہیں، البتہ روس اور ایران نےامریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اس منصوبے کو خاک میں ملا کر رکھ دیا ہے جس پر ردعمل دکھاتے ہوئے امریکہ اور اس کے اتحادی شام کے خلاف فوجی کارروائی کےلئے بہانےڈھونڈنے کی کوشش میں لگےہیں، شام پر حالیہ حملہ بلاشبہ ایک غیراخلاقی، غیر ذمہ دارانہ اور سنگین اقدام تھا جس کی وجہ سے فائدہ صرف اور صرف شام میں سرگرم دہشت گرد گروہوںکو ہوا اور روس نےاس حملے کا جواب امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو ضرور دینا ہے جو آنے والے دنوں میں سامنے آئے گا، روس نےفوری جوابی عسکری کارروائی نہ کرکے علاقے کوایک بڑی جنگ سے محفوظ رکھا ہے البتہ امریکہ اور اس کے اتحادی سیاسی کارروائی کےلیے تیار رہیں۔

یہ بھی دیکھیں

حسینؓ ابن علیؓ دنیا کو حیران کر دیا تو نے

(ڈاکٹردوست محمد) انسانی تاریخ میں حضرت ابراہیمؑ نے اپنے چہیتے فرزند اسماعیلؑ کی قربانی کا ...