جمعہ , 20 جولائی 2018

شام، عراق، افغانستان، فلسطین، میانمار اور کشمیر کے مظلوم عوام اپنی مزاحمتی تحریکوں کے ذریعے مستقبل قریب میں دشمنوں پر فتح حاصل کریں گے، امام خامنہ ای

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) امام خامنہ ای نے شام پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کے میزائل حملوں پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی علاقے میں امریکا کو یقینی طور پر شکست ہوگی اور ہم کھل کر اعلان کرتے ہیں کہ امریکی صدر برطانوی وزیر اعظم اور فرانسیسی صدر مجرم ہیں۔امام خامنہ ای نے شام پر ہفتے کی صبح امریکا برطانیہ اور فرانس کے حملے کو سنگین جرم اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر مبنی دعووں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران,

ماضی کی طرح مزاحمتی تحریکوں کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا اور اس بار بھی امریکا علاقے میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پائےگا۔عید مبعث کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی حکام اور تہران میں متعین اسلامی ملکوں کے سفیروں سے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ شام پر کیا گیا حملہ مجرمانہ اقدام ہے اور میں کھل کر یہ اعلان کرتا ہوں کہ امریکی صدر، برطانوی وزیراعظم اور فرانسیسی صدر مجرم ہیں۔امام خامنہ ای کا کہنا تھا کہ اس حملے سے امریکیوں کے لئے کوئی نتیجہ نہیں,

نکلے گا اور نہ ہی انہیں کوئی فائدہ ہوگا، بالکل اسی طرح جس طرح سے عراق اور افغانستان میں انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔امام خامنہ ای نے امریکا اور بعض مغربی ملکوں کے اقدامات کو ان کے سامراجی اہداف اور بین الاقوامی آمریت کا نتیجہ قراردیتے ہوئے فرمایا کہ البتہ آمروں اور ڈکٹیٹروں کو دنیا میں کہیں بھی کامیابی نصیب نہیں ہوگی اور امریکا کو بھی علاقے میں یقینی طور پر شکست کا منہ دیکھنا پڑے گا۔امام خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ امریکیوں کا نشانہ صرف شام، عراق اور افغانستان نہیں بلکہ وہ امت,

اسلامیہ اور اسلام کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں اس لئے اسلامی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ امریکا اور بعض مغربی ملکوں کے اہداف کی تکمیل میں ان کا ساتھ نہ دیں اوران کی خدمت نہ کریں۔شام اور مغربی ایشیا کے علاقے میں ایران کی موجودگی کی وجہ اس مزاحتمی اور استقامتی محاذ کی مدد کرنا تھی جو ظلم کے مقابلے میں تھا اور استقامتی محاذ نے بھی شامی فوج کی شجاعت و بہادری کی بدولت ان دہشت گردوں کو شکست دی جنھیں امریکا، مغربی ملکوں اور سعودی عرب جیسے ان کے ایجنٹوں نے تیار کیا تھا۔

امام خامنہ ای فرمایا کہ جو لوگ کل کھلے عام اور پس پردہ داعش کی حمایت کررہے تھے آج وہی داعش کا مقابلہ کرنے کا دعوی کررہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے داعش کو شکست دی ہے، یہ سب جھوٹ ہے۔آپ نے فرمایا کہ ان ملکوں نے داعش کے خلاف جنگ میں کچھ بھی نہیں کیا ہے۔داعش کو شکست دینے کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے تازہ ترین دعوے کو جھوٹا اور شرمناک قراردیتے ہوئے فرمایا کہ امریکیوں سے جتنا ہوسکتا تھا انہوں نے داعش کی مدد کی ہے اور اگر کہیں داعش کے عناصر کا محاصرہ,

کرلیا جاتا تھا تو امریکیوں نے ہی انہیں وہاں سے باہر نکالنے میں مدد کی ہے کیونکہ داعش کو امریکیوں نے ہی بنایا تھا۔امام خامنہ ای نے امریکی صدر کے گزشتہ ماہ دیے گئے اس بیان پر کہ ان کے ملک نے مشرق وسطیٰ میں 70 کھرب ڈالر ڈالر خرچ کیے لیکن اب تک کچھ حاصل نہیں ہوا‘، پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ٹھیک کہتے ہیں، انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا اور چاہے کتنی ہی رقم خرچ کردی جائے امریکا کو مستقبل میں بھی کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔امام خامنہ ای نے کہا کہ امریکیوں نے سعودیوں اور سعودیوں,

جیسے دیگر عناصر کے پیسوں سے داعش کو تشکیل دیا اور پھر انہیں عراق اور شام کے عوام کا خون بہانے کے لئے وہاں بھیجا لیکن استقامتی محاذ نے امریکا اور امریکی ایجنٹوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان دونوں ملکوں کو نجات دلائی اور اس کے بعد بھی ایسا ہی ہوگا۔امام خامنہ ای نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی کسی مظلوم کو مدد کی ضرورت ہوگی اسلامی جمہوریہ ایران وہاں موجود ہوگا اور مسئلہ فلسطین میں فلسطینیوں کی حمایت کے تعلق سے اسلامی جمہوریہ ایران کے اصرار کا فلسفہ بھی,

یہی ہے فرمایا کہ فلسطینی قوم اپنی استقامت و پامردی کی بدولت آج ایک طاقتور قوم میں تبدیل ہوچکی ہے اور بلاشبہہ فلسطینی عوام صیہونیوں پر غالب ہوں گے اور سرزمین فلسطین ، فلسطینی قوم کو واپس مل کر رہے گی۔امام خامنہ ای نے امریکی صدرکے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہ امریکا نے مغربی ایشیا میں سات ٹریلین ڈالر خرچ کئے لیکن اسے کچھ بھی ہاتھ نہیں لگا فرمایا کہ اس کے بعد بھی امریکا جتنا چاہے خرچ کرلے علاقے میں اس کو کچھ بھی ہاتھ نہیں لگے گا۔واضح رہے کہ امام خامنہ ای کےخطاب سے,

پہلے صدر مملکت حسن روحانی نے ایرانی حکام اور اسلامی ملکوں کے سفرا کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شام پر امریکا اور اس کے شیطانی اتحادیوں کے میزائل حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

یہ بھی دیکھیں

ترکی میں 2 سال سے جاری ایمرجنسی کا خاتمہ

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اردگان کی انتخابات میں کامیابی کے نتیجے میں ایک ...