منگل , 20 نومبر 2018

برق گرتی ہے

(توصیف احمد خان)

جی ہاں! یہی کہا گیا ہے اور یہی ہورہا ہے کہ برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر۔ یہ برق مسلمانوں پر کس جگہ نہیں گر رہی ہے کس خطہ کے مسلمان آزمائش اور ابتلا کا شکار نہیں۔ دنیا میں کس جگہ کے مسلمانوں کو جائے امان حاصل ہے۔ہر جگہ مسلمان تختہ مشق ہیں۔ ہر جگہ مسلمان نشانہ ستم ہیں۔ ہر جگہ مسلمانوں کو ہی تہہ تیغ کیا جارہا ہے۔ دنیا بھر کے کفار اور اغیار مسلمانوں پر چڑھ دوڑے ہیں۔ شام کا ذکر کریں تو وہاں دوسرے اپنی جگہ مسلمان ہی مسلمان کا دشمن بنا ہوا ہے۔ مسلمان بھی مسلمان کو مار رہا ہے۔ اندر سے فرقوں اور گروہوں میں بٹے ہوئے لوگ اور باہر سے وہاں کے حکمرانوں کے حامی اور دشمن۔

گزشتہ روز تو شام کے مسلمانوں پر باقاعدہ برق گری ایک نہیں کئی کئی بار امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے اتحاد ثلاثہ نے دمشق وغیرہ پر میزائلوں کی بارش کردی۔ اس بارش کا شکار کتنے ہوئے ابھی تک کوئی حتمی بات سامنے نہیں آئی۔ محض اندازے ہی ہیں۔ایران اور عراق کے درمیان جنگ آٹھ برس جاری رہی۔ یہ ایسی جنگ تھی جس میں اکثر گھرانوں میں کوئی ایک بھی مرد باقی نہیں رہا تھا۔ لاہور میں ایرانی قونصل خانے کے اطلاعات کے ڈائریکٹر جنرل صادق گنجی عین اس وقت دہشت گردی کا شکار ہوگئے۔ جب ان کا تبادلہ ایران ہوچکا تھا اور وہ سامان باندھ چکے تھے یہ اپنے خاندان کے واحد مرد رکن تھے جو جنگ کی,

بھینٹ نہیں چڑھے مگر دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اب شام میں خونریزی کو بھی آٹھواں سال جارہا ہے۔ امکان غالب ہے کہ اس میں آٹھ نو لاکھ افراد کا خون بہہ چکا ہے۔ ساڑھے تین لاکھ کا عدد تو بلا خوف تردید ہمارے پاس موجود ہے اور ساڑھے پانچ لاکھ وہ ہیں جن کا کوئی اتا پتہ نہیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ بھی زندہ نہیں۔ وہ لوگ اس کے علاوہ ہیں جو زخموں کا درد برداشت کررہے ہیں ۔ بے خانمائی کا کرب سہنے والوں کا کوئی حد و حساب ہی نہیں۔ یہ وہ مہاجر ہیں جو جان بچانے کیلئے دوسرے ملکوں میں پناہ لےچکے ہیں جن میں دور دراز کے ممالک بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کتنے راستے کی تکلیفوں کے باعث چل بسے۔

کتنی جانیں بھوک نے لے لیں اور کس قدر دوسروں کے ظلم کا شکار ہوئے؟ کچھ اندازہ نہیں محض قیاس ہی کیا جاسکتا ہے۔فی الحال ہم اس کا احاطہ نہیں کرتے کہ کون سے فریق کی کیا دلچسپی ہے اور کون سا فریق کیا کررہا ہے۔ فی الحال ہم اس پر بات کریں گے کہ یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے اور اس کی جڑیں کہاں ہیں۔اسرائیل اس سارے کھیل میں قریباً خاموش تماشائی کے طور پر نظر آرہا ہے لیکن اس سارے کھیل کا اصل کھلاڑی وہی ہے۔ یہودیوں یا بنی اسرائیل نے گریٹر اسرائیل کا ایک نقشہ بنا رکھا ہے جسے وہ ارض موعود کہتے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے یہ سرزمین انہیں دینے کا وعدہ کیا تھا۔

اس پر عملدرآمد کی صورت میں اس کے کئی ہمسایہ ممالک کی سرحدیں سکڑ سکتی ہیں اور کچھ سرحدیں مٹ بھی سکتی ہیں۔ اللہ نہ کرے کہ یہ روبہ عمل ہوسکے لیکن یہ منصوبہ بہر صورت موجود ہے۔ آج سے نہیں ساڑھے تین ہزار برس پہلے سے جب حضرت موسیٰ ؑ بھی اس دنیا میں تشریف نہیں لائے تھے ۔اس منصوبے کے تحت کچھ ممالک کو ہڑپ کرنے کے علاوہ کچھ کو چھوٹی چھوٹی کئی ریاستوں میں تقسیم کرنا بھی شامل ہے تاکہ وہ تابع فرمان رہیں۔چند برس قبل ایک تحریر منظر عام پر آئی ۔ یہ نیویارک ٹائمز کے سنڈے ریویو میں تھی اور اسے رابن رائٹ نے تحریر کیا تھا۔ اس میں پانچ عرب ممالک کو چودہ,

ممالک میں تقسیم کرنے کی سازش کا انکشاف ہے۔ ان ممالک میں شام، لیبیا، سعودی عرب، یمن اور عراق شامل ہیں چونکہ ذکر شام کا ہے لہذا اس کے بارے میں منصوبے کا تھوڑا ذکر کرتے ہیں۔
شام علوی مملکت ہے۔ یعنی اس پر علوی حکمران ہیں جو اقلیت میں ہیں اور اکثریت پر طویل عرصہ سے حکومت کررہے ہیں۔ موجودہ حکمران بشار الاسد سے پہلے ان کے والد حافظ الاسد تھے جو ایک فوجی انقلاب کے ذریعے برسراقتدار آئے۔ شام کے حدود اربعہ کا ذکر کریں تو اس کے مشرق میں عراق، مغرب میں لبنان اور بحیرہ روم، شمال میں ترکی، جنوب میں اردن جبکہ جنوب مغرب میں اسرائیل ہے۔

شام کی آبادی کا جائزہ لیں تو اس میں 80فیصد عرب اور 20فیصد غیر عرب ہیں۔ یہاں سنی مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ جو کل آبادی کا 64فیصد بتائے جاتے ہیں۔ اس کی آبادی سوا دو کروڑ کے قریب تھی اور حالیہ جنگ و جدل میں کم ہوگئی ہوگی۔ اس آبادی میں اہل تشیع 13سے 21فیصد ہیں۔غیر عربوں میں سب سے زیادہ تعداد میں کرد ہیں۔ ان کے بعد ترکمان، فلسطینی اور سرتاسین وغیرہ ہیں۔ ملک کی نوے فیصد آبادی مسلمان جبکہ دس فیصد غیر مسلموں پر مشتمل ہے۔ ان غیر مسلموں میں عیسائی (دروز) اور یہودی شامل ہیں۔ سنیوں میں سے علوی آبادی زیادہ تر ساحلی علاقے پر قابض ہے۔سازش کے مطابق شام کو,

تین حصوں یا تین مملکتوں میں تقسیم کرنا مقصود ہے۔ ان میں علوی کے علاوہ شمالی کردستان اور سنی مملکت شامل ہیں۔ علوی آبادی چونکہ ساحلی کاریڈور پر قابض ہے اس لئے اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ ان کی مملکت بھی انہی ساحلی علاقوں میں بنائی جائے گی جس کا مقصد انہیں یہاں تک محدود کردینا ہے۔جہاں تک کردوں کا معاملہ ہے وہ عراقی کردوں کے علاقے کے قریب آباد ہیں۔ ان کا دیرینہ خواب پورا کرنے کیلئے ریاست دینے کی سازش تیار کی گئی ہے۔ سازشیوں یا منصوبہ سازوں کا خیال ہے کہ بعد میں یہ لوگ عراقی کردوں کے ساتھ مل سکتے ہیں۔سنی شام میں واضح اکثریت میں ہیں۔

علویوں سے ان کو الگ کرکے ایک تیسرا ملک بنانے کا منصوبہ ہے۔ ان کے بارے میں بھی یہی خیال ہے کہ یہ بعد میں عراق کے سنی مسلمانوں کے ساتھ مل جائیں گے۔ یہ تو شام کے بارے میں نقشہ تیار کیا گیا ہے۔ دوسرے چار ممالک کے حوالے سے بھی مختصراً ذکر کردیتے ہیں۔کروڑ وں کی آبادی والے عراق میں صرف پچاس لاکھ غیر مسلم ہیں۔ مسلمانوں میں بھی شیعہ اکثریت میں ہیں۔ جو ساٹھ فیصد بتائے جاتے ہیں۔ باقی چالیس فیصد سنی ہیں۔ شام کی طرح عراق کو بھی تین ریاستوں میں تقسیم کرنے کی سازش ہے جن میں سے شیعہ، سنی اور کرد ریاستیں شامل ہونگی۔لیبیا کی آبادی 65لاکھ ہے اور اس میں,

غیرمسلم ساٹھ ہزار ہیں۔ قبائلی آبادی کے اس ملک میں زیادہ تر بربر آباد ہیں۔ اس ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش تیار کی گئی ہے۔ پاکستان کی طرح لیبیا نے بھی 1947ءمیں آزادی حاصل کی مگر آج اس کی حیثیت قریباً محکوم ملک کی ہے۔ماضی کا خوشحال ملک یمن آج غربت کا شکار ہے۔ اس وقت یہ عوامی جمہوریہ یمن اور عرب جمہوریہ یمن میں تقسیم ہے۔ اس کی مزید دو ریاستیں بنانے کا منصوبہ ہے۔ جنوبی علاقہ سعودی سرحد کے ساتھ ہے اور سعودی عرب کی تجارت بھی اسی علاقے سے ہوتی ہے۔ اس علاقے کو علیحدہ کرنے کی بات کی جارہی ہے۔اب سعودی عرب کی جانب آتے ہیں جو دنیا,

کا تیرہواں بڑا ملک ہے جسے پانچ حصوں میں تقسیم کرنے کی بات سامنے آتی ہے۔ جس کیلئے مقامی گروہ بندیوں کو پیش نظر رکھا گیاہے۔یہاں اقتصادی، قبائلی اور فرقہ ورانہ چیلنجز کی موجودگی کی بات بھی کی گئی ہے۔ اور انہی کو ملک کی تقسیم کی بنیاد بنایا گیا ہے ۔تو یہ ہے نقشہ اور شام میں جاری کشت و خون کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مسلمانوں کے قبلہ اول کی 500 کیمروں سے جاسوسی!

قابض صہیونی انتظامیہ نے مسجد اقصیٰ کی جاسوسی اور وہاں پرآنے والے نمازیوں پر نظر ...