جمعہ , 20 جولائی 2018

جس حال میں جینا مشکل ہو اس حال میں جینا لازم ہے”۔

( سرفراز حسینی)

حبس زدہ ماحول میں بند گلیوں میں پھنسے اورگروہی تعصبات میں لتھڑے معاشرے میں سب سے مشکل کام کسی کو فکری آزادی کی دعوت دینا ہے کہ وہ اپنے گرد قفل زدہ حاشیے سے باہر نکل کر سوچ سکے۔ معاشرے پہ مسلط شدہ قوتیں خواہ وہ ظالم جکمران ہوں، سیاسی و کاروباری مافیاز ہوں یا دین کے ٹھیکیدار، سب اپنے مفادات کے تحفظ اور معاشرے پہ تسلط کے لئے کسی بھی انتہا تک جانے سے نہی چوکتے، اس مقصد کی تکمیل کے لئے سب سے اہم ہتھکنڈہ اصل معلومات خواہ سیاسی ہوں، اقتصادی ہوں، ملکی و غیر ملکی معاملات ہوں یا قومی تاریخ ہو، کا عوام الناس تک نا پہنچنے دینا ہے، اس ہدف کے حصول کے لئے مخصوص فکر، افراد، واقعات اور تاریخ کو تقدس کا لبادہ پہنایا جاتا ہے اور پھر ایسا ماحول پیدا,

کر دیا جاتا ہے کہ کوئ بھی اس خود ساختہ نظام کے خلاف بولنے کی جرات نا کرے، اور اگر کوئ ایسی جرات کر بھی بیٹھے تو ان نام نہاد مقدسات کی توہین کی آڑ میں اسے ایسا مقام عبرت بنا دیا جاۓ کہ ہر دوسرا شخص اس سے سبق لیتے ہوئے دوبارہ ایسا سوچنے کا تصور بھی نا کر سکے۔فرعون، نمرود، شداد، کاہنان مصر، بنی اسرائیل، ابو لہب، ابو جہل، بنو امیہ، بنو عباس، جدید دور میں مغل شہنشاہ، افغانستان کے راستے بار بار وارد ہوتے اور برصغیر پہ قبضہ کرتے راہزن و ڈکیت،عالمی استکباری طاقتیں ، آج کے عرب شہنشاہ، مسلم ممالک اور تیسری دنیا پہ جمہوریت کے نام پہ براجمان نااہل افراد و خاندان، پیسے،

دھونس اور دہشت کے بل بوتے پہ مسلط شدہ فکری نظریات اور ان کو پالنے والے دینی ، سیاسی اور اقتصادی خونخوار ان سب کا مطمع نظر ہمیشہ یہی رہا کہ حق کو آشکار نا ہونے دیا جائے، لوگوں کی زبانوں پہ تالے لگا دئے جائیں، عوام الناس اسے ہی حق تسلیم کریں جو کچھ انہیں بتایا جائے اور پھر جو اس سے انکار کرے اس کی گردن اتار دی جاے۔لیکن اس جبر کے مقابلے میں ہر دور میں چاہے معدودے کم، چند حر فکر، آزاد منش اور سچ گو بھی منظر عام پہ آتے رہے جنہوں نے کبھی آگ میں گر کر، کبھی سولی پہ چڑھ کر، کبھی شعب ابی طالب میں سالوں بھوک و پیاس برداشت کرکے، کبھی اپنا جان و مال و حرمت لٹا کر،

کبھی جائز حق سے دستبرداری کی قربانی دے کر، کبھی لاکھوں کے لشکر کا نہتے بھوکے پیاسے مقابلہ کر کے، کبھی بیابانوں میں اپنی اور اپنی اولاد کی جان قربان کر کے، کبھی رسیوں سے جکڑی کیفیت میں درباروں میں خطبات حق دے کر، کبھی زبان گدی سے کھنچوا کر ،کبھی پابند سلاسل ہوکر۔ کبھی گولیوں، بموں، خنجروں سے چھلنی ہو کر ظلم تو سہا لیکن ہمیشہ ظالم کو بے نقاب کیا اور ان کے سامنے سر تسلیم خم نا کیا ۔تاریخ میں وہی زندہ ہیں جنہوں نے حق کی خاطر قربانی دی، ظلم و جھوٹ کو للکارا اور لوگوں کے اذہان کے بند دریچوں کو کھولنے کی سعی کی، آج ہمارے سامنے بھی دو راستے ہیں، یا تو,

اس جھوٹ و ستم کے نظام سے سمجھوتا کرلیں اور چند دن آسائش کے گزار کر موت کی وادی میں جا گریں یا جھوٹ، ظلم، حبس، اندھیرے، جہالت، ضلالت، جبر، نا انصافی، فکری و نظریاتی غلامی، جھوٹی تقدس مآبی، استکباری قوتوں کی آلہ کاری، دین کے نام پہ ذاتی مفادات ،حکومتوں کے تحفظ، قتل عام، نسل کشی جیسے گھناؤنے اقدامات کے خلاف آواز بلند کرتے ہوِے ظاہری مصائب، زندان، سولی، گولی، لوگوں کے ہاتھوں مارا جانا قبول کریں اور حیات جاویدانی پا لیں۔اس راہ پہ چلنے کے لئے کسی خاص مسلک سے تعلق، حتی مسلمان ہونا بھی شرط نہیں، بس قافلہ حریت سے رشتہ ضروری ہے۔

یہ بھی دیکھیں

نگرانوں کی جانبداریاں اور قائدؒ کی ہدایات

(ذوالفقار احمد چیمہ) پہلے بھی پنجاب اور سندھ کی نگران حکومتوں کو کوئی غیرجانبدارنہیں سمجھتا ...