جمعہ , 20 جولائی 2018

ہزارہ قوم کا جرم کیا ہے؟؟

(ضرغام عباس)
خبر ملی ہے کہ بلوچستان میں کچلاک کے مقام پر ایک کار پر فائرنگ کرکے 5 ’’ہزارہ برادری‘‘ سے تعلق رکھنے والے افراد کو قتل کیا گیا جس میں دو خواتین بھی شامل تھیں۔ ہزارہ برادی کا یہ قتل کوئی نئی بات نہیں ہے کوئی ایم دن (عید، محرم کے ایام) ایسا نہیں گزرتا جب ہزارہ برادی کے کسی شخص کو شہید نہ کیا جاتا ہو، اسی سال 20 جولائی کو کوئٹہ سے کراچی جانے والی کار کو نشانہ بنایا گیا جس سے چارہزارہ افراد شہید ہوئے جن میں گرافکس ڈیزائیننگ کا طالب علم محمد مرتضیٰ بھی شامل تھا۔قتل کسی کا بھی ہو ، قابل مذمت ہوتا ہے، چاہے وہ امیر ہو یا غریب، مسلم ہو یا غیر مسلم، پاکستانی ہو یا غیر پاکستانی۔

لیکن جب کسی قوم کے افراد کو جان بوجھ کر، شناخت کرنے کے بعد نشانہ بنایا جا رہا ہے اور قتل کرنے والا اس کو قتل نہیں بلکہ جہاد و ثواب کی خاطر قتل کررہے ہوں اور اس کی توجیہات اور دلائل دیتے ہوں تو وہ ہر عام دہشت گردی سے ہٹ کر ٹارگیٹد قتل عام ہی کہلایا جائے گا۔کوئٹہ میں مقیم ہزارہ برادری ایک طویل عرصہ لگ بھگ ڈیڑھ سو سال سے یہاں پر آباد ہے۔ ہزارہ برادری کے زیادہ تر افراد 1880 اور 1890 کی دہائی میں جابر افغان بادشاہ عبدالرحمن کے دور میں افغانستان سے کوئٹہ اور دیگر بلوچستان کے علاقوں میں آکر آباد ہوئے۔ قیام پاکستان سے لیکر اب تک ہزارہ برادری نے مملکت کی بےلوث خدمت کی ہے۔

ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے قاضی محمد عیسیٰ کا تحریک پاکستان میں ایک اہم کردار رہا ہے جبکہ 1965 کی جنگ میں حصہ لینے والے پاکستانی فوج کے کمانڈر ان چیف جنرل موسیٰ اور ائیر مارشل شربت علی چنگیزی کا تعلق بھی اسی برادری سے ہے۔ ہزارہ قوم کی آبادی 10 لاکھ کے لگ بھگ ہے ان کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ ایک محنتی اور جفاکش قوم ہیں ، وطن سے محبت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے (آج جس گاڑی پر فائیرنگ ہوئی اس کے فرنٹ پہ دیکھیں تو پاکستان کا جھنڈا رکھا ہوا ہے)، تعلیم کی طرف زیادہ رغبت رکھتے ہیں، اور کوشش کرتے ہیں کہ قانون کی پاسداری کریں اور کوئی،

ایسا کام سرانجام نہ دیں جس سے ملکی وقار پر کوئی حرف آئے۔ 1980سے 1990 میں سابق سویت افغان جنگ کے دوران معاشرہ میں اسلحہ کلچر کو پروان چڑھایا گیا ، کلاشنکوف عام ہوئی،ہر طرف اسلحہ کی گھن گرج تھی۔ ایک خاص مائینڈ سیٹ کے لوگوں کو ٹریننگ دی گئی جو آگے جا کہ خود پاکستانیوں کےلیے زہر قاتل ثابت ہوئے۔ اور اسی دور سے ہزارہ کے قتل عام کا آغاز ہوا جولائی 1985 میں مجلس کے جلوس پر فائرنگ کی گئی جس سے 13 افراد شہید ہوئے۔2001 سے لیکر 2017 تک ہزارہ برادری پر 1400 سے زیادہ حملے ہو چکے ہیں (وسعت اللہ خان) جس میں شہید ہونے والے ہزارہ کی تعداد 1000 سے زیادہ ہے۔

جون 2003 کو کوئیٹہ سریاب روڈ پر پولیس کیڈیٹس کو نشانہ بنایا گیا جس میں تقریبا 13 ہزارہ کیڈیٹ شہید ہوئےجولائی 2003 کو مجلس میں 4 خود کش حملے ہوئے جس سے 50 افراد شہید ہوئے۔ستمبر 2010 کو القدس ریلی پر فائیرنگ کر کے 70 ہزارہ شیعہ کو شہید کیا گیا۔ستمبر 2011 کو مستونگ میں بسوں سے اتار کر شناخت کے بعد 30 ہزراہ افراد کو شہید کیا گیا۔جنوری 2013 میں علمدار روڈ پر دو خود کش حملوں کے نتیجہ میں 200کے قریب ہزارہ برادری کے افراد شہید ہوئے۔ ان حملوں کی زمہ داری یا تو تحریک طالبان نے قبول کی ہے یا لشکر جھنگوی ، سپاہ صحابہ ملوث رہی ہے۔ اکثر حملوں میں کالعدم جماعتیں باقاعدہ،

پمفلٹس کے ذریعے سے ہزارہ شعیہ برادری کو کوئیٹہ سے نکلنے اور بات نہ ماننے کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔آخر ہزارہ برادری کا جرم کیا ہے؟؟ کس جرم کی سزا میں انہیں قتل کیا جا رہا ہے؟؟ کیا امن پسند شہری ہونا جرم ہے؟؟کیا ہزارہ قوم کا جرم یہ ہے کہ وہ خاندان رسول اللہ ﷺ سے پیار کرتے ہیں ؟؟تاریخ شاہد ہے کہ ظلم کبھی تادیر نہیں رہتا ۔ ظالم کا انجام بالآخر ایک المناک عذاب اور رسوائی ہے۔

ان بے گناہوں کا خون ایک دن ضرور رنگ لائے گا۔

قریب ہے یارو روز محشر

چھپے گا کشتوں کا خون کیونکر

جو چپ رہے گی زبان خنجر

لہو پکارے گا آستیں گا۔۔

یہ بھی دیکھیں

نگرانوں کی جانبداریاں اور قائدؒ کی ہدایات

(ذوالفقار احمد چیمہ) پہلے بھی پنجاب اور سندھ کی نگران حکومتوں کو کوئی غیرجانبدارنہیں سمجھتا ...