ہفتہ , 21 اپریل 2018

عرب لیگ اجلاس پر کچھ تبصرہ

(تسنیم خیالی)

گزشتہ اتوار کےروز سعودی عرب کے مشرقی شہر طٰہران میں عرب لیگ سربراہان کا اجلاس منعقد ہوا ،جس میں 6عرب ممالک شام ، قطر ، امارات ، مراکش، الجزائر اور سلطنت عمان کے حکمرانوں نے شرکت نہیں کی، شام کی بات جائے تو عرب لیگ میں اسکی رکنیت 16 نومبر 2011ء سے معطل ہے، جبکہ قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے اجلاس میں قطر کے بائیکاٹ کے معاملے کی وجہ سے شرکت نہیں کی ،خاص طور پر کہ اجلاس سے قبل عرب لیگ نے اعلا ن کیا تھا کہ اجلاس میں قطر بائیکاٹ کے معاملے پر بات نہیں کی جائیگی ، دلچسپ بات یہ ہے کہ 2013ء میں اقتدار میں آنے کے بعد یہ پہلا عرب لیگ،

اجلاس ہے جس میں شیخ تمیم نے شرکت نہیں کی، امارات کی بات کی جائے تو امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید آل نہیان کی عدم شرکت نئی بات نہیں ،وہ گزشتہ چند سالوں سے منظرعام پر سے ہی غائب ہوچکے ہیں (یاپھر کروادیئے گئے ہیں) متعدد ماہرین اور تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ امارات میں عملی طور پر صدر شیخ محمد بن زاید ہیں جس نے اپنے ہی بھائی خلیفہ کو منظرعام سے غائب کروایا ہے، حالیہ عرب لیگ اجلاس میں شیخ خلیفہ کی جگہ اماراتی ریاست دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم سے شرکت کی جو کہ اماراتی وزیراعظم کے منصف پربھی فائز ہیں،مراکش کے فرمانروا شاہ محمد،

ششم کی جگہ اجلاس میں شہزادہ رشید بن الحسن نے شرکت کی، مراکشی ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ شاہ محمد ششم نے سعودی عرب میں عمرہ کی ادائیگی کے باعث اجلاس میں شرکت نہیں کی۔
الجزائر کے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ علالت کے باعث اجلاس سے غیر حاضر رہے، 2013ء میں انکے دماغ کی ایک رگ پھٹ گئی تھی جس کے بعد سے انہوں نے عرب لیگ اجلاس میں کبھی شرکت نہیں کی، حالیہ اجلاس میں ان کی جگہ جزائری پارلیمنٹ کے اسپیکر عبدالقادر بن صالح نے شرکت کی ، عمان کے سلطان قابوس بن سعید نے غیر اعلان کردہ وجوہات کی بناء اجلاس میں شرکت نہیں کی ،مگر ایسا پہلی مرتبہ،

نہیں ہورہا وہ اکثرعرب لیگ کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتے اور حالیہ اجلاس میں انہوں نے عمانی وزیر کے نائب محمد بن محمود آل کو اپنی جگہ بھیجا، قابوس کی عرب لیگ اجلاس میں عدم شرکت ایک معمول بن چکا ہے، کہاجاتا ہے وہ عرب اجلاس میں دلچسپی نہیں لیتے کیونکہ انہیں اس بات کا پورا یقین ہوتا ہے کہ یہ اجلاس بےمقصد اور قیمتی وقت ضائع کرنے کے لئے ہوتے ہیں ،جن معاملات کا حل نہیں بلکہ ان میں مزید بگاڑ پیدا ہوتی ہے، اجلاس کے حوالے سے قابل ذکر بات ہے کہ اس نے سعودی دارلحکومت ریاض میں منعقد ہوناتھا البتہ انعقاد سے چند روز قبل ہی اسے طٰہران میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ماہرین کے،

مطابق ایسا یمنیوں کے بیلسٹک میزائلوں کی وجہ سے کیا گیا جوآج کل ریاض پر یمنی بے دریغ داغ رہے ہیں ،ویسے تو سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اس بات کی تردید کی ہے مگر بیشتر ماہرین کا یہی کہنا ہے کہ یمنیوں کے میزائلوں نے سعودی عرب اور اس کی طاقت کے پول کھول دیے ہیں، عرب لیگ کے حالیہ اجلاس میں شام پر ہونے والے امریکی، برطانوی اور فرانسیسی حملے کی مذمت نہیں کی گئی اور نہ ہی اس موضوع پر کھل کربات کی گئی حالانکہ چند عرب ممالک اس حملے کے مخالف تھے مگر عام طور پر بیشتر عرب ممالک حملے پر راضی تھے، اس اجلاس میں سعودی ’’ڈرامے بازیاں‘ ‘ جاری رہیںاور اس ضمن،

میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے عرب لیگ سمٹ کانام ’’القدس سمٹ‘‘ رکھتے ہوئے ٹرمپ کی طرف سے بیت لمقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کی مذمت کی ، حالانکہ سبھی اس بات سے واقف ہیں کہ ٹرمپ کے ایسا کرنے سے پہلے متعدد عرب حکمرانوں کو اعتماد میں لیا جن سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان شامل تھے، ہمیشہ کی طرح اس بار بھی تمام تر توقعات کے مطابق عرب لیگ اجلاس عرب ممالک کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہا، ایک تماشا لگا جسے دنیا نے دیکھا پھر تماشے میں شریک تمام افراد اپنے گھروں کو چلے گئے ،کچھ نیا یا خاص نہیں ہوا یمن کی جنگ جاری رہے گی،

فلسطینیوں پر صہیونیوں کے مظالم جاری رہیں گے، شام کے خلاف سازش جاری رہے گی ، بحرین میں شہریوں کے خلاف آل خلیفہ کے بدترین مظالم جاری رہیں گے، قطر کے بائیکاٹ کا معاملہ جاری رہے گا اور مراکش اور الجزائر کے درمیان کشیدگی جاری رہے گی، عرب لیگ کے ناکام اجلاسوں کو دیکھتے ہوئے عرب ممالک کی عوام اکثر کہتے ہیں ’’عرب اتفاق نہ کرنے پر اتفاق کیے ہیں‘‘ یہ کہاوت آج بھی قائم ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بچے جھونکنے کے لیے نہیں پالنے کے لیے ہیں

(وسعت اللہ خان)  ہر نئے بچے کی آمد اس کا ثبوت ہے کہ خدا دنیا ...