منگل , 11 دسمبر 2018

شام پر حملہ ،اردگان نے سب کوحیران کردیا

(تسنیم خیالی)

ترکی صدرطیب اردگان نے گزشتہ ہفتے کے روز شام پر ہونے والے امریکی برطانوی اور فرانسیسی حملے کا خیر مقدم کرکے دنیا بھی کو حیران کردیا، جس کی دواہم وجوہات ہیں، پہلے تو یہ کہ ترکی صدر اس سہ ملکی اتحاد کا حصہ ہے، جسکے دواہم ممالک روس اور ایران شام پر ہونے والے حملے کے شدید مخالف ہیں اور حملے سے تین ہفتے قبل انقرہ میں تینوں ممالک (روس، ترکی اور ایران) کے سربراہوں نے اجلاس منعقد کیا تھا ،دوسری وجہ یہ ہے کہ اردگان کچھ عرصے سے امریکہ کےخلاف محاذ کھول رکھا ہےکیونکہ امریکہ شام کے شمالی علاقوں میں متمرکز کرد جنگجو ئوں کی حمایت کررہا ہے جنہیں ترکی دہشت گرد،

قرار دیتا ہے ،علاوہ ازین ترکی امریکہ سے فتح اللہ گولن کی حوالگی کا مطالبہ کرتا آرہا ہے، کیونکہ ترکی حکومت کے نزدیک ترکی میں 2016ءمیں ہونے والے ناکام فوجی انقلاب کے پیچھے گولن کا ہاتھ۔ امریکہ کے ساتھ ان دو سنگین اختلافات کے باوجود اردگان نےامریکہ کی قیادت میںشام پر ہونے والے حملے کی حمایت کی اور اس کا خیر مقدم کیا حالانکہ خود امریکہ اور متعدد یورپی ممالک کے عہدیداروں نے حملے کی مذمت اور مخالفت کرتے ہوئے اس غیرموزوں اقدامات قرار دیا، اردگان کی شامی حکومت اور صدر بشارالاسد سے نفرت ڈھکی چھپی بات نہیں اور وہ شامی حکومت کے بہت سے مخالف مسلح گروپوں،

اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرتا ہے، اس سب کے باوجود روس اور ایران کا اتحادی ہونے کے ناطے توقع یہی تھی کہ اردگان شام پر ہونے والے حملے کی مخالفت کریں گے یاپھر کم از کم دوما میں ہونے والے بظاہر کیمیائی حملے کے حوالےسے اقوام متحدہ کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کریں گے اور پھر ان نتائج کی بناء پر موقف اختیار کریں گے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اردگان کبھی بھی شامی حکومت یا پھر بشارالاسدکی صف میں کھڑے نہیں ہوں گے مگر توقع یہی تھی کہ وہ روس اور ایران کی صف میں کھڑے ہوں گے خاص طور پر کہ وہ اکثر کہتے پھرتے ہیں کہ امریکہ اور مغربی ممالک ایک سوچی سمجھی،

سازش کے تحت ترکی اور ترکی کی خود مختاری کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں،کچھ ماہرین کے نزدیک اردگان ایک طرف روس اور اس کے اتحادی اور دوسری طرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کررہے ہیںکیونکہ حملے سے قبل اردگان نے ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا جس کی وجہ سے شام پر حملہ محدود پیمانے پر ہوا، دیگر ماہرین کے نزدیک یہ فرضیہ انتہائی کمزور ہے اور اسے ثابت کرنے کےلیے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہے تاکہ یہ قابل تسلیم ہوجوکہ فی الوقت ممکن نہیں۔ایک بات یہ بھی ہے کہ شام پر حملہ ترکی میں موجود امریکی فوجی اڈہ ’’انجرلیک‘‘ سے نہیں ہوا بلکہ،

دیگر عرب وخلیجی ریاستوں میں قائم اڈوں سے ہوا جوکہ ترکی کا ایک مثبت پہلو تو ضرور ہےمگر کافی نہیں ،خاص طور پر کہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے شام پر حملے سے قبل اردگان کو پہلے سے ہی اطلاع دی تھی اور بتایا تھا کہ حملہ محدود پیمانے پر ہوگا، ترکی کو اپنے اس حیران کن موقف کی وضاحت آج نہیں تو کل کرنی ہوگی، خاص طور پر انہیںجو ترکی کو ترقی یافتہ اور اعتدال پسند اسلامی ملک سمجھتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...