ہفتہ , 21 جولائی 2018

شام پر امریکی حملہ، جرائم پیشہ عناصر کے تحفظ کیلئے مجرمانہ اقدام

(رسول سنائی راد)

اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ہفتے کے روز 27 رجب عید مبعث کی مناسبت سے ایران کے مسئولین اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے ملاقات کے دوران شام پر امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے میزائل حملوں کو مجرمانہ اقدام جبکہ امریکہ، فرانس اور برطانیہ کے سربراہان مملکت کو مجرم افراد قرار دیا۔ امام خامنہ ای نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ممالک ہر گز مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کر پائیں گے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ ان تین مغربی ممالک نے ایسا مجرمانہ اقدام انجام دیا ہے جو تاریخ میں باقی رہ جائے گا اور آزاد اندیش انسان ہمیشہ ان پر لعنت بھیجتے رہیں گے۔ اگرچہ امریکہ،

برطانیہ اور فرانس کے اس اقدام کو صرف اسی وجہ سے کہ یہ حملہ خانہ جنگی کا شکار ملک پر ایسے علاقوں میں انجام پایا ہے جہاں عام شہری مقیم ہیں اور ان کیلئے نقل مکانی بھی ممکن نہیں، ایک مجرمانہ اقدام انجام دیا جا سکتا ہے لیکن اسے مجرمانہ اقدام ثابت کرنے کیلئے چند دیگر ٹھوس دلائل بھی موجود ہیں جو ذیل میں بیان کئے گئے ہیں:

1)۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے اس اقدام کو حتی ظاہری حد تک قانونی جواز حاصل نہ تھا۔ اسی طرح ان میزائل حملوں کو کسی قسم کی اخلاقی سپورٹ بھی فراہم نہیں تھی۔ یہ حملے صرف اور صرف بدمعاشی، دھونس، غرور و تکبر اور ظلم و ستم پر مبنی تھے لہذا انہیں قطعی طور پر مجرمانہ اقدام قرار دیا جا سکتا ہے۔

2)۔ یہ میزائل حملے جو شام کے عام شہریوں کی جان کو یقینی خطرہ شمار کئے گئے ہیں ایسے وحشی تکفیری دہشت گرد عناصر کی حمایت میں انجام پائے ہیں جن کیلئے سر کاٹنا، زندہ جلا دینا، اغوا، نسل کشی، بچوں اور خواتین کا قتل، دین اور مذہب حتی سیاسی نظریات مختلف ہونے کے جرم میں قتل و غارت اور ایسے ہی دیگر انسان سوز جرائم معمول کی بات ہے۔ یہ دہشت گرد عناصر جعلی کیمیائی حملے کیلئے خواتین اور بچوں کا استعمال کر چکے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس اس سے پہلے بھی تکفیری دہشت گرد عناصر کی مالی اور فوجی مدد کرنے میں مصروف رہے ہیں۔ ان ممالک نے جیسے ہی احساس کیا کہ دمشق کے نواح میں دہشت گرد عناصر کا خاتمہ قریب ہے تو مشکوک کیمیائی حملے کا بہانہ رچا کر شام کے فوجی مراکز کو میزائل حملوں کا نشانہ بنا ڈالا۔ ان مغربی ممالک کا یہ اقدام جرائم پیشہ افراد کے بچاو کیلئے مجرمانہ اقدام قرار پایا ہے۔

3)۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا یہ اقدام مشرقی غوطہ کے قصبے دوما میں مشکوک کیمیائی حملے کے بہانے انجام پایا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گرد عناصر کے پاس کیمیائی ہتھیار تیار کرنے کیلئے ضروری مواد موجود ہے اور وہ امریکہ کو شام پر فوجی حملے کا بہانہ فراہم کرنے کیلئے پہلے بھی کئی بار یہ ڈرامہ رچا چکے ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شام پر اس وقت میزائل حملے کئے جب اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم مشکوک کیمیائی حملے کے بارے میں تحقیق کیلئے دمشق پہنچ چکی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میزائل حملوں میں جلدبازی کا مقصد جعلی کیمیائی حملے سے متعلق حقائق فاش ہونے سے روکنا ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے یہ حملے سعودی رژیم اور غاصب صہیونی رژیم کی ایماء پر انجام دیئے ہیں۔

4)۔ دمشق کے نواحی علاقے مشرقی غوطہ میں شام آرمی اور اس کی اتحادی فورسز نے آپریشن کلین اپ شروع کر رکھا تھا۔ دوما کے علاقے میں سعودی عرب کا حمایت یافتہ تکفیری دہشت گرد گروہ جیش الاسلام شام آرمی کے محاصرے میں آ چکا تھا۔ سعودی عرب کی ایما پر امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے خلاف قرارداد منظور کروانے کی کوشش کی لیکن روس کی جانب سے ویٹو کے بعد یہ قرارداد منظور نہ ہو سکی۔ ایسی صورت میں ان کے پاس جیش الاسلام سے وابستہ تکفیری دہشت گرد عناصر کو بچانے کیلئے کوئی اور راستہ باقی نہیں بچا تھا لہذا برطانیہ کے،

حمایت یافتہ گروہ وائٹ ہیلمٹس کے ذریعے کیمیائی حملے کا جھوٹا ڈرامہ رچایا گیا جسے بہانہ بنا کر امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے شام کے چند فوجی مراکز کو نشانہ بنا ڈالا۔امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے نہ صرف اقوام متحدہ بلکہ اپنے اپنے جمہوری اداروں سے منظوری لئے بغیر شام پر یکطرفہ فوجی کاروائی کی ہے جو یقینی طور پر غیر قانونی ہے۔ انہوں نے اس کاروائی کے ذریعے ایسے دہشت گرد عناصر کی مدد کرنے کی کوشش کی ہے جو نہ صرف شام بلکہ پوری اسلامی دنیا میں منفور قرار پا چکے ہیں۔ تکفیری دہشت گرد عناصر کے غیر انسانی اقدامات کی بدولت پوری اسلامی دنیا میں ان کے خلاف شدید،

نفرت پائی جاتی ہے۔ یہ عناصر دین کے نام پر ایسے مجرمانہ اقدامات انجام دے رہے ہیں جنہیں بیان کرنے سے زبان قاصر ہے۔ ان دہشت گرد عناصر کو امریکہ، غاصب صہیونی رژیم اور آل سعود رژیم جیسی قوتوں کی حمایت حاصل ہے اور ان کی تشکیل کا بنیادی مقصد دنیا والوں کی نظر میں اسلام کے حسین چہرے کو بگاڑ کر پیش کرنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے مذموم مقاصد کے حصول میں مکمل طور پر ناکامی کا شکار ہو چکے ہیں اور تکفیری دہشت گرد عناصر کا مکمل خاتمہ بہت قریب ہے۔

یہ بھی دیکھیں

سراج رئیسانی اور ہارون بلور

(امجد اسلام امجد)  مجھے زندگی میں کبھی ان دونوں نوجوان شہیدوں سے ملاقات کا موقع ...