منگل , 11 دسمبر 2018

شام پر امریکی حملہ اور سلامتی کونسل کی معذوری

(طاہر یاسین طاہر)

نہ تو امت کہیں نظر آ رہی ہے اور نہ ہی اسلامی فوجی اتحاد، کوئی 40 کے لگ ملکوں کے اس اتحاد کی فوجی مشقیں شروع ہوگئی ہیں، جس میں تقریباً 24 اسلامی ملک حصہ لیں گے، ان جنگی مشقوں کا مقصد جو بیان کیا جا رہا ہے وہ علاقائی ممالک کے درمیان فوجی، سکیورٹی اور رابطوں کو فروغ دینا ہے۔ مجھ ایسا کالم کار اگر ایسی مشقوں اور ایسے کسی بھی نام نہاد اسلامی فوجی اتحاد کو خود فریبی کہہ دے تو برا ہی کیا ہے؟ چیزوں کا انحصار ان کے حجم کے بجائے ان کے نتائج پہ ہوتا ہے۔ اسلامی فوجی اتحاد کا حجم جیسا اور جتنا بھی ہے، مسلم امہ کے حق میں اس کا نتیجہ مثبت نہیں۔ امریکہ سمیت،

اس کے سارے اتحادی جانتے ہیں کہ اس اتحاد میں نہ اتنی جان ہے، نہ جرات کہ امریکی جارحیت کے سامنے بند باندھ سکے۔ خصوصاً اس وقت جب اس اسلامی اتحاد کے سپانسرز اور بنانے والے خود خطے میں امریکی مفادات کی نگہبانی کا داغ دامن پہ سجائے بیٹھے ہوں۔ تاریخ یہی ہے کہ امریکہ پہلے الزام لگاتا ہے اور پھر اس الزام کے ثابت ہونے سے پہلے پہلے اپنے یورپی اتحادیوں کی مدد سے ہدف تک آن پہنچتا ہے۔طاقت کے اپنے ضابطے ہوتے ہیں۔ طاقت وروں کو نہ تو کسی ادارے سے اجازت کی رسمی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی کسی اصول و قاعدے کی پابندی۔ امریکی رویہ یہی ہے۔ اقوام متحدہ جیسا،

عالمی ادارہ جس قدر بے بس اور لاچار ہے، اتنی کمزور تو شاید میونسپل کمیٹی کی کوئی ذیلی کمیٹی بھی نہ ہو۔ ہاں اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل کی یہ لاچارگی البتہ مسلمان ملکوں کے باب میں ہے۔ خود کو مہذب دنیا کہنے والے خود ہی عالمی قوانین کی پابندی نہیں کر رہے ہیں۔ سلامتی کونسل سے شام پر حملے کے لئے قرارداد منظور نہ ہوئی، مگر ٹرمپ اپنی طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہوا اور عجلت میں شام پر چڑھ دوڑا۔ روس چونکہ شام کا اتحادی ہے، اس لئے روس نے سلامتی کونسل میں گزشتہ سالوں میں کم از کم 6 بار ویٹو کے حق کو استعمال کیا۔ ہمیں یاد ہے جب عرب بہار نامی تحریک تیونس،

سے نکل کر مصر کے راستے شام تک آئی تو یہاں انسانی حقوق اور آزادیوں کے نام پر القاعدہ، النصرہ اور بالآخر داعش جیسی تنظیموں کی عالمی اسٹیبلشمنٹ نے پذیرائی کی۔ اس پذیرائی کا مقصد دراصل خطے میں اسرائیل کو مضبوط کرنا ہے۔ تکلیف دہ حقیقت یہ بھی ہے کہ ترکی، سعودی عرب، قطر سمیت کئی ممالک نے شام میں بشار الاسد حکومت کی مخالفت اور داعش و اسد مخالف عناصر کی بھرپور معاونت کی۔ روس و ایران کا موقف اس حوالے سے یکسر مختلف رہا۔ روس و ایران کا کہنا ہے کہ شامی عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ جسے چاہیں آزادانہ انتخابات کے ذریعے اپنا سربراہ منتخب کر لیں، جبکہ امریکہ،

عرب ممالک، ترکی اور اسرائیل پیشگی شرائط پہ اسد کو حکومت سے الگ کرکے ایک ایسی حکومت کی تشکیل چاہتے ہیں، جو کٹھ پتلی اور اسرئیل نواز ہو۔تاریخی حقائق بڑے تلخ اور تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ شام کے بحران نے سر اٹھایا تو عرب رجیم نے ترکی کے ساتھ مل کر شام کے مسئلے کو سنی شیعہ مسئلہ بنا کر فرقہ وارانہ جذبات کو انگیخت کیا۔ اس شرارت کا نتیجہ شام میں ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کی صورت میں سامنے آچکا ہے۔ شام میں ایران اور ایران کی حمایت یافتہ لبنانی تنظیم حزب اللہ، داعشی دہشت گردوں کا راہ روکے ہوئے ہے۔ روس کے شام میں کیا مفادات ہیں؟ روس نے اپنے جدید ہتھیار شام کے ان،

علاقوں میں خوب آزمائے جہاں شامی فوج نے دہشت گردوں کے حوالے سے اہداف مقرر کئے ہوئے تھے۔ یہ سچ ہے اور تکلیف دہ سچ ہے کہ اس جنگ میں دونوں جانب سے کی گئی جارحیت کے نتیجے میں عام شہری بھی نشانہ بنے، یہی الزام ہے بشار الاسد حکومت پر کہ اس نے اپنے ہی شہریوں پر جارحیت کی، انتہائی مہلک ہتھیار استعمال کئے اور بین الاقوامی جنگی قوانین کی خلاف ورزیاں کیں۔ ممکن ہے اور بعید بھی نہیں کہ ایسا کیا گیا ہو، کیونکہ داعش نے ہمیشہ عام شہریوں کو ڈھال بنا کر کارروائیاں کی ہیں۔ داعش جب کسی علاقے یا قصبے میں عام شہریوں کو ڈھال بنا کر کارروائیاں کرتی ہے تو روسی فضائیہ،

شامی افواج کے ساتھ مل کر اس علاقے میں کارروائی کرتی ہے۔ ظاہر ہے جنگوں میں بے گناہ بھی مارے جاتے ہیں، ان بے گناہوں کا مگر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کو کیا دکھ ہے۔؟یہ وہی امریکہ ہے، جس نے عراق کی اینٹ سے اینٹ یہ کہہ کر بجائی کہ وہاں مہلک ترین کیمیائی ہتھیار ہیں۔ جب عراق تباہ ہوچکا تو عقدہ کھلا کہ یہ سب تو عراق پہ حملہ کرنے کا ایک بہانہ تھا۔ میرا خیال ہے کہ شام حملے کے لئے بھی امریکہ کے صدر ٹرمپ نے وہی امریکی تاریخی جنگی رویہ اپنایا۔ کیا واقعی شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی لیبارٹری کو نشانہ بنایا گیا؟ یا شام میں ایرانی و روسی ہتھیاروں کے ذخائر تباہ کئے گئے۔ ٹرمپ کا بیان ہے کہ امریکہ ،

شام پر ایک اور حملہ کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔ دنیا میں امن پسند امریکی جارحیت کے خلاف مظاہرے تو کر رہے ہیں،اصل مسئلہ مگر یہ ہے کہ خطے میں نیا جنگی رحجان تیزی سے اپنا اثر دکھا رہا ہے۔ شام بہانہ ہے، اصل اہداف خطے میں مسلسل جنگی ماحول پیدا کرکے پاکستان، چین، ایران اور روس کو دفاعی پوزیشن کی طرف دھکیلنا ہے۔ شام پر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا حملہ سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر ہوا، البتہ اس حملے کی دعوت سعودی عرب کوئی چار سال پہلے دے چکا تھا کہ امریکہ شام پر حملہ کرے تو اس حملے کے سارے اخراجات سعودی عرب برداشت کرے گا۔ اس وقت اوبامہ نے تو یہ حماقت نہ کی،

البتہ ٹرمپ دنیا کے لئے اپنے خطرناک عزائم کے ساتھ سامنے آچکا ہے۔ ہاں اسلامی فوجی اتحاد کی مشقیں کیوں اور کس کے لئے ہیں؟ دنیا کو ایک نئے عمرانی معاہدے اور جنگ بندیوں کے لئے کسی موثر ادارے کی تشکیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ پہ طاقت ور ممالک کا غلبہ ہے، اگرچہ یہ ادارہ اپنے چند اچھے اور موثر کاموں کے باوجود دنیا کو جنگوں سے بچانے میں نا کام رہا۔ کیا روس امریکی مفادات کو خطے اور دنیا میں نقصانات پہنچائے گا؟ یقیناً روس ایسا کرے گا، ایک نئی جنگ ایک تیسری عالمی جنگ کے گہرے بادل چھا چکے ہیں۔ اللہ کرے عالمی دانش ور اور حکمت کار اس عذاب سے عالم انسانیت کو بچا لیں۔ اس جنگ سے بچنے کے لئے حکمت کی ضرورت ہے نہ کہ کھوکھلے نعروں کی۔

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...