منگل , 24 اپریل 2018

بھارت کی ہٹ دھرمی

(افشاں ملک)

بھارت ایک ایسا ملک ہے جو خطے میں اپنے تئیں اجارہ داری قائم کر چکا ہے اسی زعم کے پیش نظر وہ دیگر ممالک کیساتھ برتاؤ کرتا ہے، بھارت نے ایک بار پھر اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ 2016ء میں بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث انیسویں سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ہوگئی تھی، بھارت نے اڑی کیمپ پر حملے کو بہانہ بنا کر اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ سارک کا آخری سربراہ اجلاس 2014ء میں کھٹمنڈو میں ہوا تھا اور دو سال بعد اس کا انعقاد اسلام آباد میں ہونا تھا جو بھارت کے انکار کی وجہ سے نہیں ہوسکا تھا، سارک چارٹر کے مطابق اب,

اجلاس جب بھی ہوگا، اسلام آباد میں ہی ہوگا اس کے بعد ہی کہیں اور ہو سکتا ہے، اسلئے مودی جب تک بھی بائیکاٹ کرتے رہیں انہیں(یا ان کے کسی جانشین کو) اجلاس میں شرکت کیلئے اسلام آباد آنا ہی پڑے گا یا پھر یہ معاملہ طویل عرصے تک کھٹائی میں پڑا رہے گا۔ابتدا میں سارک کانفرنس سات جنوبی ایشیائی ملکوں نے قائم کی تھی جس کیلئے بنگلہ دیش کے اس وقت کے صدر ضیاء الرحمٰن بہت زیادہ متحرک تھے اور انہوں نے اس کی تشکیل کیلئے کافی محنت کی تھی، لیکن تنظیم کی تشکیل کے وقت اس سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں شومئی قسمت کہ وہ پوری نہیں ہوسکیں، جس کی بنیادی,

وجہ بھارت کا رویہ ہے جو رکن ملکوں میں رقبے، آبادی اور وسائل کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے اور اپنی اس حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے وہ باقی ملکوں پر رعب جمائے رکھنا چاہتا ہے۔ ان سب ممالک میں صرف پاکستان ہی ہے جو آزادانہ حیثیت میں اس کے مدمقابل کھڑا رہتا ہے اور سارک میں بھارتی ڈکٹیشن قبول نہیں کرتا اسلئے جب بھی اسلام آباد میں سربراہ کانفرنس یا وزرائے خارجہ کا اجلاس ہونا ہوتا ہے وہ کوئی نہ کوئی اڑچن ڈال دیتا ہے، 2016ء میں بھی نریندر مودی نے ایسا ہی طرزعمل اختیار کیا تھا اور اب بھی ان کے ارادے کچھ ایسے ہی محسوس ہوتے ہیں۔سارک کانفرنس کے چارٹر کے مطابق رکن ملکوں کے,

باہمی تنازعات اس کے پلیٹ فارم پر زیر بحث نہیں آسکتے، معلوم نہیں چارٹر میں یہ شق شامل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آگئی تھی کیونکہ اگر رکن ملک آپس کے تنازعات کو مل بیٹھ کر گفت وشنید کے ذریعے حل کرلیں تو اس سے اچھی کیا بات ہوسکتی ہے لیکن بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر جیسے مسائل اتنے گمبھیر اور پیچیدہ ہیں کہ بھارت یہ مسائل حل کرنے کیلئے ستر سال سے گریزاں ہے یہی وجہ ہے کہ محض کشمیر کا ذکر آنے پر ہی سارک کے مختلف اجلاسوں میں بھارتی مندوبین آتش زیرپا ہو جاتے ہیں اور اجلاسوں میں تلخی اور بائیکاٹ کی نوبت تک آجاتی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ سارک کانفرنس,

آج تک اپنے تشکیلی اہداف بھی اسی لئے حاصل نہیں کر سکی کہ اس کے وجود پر بھارت کا منحوس سایہ ہے جس کی وجہ سے سارک ایک ایسے درخت کی مانند بن کر رہ گئی ہے جو پوری طرح نشوونما نہیں پاسکا اور نہ ہی اپنے مقاصد حاصل کرسکا، 2016ء میں سارک کانفرنس کے انعقاد کی تمام تیاریاں مکمل تھیں اسلام آباد کو مہمانوں کے استقبال کیلئے سجا دیا گیا تھا کہ اچانک بھارت نے شرکت سے انکار کر دیا اور بھوٹان، بنگلہ دیش اور افغانستان کو بھی اپنی راہ پر لگا لیا ویسے تو ایک رکن بھی شرکت سے انکار کر دے تو سربراہ اجلاس نہیں ہو سکتا لیکن بھارت نے تین دوسرے ارکان کو اپنے ساتھ ملا کر یہ,

تاثر دیا کہ یہ ملک بھی پاکستان کیخلاف ہیں۔ بھارت نے اجلاس میں عدم شرکت کیلئے جو عذر لنگ تراشا تھا وہ یہ تھا کہ بھارت دہشت گردی کا شکار ہے حالانکہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ کوئی ملک اگر دہشت گردی سے متاثر ہوا ہے تو وہ پاکستان ہے، پاکستان کے اندر دہشت گردی کی جو وارداتیں ہوتی ہیں ان میں ایسے لوگ ملوث پائے جاتے ہیں جو افغانستان سے تربیت حاصل کرکے آتے ہیں، ان کی تربیت میں بھارت کا کردار بھی ہوتا ہے لیکن پاکستان نے اس بنیاد پر کبھی کسی کانفرنس میں شرکت سے انکار نہیں کیا بلکہ اگر بھارت ایسی کسی عالمی کانفرنس کو اپنے مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے.

تو پاکستان ڈٹ کر اپنا دفاع کرتا ہے۔امرتسر کانفرنس میں یہی ہوا تھا جب مودی نے اس کانفرنس کو پاکستان کیخلاف استعمال کرنے کی کوشش کی تو روس، چین اور ترکی جیسے ملکوں نے بھارتی موقف کو رد کیا۔ پاکستان نے اپنا موقف وزنی دلائل کیساتھ پیش کیا اور بھارتی عزائم کو ناکام بنا دیا، بھارت کو سارک کے سلسلے میں اپنا رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور اس تنظیم کوصحیح معنوں میں علاقائی ملکوں کیلئے مفید اور کارآمد تنظیم بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر سارک تنظیم نے اسی طرح افناں وخیزاں انداز میں چلنا ہے تو کیا ضروری ہے کہ پاکستان اس کا ملبہ اٹھا کر چلتا رہے اس بوجھ کو اتار کر پھینک کیوں نہ,

دیا جائے؟ اگر بھارت ہر چند سال بعد کانفرنس کو ناکام بنانے کیلئے کوئی نہ کوئی نیا حربہ آزمانے کی روش ترک کرنے کیلئے تیار نہیں تو ایسی تنظیم کے مردہ ڈھانچے کا کیا کوئی فائدہ ہوگا؟ کیا وقت نہیں آگیا کہ پاکستان، بھارت اور سارک میں اس کے باج گزار ملکوں کو بتا دے کہ ایسی اپاہج تنظیم کیساتھ مزید نہیں چلا جا سکتا۔ بہتر ہے اس کی آخری رسومات ادا کرکے اسے دفن کر دیا جائے اور اس کی قبر پر یہ کتبہ لگا دیا جائے کہ یہ وہ تنظیم ہے جو بھارت کی تنگدلی اور ذہنی عسرت کی وجہ سے پھول پھل نہ سکی اور یہ غنچہ بن کھلے ہی مرجھا گیا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران کا ممکنہ جوابی حملہ اسرائیلی خوف ہے یا پھر خواہش ۔۔؟

شام کے ٹی فور ائرپورٹ پر جب سےسات ایرانی آفیسرز اسرائیلی طیارے کے ذریعے سے ...