منگل , 11 دسمبر 2018

شام کا المیہ اور دوہرے معیارات

(ارشاد حسین ناصر)

شام میں حکومت تبدیل کرنا لازم ہے، اس کے بغیر مشرق وسطٰی کی ترقی ممکن نہیں، چونکہ بشار الاسد ایک عرصہ سے یہاں اقتدار پر قابض ہے، یہ غیر جمہوری، غیر منتخب، ڈکٹیٹر، آمر اور ظالم ہے۔ اس نے عوامی حقوق سلب کئے ہوئے ہیں، یہ اقلیتوں کا نمائندہ ہے، اکثریت اس کے خلاف ہے، اس لئے تمام عرب حکومتوں کو حق حاصل ہے کہ وہ خرچہ کرکے امریکہ، اسرائیل کی مدد سے دنیا بھر کے دہشت گردوں کو جمع کرکے اس کی حکومت گرانے کیلئے مسلح گروپس تشکیل دیکر اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں اور یہاں پر موجود اسلامی ثقافت و تاریخ کے تمام آثار کو ملیامیٹ کر دیں اور اسلامی و,

انسانی قدروں کو پائوں تلے روند ڈالیں۔ عالمی قوانین کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا جنگلی قانون نافذ کرکے اپنا مدعا حاصل کرنے کی ہر جہت سے کوشش کریں۔ اس ناپاک مقصد کیلئے کسی قانون، کسی ضابطے، کسی اخلاقی پابندی، کسی انسانی قدر، کسی عالمی سفارتی کوشش، الغرض کسی بھی دستور و قانون کی ضرورت محسوس نہ کریں بلکہ ہر ضابطے کو روند ڈالیں، ہر قانون کو اس کی اوقات یاد دلا دیں۔ جو من میں آئے کر ڈالو، جو بن سکے بنا لو، جو ہوسکے کر لو، کوئی نہیں پوچھے گا۔ اقوام عالم کی انجمن میں آپ کے خلاف کوئی پابندی نہیں لگے گی،

کوئی شرمندگی نہیں ہوگی، یہ سب کچھ گذشتہ 6\7 برسوں سے شام میں کیا جا رہا ہے۔ شام کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی، اس کے ہنستے بستے شہروں کو کھنڈروں میں تبدیل کر دیا گیا، اس کو ٹکڑوں میں بانٹنے کی پوری کوشش کی گئی، اس کے حکمران کو تبدیل کرنے کی ہر طرح سے سازش کی گئی، مگر ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا، رسوائی کے علاوہ کچھ نہ ملا۔امت مسلمہ کا مرکز ہونے کے دعویدار سعودیہ نے جو بھونڈا اور گھٹیا ترین کردار ادا کیا، وہ آشکار ہوچکا، کسی کو ابہام نہیں رہا کہ آل سعود اور آل یہود ایک ہی سکے کے دو رخ کا نام ہے، کسی کو شک نہیں رہا کہ ارض مقدس فلسطین اور قبلہ اول,

کی آزادی کی راہ میں رکاوٹوں کیلئے یہ سب ڈرامہ رچایا گیا تھا۔ اگر جمہوریت اتنی ہی میٹھی محسوس ہوتی تھی تو اپنے ملکوں میں یہ ڈکٹیٹر شپ کیوں؟ اگر آمریت سے اتنی ہی نفرت تھی تو اپنے ملکوں کے عوام کے جمہوری حقوق پر ڈاکہ زنی کیوں؟ اگر بشار الاسد اقلیتی فرقہ کا نمائندہ ہو کر ملک پر حکمرانی کرنے کا حق نہیں رکھتا تو اپنے ملکوں (بحرین، یمن، کویت، حجاز مقدس) میں اقلیتی گروہ حکمران کیسے؟ اگر شام میں اس کے ہمسایوں کو اس کے خلاف مسلح جتھے تشکیل دینے اور انہیں اینٹ سے اینٹ بجانے کا اختیار مل سکتا ہے تو انہی ملکوں میں جبر کے ذریعے عوامی حقوق کے حصول کیلئے,

کوشاں گروہوں کی مدد کس طرح غیر قانونی و مداخلت ہوگئی۔؟ آل سعود نے امریکہ اسرائیل کے ساتھ مل کر جو گھاٹے کا سودا کیا، اس کی سزا یقیناً اسے ملے گی، شام و عراق کے خلاف ان کی کارستانیاں کھل کر سامنے آچکی ہیں۔ یمن میں عوامی حقوق کی جدوجہد کے خلاف جنگی جرائم بھی آل سعود کی امت مسلمہ کے خلاف کارستانیوں اور عالمی استعمار کی خدمت کا بہت واضح ثبوت کے طور پر دیکھے جائیں گے۔ تاریخ میں یہ محفوظ رہیگا کہ آل سعود نے حرمین مقدس کی آڑ میں اہل یمن سے جینے کا حق چھین لیا، ان پر بدترین بمباری کی اور انہیں جھکانے کیلئے اپنی تمام تر کوشش کے باوجود ناکامی و,

نامرادی سے دوچار ہوئے، ایک غریب اور کمزور مسلمان ہمسائے کو صرف اس بات کی سزا دی گئی کہ ان کا شعار الموت الاسرائیل تھا، ان کا نعرہ الموت الامریکہ تھا، ان کو اس بات کی سزا دی گئی کہ انہوں نے وقت کے طاغوت کو للکارا اور اس کی اطاعت سے اللہ کے حکم کے مطابق انکار کر دیا تھا، کتنے بم ہیں جو اس پاداش میں اہل یمن پر مارے گئے ہیں، کتنے میزائل ہیں جو یمن جیسے پسماندہ اور غریب مگر حمیت و غیرت کے پروردہ عوام پر گرائے گئے ہیں، کیا ان سے تباہی نہیں ہوئی، کیا یہ شہری آبادیوں، اسپتالوں اور معصوم شہریوں پر نہیں گرائے گئے؟کیا صنعا پر میزائلوں کی بارش خدائی حکم کی تعمیل ہے اور جواب,

میں کبھی اکا دکا ریاض کی طرف پھینکے گئے پٹاخے راکٹ حرمین و مقدس مقامات کی توہین کے زمرے میں داخل ہے۔؟ یہ کیسا قانون اور ضابطہ ہے کہ آپ اپنے ہمسائے پر بلا وجہ آگ و بارود کی بارش کرو اور اسے یہ حق بھی نہ ہو کہ وہ اپنی غیرت و حمیت کا اظہار اور اپنی زندگی کا ثبوت دے اور دنیا پر واضح کرے کہ ہم کسی بھی صورت طاغوت کی سرپرستی قبول نہیں کریں گے۔ عجیب ہیں یہ دوہرے معیارات بھی، جو دنیا کو دھوکہ دینے اور سیاست کے نام پر قائم ہیں، حالانکہ یہ دنیا سائنس کی جدید ترین ترقی میں اپنے عروج کی طرف گامزن ہے، اس کے باوجود جھوٹ، افترا، دھونس، دھاندلی، فریب، دھوکہ، منافقت اور دوہرے ,

معیارات کے سہارے ظلم کا بازار گرم ہے۔ ایک چیز کا مطالبہ ہمسائے سے کیا جاتا ہے جبکہ اپنے ہی ملک میں اس کے خلاف طاقت استعمال کی جاتی ہے، اسلام ایک آفاقی و الٰہی دین ہے، اسلامی و دینی جماعتیں تمام تر زور و شور کے باوجود دنیا میں ناکامیوں سے دوچار ہیں تو اس کی وجہ کچھ اور نہیں ان کے دوہرے معیارات ہیں، جو دراصل ان کی قیادتوں کے مفادات کے باعث راسخ ہو جاتے ہیں۔ آپ شام، عراق، بحرین، کویت، یمن، فلسطین، لبنان کو ایک لحظہ کیلئے ایک طرف رکھ چھوڑیں اور اپنے ہی ملک پر نظر دوڑائیں، یہاں بھی اسلام کے نام پر جھوٹ افترا، دھونس، دھاندلی، لوٹ مار، مفاد پرستی، منافقت اور,

دوہرے معیارات چھائے ہوئے ہیں۔ دینی و سیاسی جماعتوں اور تنظیموں میں حق کو قبول کرنے کی روش بہت معدوم ہے، ان کے کارکنان کی تربیت ہی اس نہج پر ہوتی ہے کہ وہ ہر صورت اپنے پسندیدہ گروہ کو ہی لائق کرتا ہے، چاہے ان کا موقف واضح اور آشکارا طور پہ غلط ہو۔ آپ دیکھیں کہ سیاست کے میدان میں کئی جماعتیں ایک صوبے میں جس کی اتحادی ہیں، کسی دوسرے صوبے میں وہ اسی اتحادی کے خلاف میدان میں نظر آتی ہیں۔ ایک جماعت اگر "کے پی کے” میں کسی جماعت کی اتحادی ہے تو وہی جماعت آزاد کشمیر اور پنجاب میں اپنی اتحادی جماعت کے خلاف کھل کے مخالفت میں دکھائی دیتی ہے۔

ابھی سینیٹ کے الیکشن میں کیا کچھ نہیں ہوا، ان کے دوہرے معیارات کو دیکھیں کہ یہ یمن کے مظلوم اور بے کس، غریب عوام پر ہونے والی بمباری کو جائز تسلیم کرتے ہیں اور حلب و غوطہ میں دہشت گردوں کے خلاف اقدامات پر روڈز پر آجاتے ہیں، انہیں سعودی عرب میں بادشاہت سے پیار ہے، بحرین میں آمریتوں سے دل لگی ہے، مگر شام میں انہیں جمہوریت چاہیئے اور ہر قیمت پر چاہیئے۔ اس کیلئے لاکھوں لوگوں کو قربان کرنا پڑے، ملک کو کھنڈر بنانا پڑے، تب بھی کوئی حرج اور اعتراض نہیں۔ انہیں یمن کے مظلوموں کی ایرانی حمایت اور فلسطین کے ستم رسیدہ عوام سے کھلی ہمدردی و مدد پر اعتراض ہے، مگر یہی جماعتیں,

اور ان کے سرپرست افغانستان میں امریکی جہاد کیلئے پوری دنیا سے جہادی اکٹھے کر لیں، شام میں داعش، النصرہ، لیبیا میں القاعدہ لے آئیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ان کا حق ایسے ہی مڑ جاتا ہے، جیسے ان کے مفادات کا قبلہ تبدیل ہوتا ہے، جہاں سے مفادات مل رہے ہوں، اسی طرف حق کو موڑ لیتے ہیں، پھر کیسے سوچ لیا جائے کہ ان کو وہی کامیابی ملے گی، جو حق و سچ کی جدوجہد میں امام خمینی کو ملی، جنہوں نے اڑھائی ہزار سالہ بادشاہت کا تخت الٹ کے رکھ دیا اور عالمی استکبار، استعمار اور ظالمین کو بدترین شکست سے دوچار کیا اور ایسا نظام دے کر گئے کہ آج بھی اس نظام کے تحت,

مظلوموں، محروموں کی مدد اور نصرت جاری ہے، یہ مظلوم اہل یمن ہوں یا اہل شام، انکا تعلق افغانستان سے ہو یا بحرین سے، یہ عراق میں ہوں یا لبنان میں، یہ امریکی ہوں یا یورپین، جو جو بھی ظلم کی چکی میں پس رہا ہے، اسلامی جمہوری ایران اس کی مدد و نصرت کیلئے آمادہ ہے، اس کی قیادت اسلام کے معیارات کو اپنائے ہوئے ہے، نہ کہ اس کے معیارات دوہرے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اللہ اس کو کامیابیاں عنایت کر رہا ہے۔شام کے محاذ پر کامیابیوں کے پس پردہ اصولی موقف ہے اور اس اصولی موقف پر کاربند رہتے ہوئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنا ہے، عراق میں اس کی دہشت گردوں کے خلاف جدوجہد سب کے.

سامنے ہے کہ کس طرح حکمت و تدبر سے عراق کو دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد کروایا، حالانکہ یہی عراق تھا، جس سے ایران نے آٹھ سال تک جنگ کی تھی۔فلسطین کے مظلوموں کی حمایت ایران کا اولین روز سے اصولی موقف ہے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، جس کا وجود اہل فلسطین کے مقدس لہو اور جسم کے ٹکڑوں پر وجود میں لایا گیا ہے، اسے ایک دن مٹنا ہے اور اس سرزمین کے اصل وارثوں نے اس پر لوٹنا ہے، لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ اس اصولی موقف کیلئے وہ ہر خطرہ مول لیتا ہے، فلسطین کے مظلوموں کی مدد کرتا ہے اور کسی بھی ڈر و خوف یا پابندیوں کی دھونس و دھمکی کو خاطر میں نہیں لاتا،

اگر ایران نے اہل عرب کی طرح فلسطین کے مظلومین کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا ہوتا تو شائد صیہونیوں کا گریٹر اسرائیل کا منصوبہ کامیاب ہوچکا ہوتا۔ شام پر حالیہ فضائی حملے جس میں فرانس، برطانیہ بھی امریکہ کے ساتھ شریک ہیں، سے اور کوئی نقصان سامنے آئے یا نہ آئے دنیا کو یہ ضرور پتہ چل گیا ہے کہ امریکہ کی جدید میزائل ٹیکنالوجی کو ایک جنگ زدہ ملک انتہائی کمزور وسائل رکھتے ہوئے ناکام بنا سکتا ہے، عملی طور پر یہ شام کی فتح ہے، یہ ایران کی فتح ہے، یہ مزاحمت و مقاومت کی فتح کا اعلان ہوا ہے، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا، نہ ہی آنے والا ہے، اقوام عالم کی,

انجمن کو ایک بار پھر جھوٹے اور لغو الزامات کے تحت بائی پاس کرتے ہوئے پائوں تلے روند ڈالا گیا، ماضی میں بھی امریکہ ایسا ہی کردار ادا کرچکا ہے، فرق یہ تھا کہ اس وقت بش کیساتھ ٹونی بلیئر کھڑا تھا، اس وقت نشانہ عراق تھا، آج شام۔ سعودیہ نے ان حملوں کے بعد اکتالیس ملکی اتحاد اور اس میں شامل ممالک کے سربراہان کیساتھ افواج کے سربراہوں کا ایک اجلاس بھی بلایا ہے، مگر اپنے مقاصد اور اہداف سے نابلد یہ عسکری اتحاد ایک مسلمان ملک کے خلاف امریکہ کے اس متجاوز، غیر قانونی، غیر انسانی حملوں پر کچھ بھی کرنے کی پوزیشن پہ دکھائی نہیں دیا، جو اس کے وجود کے غیر ضروری ہونے کی علامت و دلیل کہا جا سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...