جمعہ , 14 دسمبر 2018

کیا شاہ سلمان نے سچ میں قدس کے بارے میں امریکی صدر کا فیصلہ مسترد کر دیا؟

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) شاہ سلمان عبد العزیز نے ظہران میں اتوار کو انتیسویں عرب سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کو ایسے حال میں اولین ترجیح قرار دیا کہ امریکی صدر نے سعودی ریالوں کو اینٹھنے اور ملک سلمان کے ہدایا کی لاج رکھنے کے لیے صہیونی ریاست کے مقابلے میں ڈتے ملک شام کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا اگر چہ اسے منہ کی کھانی پڑی۔انھوں نے بظاہر تو امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے امریکی صدر کے فیصلے کی مذمت کی ہے لیکن در پردہ یہودی ریاست کے ساتھ خفیہ روابط مستحکم بناتے ہوئے محاذ مزاحمت پر امریکی میزائل حملے کا نہ صرف خیر مقدم کیا ہے بلکہ اطلاعات کے مطابق ان کے بیٹے اور سعودی ولیعہد نے شام پر داغے جانے والے 110 میزائلوں کی قیمت بھی جارح ممالک کو ادا کی ہے۔

ملک سلمان نے ایسے حال میں امریکی صدر کے فیصلے کی مذمت کی ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو حکومت کے تمام اختیارات دیدیئے ہیں اور ان کا اپنا کردار سعودی عرب میں صرف رسمی اور نمائشی حد تک رہ گيا ہے۔ان کے بیٹے نے چند روز قبل امریکی جریدے اٹلانٹک کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران یہودی ریاست کے منحوس وجود کو تسلیم کرکے امریکی صدر کے فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے “صدی کی ڈیل” کو عملی جامہ پہنانے کے لئے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کو کروڑوں ڈالر کی رقم بطور رشوت دی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیل بیت المقدس میں ‘سفارتی کالونی بنائے گا

یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیلی حکومت نے امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کے بعد شہر ...