منگل , 11 دسمبر 2018

نواز شریف، مریم نواز کی تقاریر پر پابندی کے فیصلہ پر سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے مسلم لیگ (ن) کے تا حیات قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی عدلیہ مخالف تقاریر کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر از خود نوٹس لے لیا۔

چیف جسٹس کی جانب سے فیصلے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی (پیمرا) سے شکایات کا ریکارڈ آج ہی طلب کرلیا۔اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ سے فیصلہ طلب کرلیا جبکہ اٹارنی جنرل اور چاروں ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی عدالت میں طلب کیا تھا۔

بعد ازاں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدلیہ مخالف تقاریر کیس کے فیصلے پر ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی، اس دوران عدالت میں اٹارنی جنرل پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مریم نواز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف اور مریم نواز خود یا وکیل کے ذریعے پیش ہوں کیونکہ فریقین کی نمائندگی ہونا بہت ضروری ہے۔

اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہوسکتا ہے دونوں رہنما آج اسلام آباد میں نہیں ہوں، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ وہ یہی ہوں گے کیونکہ احتساب عدالت میں آج ان کے کیس کی سماعت تھی۔

لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور دیگر رہنماؤں کی عدلیہ مخالف اور توہین آمیز تقاریر کو نشر کرنے پر عبوری پابندی عائد کردی تھی۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں جسٹس عاطر محمود اور جسٹس مسعود جہانگیر پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز سمیت مسلم لیگ (ن) کے متعدد رہنماؤں کے خلاف عدلیہ مخالف تقاریر پر دائر درخواستوں کی سماعت پر فیصلہ سنایا تھا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں پیمرا کو عدلیہ مختلف تقریر سے متعلق زیر التوا درخواستوں کا 15 روز میں فیصلہ سنانے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے ریمارکس دیئے تھے کہ اس دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز سمیت دیگر کوئی بھی شخص عدلیہ مختلف تقریر کرے گا تو پیمرا اس کی نشریات کو روکے گا۔عدالت عالیہ کے عبوری فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ پیمرا نگرانی کا عمل سخت کرے اور کوئی بھی توہین آمیز تقریر یا پروگرام نشر نہیں ہونا چاہیے۔

یاد رہے کہ عدلیہ مخالف تقاریر کے خلاف دائر درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مریم نواز کی جانب سے جلسے، جلوسوں اور سوشل میڈیا پر عدلیہ کو تضحیک کا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ نواز شریف نے عدلیہ کے خلاف بغاوت کا اعلان کر کے عوام کو اکسایا۔انہوں نے بتایا تھا کہ ان رہنماؤں کی عدلیہ مخالف تقاریر کا ریکارڈ عدالت میں جمع کرادیا ہے جبکہ ان تقاریر کو نشر کرنے سے روکنے کے لیے پیمرا کچھ نہیں کررہا۔

یہ بھی دیکھیں

82 سال پرانا ریکارڈ یاسرشاہ کی جھولی میں گرنے کو تیار

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) 82 سال پرانا اہم ترین ٹیسٹ ریکارڈ بھی یاسر شاہ کی جھولی میں ...