منگل , 20 نومبر 2018

طیبہ تشدد کیس میں سزا پانے والے سابق جج، اہلیہ کی ضمانت منظور

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کے کیس میں سزا پانے والے سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی خان اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر کی ضمانت منظور کرلی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے سابق جج اور اہلیہ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سناتے ہوئے خرم علی خان اور ماہین ظفر کو 50 ،50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

واضح رہے کہ سابق جج نے اپنی درخواست میں مؤقف اپنایا تھا کہ سزا ایک سال سےکم ہو تو ضمانت دی جا سکتی ہے، وہ سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنا چاہتے ہیں، لہذا انہیں ضمانت دی جائے۔

سابق جج اور اہلیہ کو ایک، ایک سال قید اور جرمانے کی سزا
اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق ایڈیشنل سیشن جج خرم علی خان اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر کو ایک، ایک سال قید اور 50، 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

طیبہ تشدد کیس کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے سنایا، جو 27 مارچ 2018 کو محفوظ کیا گیا تھا۔

سابق جج اور ان کی اہلیہ کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 328 کے تحت سزا سنائی گئی، جس کے مطابق 12 سال سے کم عمر بچوں کو ملازمت پر رکھنا جرم ہے۔

بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے کیس کا 21 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ بھی جاری کردیا۔

یہ بھی دیکھیں

خیبر پختونخوا میں میڈیکل تعلیم کا حال سب سے برا ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے دو کالجز میں داخلوں پر پابندی لگاتے ہوئے کہا ...