پیر , 28 مئی 2018

شام پر حملے سے یورپ پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں

(تسنیم خیالی)
گزشتہ دنوں ۱۴ اپریل کو شام پر ہونے والےامریکی ، برطانوی اور فرانسیسی حملے سے جہاں شام کو کوئی خاص نقصان نہیں ہوا وہیں اس حملے سے یورپ پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ، بالخصوص حملے میں شریک برطانیہ اور فرانس میںجہاں اپوزیشن حکومت کے خلاف متحرک ہوگئی ہےعام طور پر یورپ میں تقریباً سبھی اس حملے کے خلاف تھے حتیٰ کہ خود برطانیہ اور فرانس میں حملے کے مخالفین حامیوں سے زیادہ تھے، دراصل بیشتر یورپیوں کا تصور یہی تھا کہ دوما میں ہونے والے کیمیائی حملے کے حوالے سے کو ئی شواہد موجود نہ تھے اور بہتر یہی ہوتا کہ دوما حملے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی رپورٹ منظر عام پر آئے اور پھر شام پر حملہ کرنے یا ناکرنے کا فیصلہ کیا جائے۔

البتہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جلد بازی اور بے صبری کی بیماری برطانوی وزیراعظم تھر یسامے اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کو بھی لگ گئی اور انہوں نے شام پر حملے میں امریکہ کاساتھ دیا، اس اقدام سے اب تھر یسامے اور میکرون کو مشکلات کا سامنا ہے اور اپوزیشن ان کے خلاف متحرک ہوگئی ہے، شام پر ہونے والے حملے کے حوالے سے یورپیوں کا ماننا ہے کہ یہ حملہ بے بنیاد ، بے مقصد اور جھوٹے شواہد پر مبنی ہے،اسی بناء پر ماہرتجزیہ نگاروں کاماننا ہے کہ اگر برطانیہ مستقبل قریب میں پھر سے امریکہ کا ساتھ دیتے ہوئے شام کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو امکان ہے کہ تھریسامے کو اپنی حکومت سے ہاتھ دھونا پڑیں گے، شام پر ہونے والے حملے میں حملہ آوروں نے شامی حکومت اور بشارالاسد کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر حملے کے بعد صورت حال یہ ہے یہ ممالک اورحکومتیںخود نشانہ بن گئی ہیں اور اپنے آپ کو ایک مشکل میں پھنسا بیٹھی ہیں۔

شام پر حملہ تو ہو گیا اور حملہ آوروں نے جوکرنا تھا وہ کرلیا اس کے باوجود اس وقت پوری دنیا کو دوما کیمیائی حملے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کا شدت سے انتظار ہےاور نتائج کے آنے کے بعد امریکہ، برطانیہ اور فرانس حقیقی معنوں میں بری طرح پھنس جائیں گے کیونکہ نتائج سے ثابت ہوگا کہ دوما میں کوئی کیمیائی حملہ نہیں ہوا اور سب کچھ ایک جھوٹ تھا، اب دیکھنا یہ ہے کہ نتائج کے آنے کے بعد شام اور روس کا ردعمل کیا ہوگا اس کے علاوہ خود امریکی ، برطانوی اور فرانسیسی ردعمل کیا ہوگا کیونکہ کچھ عرصے بعد ثابت یہی ہوگا کہ انھوں نے جھوٹے الزامات کی بناء پر شام پر حملہ کیا، تحقیقات اس وقت ہورہی ہیں اور نتائج کا بہت جلد اعلان کردیا جائے گا جس کے بعد ایک نیا ایشو کھڑا ہوگا اور ٹرمپ ، تھر یسامے اور میکرون پر مشتمل ’’برائی کے محور‘‘ کو بہت سے سوالات کے جواب دینے ہوں گے۔

یہ بھی دیکھیں

مائیک پمپیو نے بن سلمان کو اسکی اوقات دکھادی

(تسنیم خیالی) امریکہ ایک ایسا ملک ہے جس کے اتحادی اور دشمن ممالک دونوں ہی ...