پیر , 28 مئی 2018

بشار الاسد خطے کی ناپسندیدہ ترین شخصیت


کوئی چاہے یا نہ چاہے لیکن یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد خطے میں بہت سوں کے نزدیک ایک ناپسندیدہ شخص کے طور پر شہرت رکھتے ہیں ۔اسرائیل اسے ایک خوفناک دشمن سمجھتا ہے کیونکہ وہ خطے میں اسرائیل مخالف قوتوں کے ساتھ تعاون کرتے بالکل بھی کتراتے نہیں ۔اخوان المسلمون کی سلفی سوچ سے جنم لینے والی فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کی قیادت دمشق میں بشار الاسد کی گود میں بیٹھ کر ہی اسرائیل کی ناک میں دم کرتی آئی ہے ۔اس فلسطینی گروہ کی پرورش کرتے ہوئے کبھی بھی بشار الاسد یا اس کے باپ حافظ الاسد نے اسے یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ کوئی غیر ہے یا ان میں سرحدوں اور شناختی کارڈ کا فرق ہے ۔

بات یہاں تک بھی محدود نہیں بلکہ بشار الاسد اس لئے بھی ناپسندیدہ شخص ہے کیونکہ اس نےبلاتفریق اسرائیل مخالف ہر گروہ اور ہر سوچ کو مدد فراہم کیا ہے ،خواہ وہ شام اور لبنان میں فلسطینی پناہ گزین ہوں یا پھر پی ایل او سے تعلق رکھنے والے سیکولر مزاحمت کار یا پھر لبنان کی جماعت حزب اللہ سب کے لئے شام اور اس کا صدر ایک مہربان گود کا کردار ادا کرتے آئے ہیں ۔اس کی ناپسندید گی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ دوسرے عرب بادشاہوں اور شہزادوں سے قدرے مختلف ہے جو امریکہ کو مائی باپ کہتے ہیں اور ہر سال اربوں ڈالر کے فرضی سودے کرتے ہیں ۔

بشار الاسد اس لئے بھی ناپسندیدہ ہے کیونکہ وہ نہ تو طویل چھٹیاں گزارنے کسی یورپی ملک کےپورے ساحل سمندر کو کروڑوں ڈالر یومیہ دیکر کرایے پر لیتا ہے اور نہ ہی وہاں کی واہیات بے حیاپرون فلم انڈسٹری میں اپنی پسند کی فلموں میں سرمایہ کاری کرتا ہے ۔اب ایک ایسا شخص کیسے پسندیدہ قرارپاسکتا ہے جو اپنے ملک کے سرمائے کو فلسطینی پناہ گزینوں پر خرچ کرے اور اس میں سے ایک دھیلا بھی امریکہ یا یورپ میں سرمایہ کاری کے عنوان سے ہی سہی خرچ نہ کرے ۔

یہ شخص کیسے پسندیدہ ہوسکتا ہے کہ جو تیل کی ریل پیل سے مالا مال بڑے عرب ملکوں کی اس پائپ لائن کو گزرنے کی اجازت نہ دے جو ترکی کے راستے سے یورپ کے کارخانوں تک پہنچنا چاہتے ہیں ،یہ کیسا شخص ہے جو اسرائیل کو نقصان پہنچانے کے لئے اپنے فائدے کا بھی بالکل ہی نہیں سوچتا ۔فلسطینی مظلومیت اور قبلہ اول کی حمایت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ،کیا دوسرے روزانہ بیانات نہیں دیتے ؟کیا جب بھی غزہ پر اسرائیل بمباری کرتا ہے تو ا سکی مذمت نہیں کرتے ؟کیا بمباری کے بعد تباہ حال گھروں کی تعمیر میں مدد نہیں کرتے ؟آخر فلسطین اور قبلہ اول کو لیکر اتنی بھی جذباتیت اچھی نہیں ۔

دیکھیں ذرا ترکی اور مصر کو ترکی نے پورا فریڈ م فورٹیلا چلایا اور اردگان کی زبان ہمیشہ اسرائیل کی مذمت کرتے تھکتی نہیں ،اب ا سکا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ ترکی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرے اور اپنا اربوں کا نقصان برداشت کرے ،اردگان اب بشار الاسد جیسا جذباتی بھی نہیں ۔بشار الاسد کیا سوچتا ہے کہ باریش حرمین کے خادموں سے زیادہ اسے قبلہ اول اور فلسطینیوں کی فکر لاحق ہے ؟

وہ بھی تو اسرائیلوں کے ساتھ معاملات سیٹل کررہے ہیں تو پھر کلین شیو کرنے والے بشاراسد کو اتنی مخالف کی کیا ضرورت ہے ؟ خادم حرمین بھی کبھی کبھی امریکی یورپی بڑوں کے ساتھ وہسکی یا وائن کا کلاس پکڑلیتا ہے تو بشار الاسد تم تو سیکولر ہو یہودیوں سے سلام دعا لیا کرو ۔۔۔اب کوئی کیا کرے فلسطینیوں کی تقدیر میں ہی روز روز مرنا لکھا ہے ۔۔۔۔۔

بشار اسد تم جیسے سیکولر شخص کو دمشق میں رسول کی نواسی زینب بنت علیؑ اور حسین کی بیٹی سکینہ بنت حسینؑ کے مزاروں کی حفاظت کی فکر کیوں ہے ؟ چھوڑ دے تو تو مذہبی دکھتا ہی نہیں ،کیوں ان مزاروں کی حفاظت کے لئے شیعہ جوانوں کی رضاکار فورسز بناتے ہوئے اور حزب اللہ کو بلاتے ہو ،ایرانی پاسداران کو بلاکر اسرائیل اور سعودی عرب سمیت سامراجوں کی مخالفت مول لیتے ہو۔

بشار الاسد کیسا سر پھراشخص ہے کہ سات سال سےدو درجن ملکوں کے ساتھ جنگ لڑرہا ہے اور اب بھی فلسطین فلسطین کرتا ہے ۔بشار الاسد کو چاہیے تھا کہ عالمی صیہونی لابی کے ساتھ ہاتھ ملاتا اور خطے پر راج کرتا، جیساکہ سارے عرب بادشاہ ،شہزادے اور مطلق العنان حکمران کررہے ہیں ۔

بشار الاسد اس لئے بھی ناپسندیدہ ملک کا صدر ہے کہ وہ عرب عوام کوسامراج کے مقابل مزاحمت ،مقاومت اورڈٹ جانا جیسی اصطلاحات سکھاتا ہے جبکہ وہ اپنے حکمرانوں سے اب تک سامراج کو مائی باپ کے رشتے سے پہچانتے آئے ہیں کہ جن کے ساتھ بات چیت ، مذاکرات اور پھر مذاکرات ،قرارداد جیسے معاملات ہی ہوسکتے ہیں ۔

اب بھلا کوئی بدتمیز ہی ہوسکتا ہے جو مائی باپ کو سامراج ،استعمار،Imperialismجیسے الفاظ سے یاد کرتا ہے ۔ایسے بدتمیز کو سبق سکھانا ضروری ہے ،ایسے بدتمیز کی ہم جدی پشتی عربوں کے درمیان کوئی گنجائش نہیں جومزاحمت ،مقاومت اور غیرت کی باتوں سےغیر عربوں کو ہم عربوں پر برتری دے رہا ہے ۔ایسے گستاخ کو مرجانا چاہیے اور ایسے گستاخ کو ختم کردینا ہی اچھا ہے ۔آؤ امریکہ مارو اس گستاخ کو، آو ٔبرطانیہ۔۔۔ فرانس تم بھی آؤ ۔۔خرچہ پانی ہم دینگے بس تم اسے مارو یہ بڑا گستاخ ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مائیک پمپیو نے بن سلمان کو اسکی اوقات دکھادی

(تسنیم خیالی) امریکہ ایک ایسا ملک ہے جس کے اتحادی اور دشمن ممالک دونوں ہی ...