منگل , 23 اکتوبر 2018

شام پر حملے کے مقاصد کیا تھے؟

شامی فوج اس وقت دہشت گردی کے خلاف حقیقی جنگ کا اگلا مورچہ ہے، وہی دہشت گردی جو کسی بھی وقت مغربیوں کے شیش محلوں کو نقش خاک کرسکتے ہیں لیکن ان کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے وہ دہشت گردوں کو بچا رہے ہیں۔

انھوں نے گذشتہ 7 برسوں کی شامی خانہ جنگی میں دہشت گردوں کی ہر قسم کی مدد بھی کی تھی اور دہشت گردوں سے شام اور عراق کا چوری شدہ تیل بھی خریدتے رہے اور جب بھی دہشت گرد شامی افواج اور محاذ مزاحمت کے نرغے میں آئے مغرب نے شور مچا کر اور قراردادیں منظور کروا کر مجاہدین کے راستے میں روڑے اٹکائے۔

داعش، ہلیری کلنٹن کے بقول ان کی اپنی ذاتی پیداوار تھی جس کو انھوں نے لیبیا، مصر، یمن اور شام میں استعمال کیا اور اب اس کو اگلی جنگ کے لئے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔

ادھر مغربی دنیا کے طیارہ بردار جہاز ـ جس کو اسرائیل بھی کہا جاتا ہے ـ کو خطرات لاحق ہیں، تحریک واپسی نے اس کی ناک میں دم کردیا ہے اور محاذ مزاحمت کی طاقت میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ چنانچہ اس کے زخموں پر مرہم رکھنا بھی مقصود تھا۔

امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے حال ہی میں شام پر حملے کے عوض کئی ارب ڈالر کی خطیر رقم آل سعود کے ناتجربہ کار ولیعہد سے وصول کرلیئے تھے چنانچہ نمک حلال کرنا بھی مقصود تھا اور سعودی خزانے سے مسلسل اتصال بھی!

عراق اور شام میں داعش کی خلافت کے خاتمے سے ایران کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدیں بھی محفوظ ہوچکی ہیں اور یہ بات صدر ٹرمپ کو ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی چنانچہ گھبراہٹ کی حالت میں شام کے خلاف حملے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ: ایران داعش کی نابودی سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا ،ہم قطر، سعودیہ اور امارات کی مدد سے ایران کو اس کامیابی سے فائدہ نہیں اٹھانے دیں گے۔

گوکہ تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس کوئی بھی عسکری، تزویری اور معاشی یا سیاسی اور اخلاقی جواز نہیں ہے کہ وہ شام پر حملہ کرے لیکن لمبی مدت کی رجزخوانیوں اور علاقے میں بھاری مقدار میں فوجی نقل و حرکت کے پیش نظر بھی اور 2013 میں اعلان کردہ جنگ سے امریکہ کی پسپائی کے بعد دوسری مرتبہ پسپائی امریکہ کے لئے مزید ذلت اور خفت کا سبب ہورہی تھی چنانچہ انھوں نے محدود حملہ کرکے ان بدنامیوں سے جان چھڑانے کی کوشش کی۔

روس، ایران اور ترکی شام کے بارے میں فیصلہ کرنے والے تین ممالک ہیں جن کے مسلسل اجلاس بھی منعقد ہورہے ہیں اور یہ بات امریکہ اور یہودی ریاست نیز یورپی ممالک کے لئے قبول نہ تھی اور امریکہ کو امید تھی کہ اس حملے سے شامی حکومت اور اس کے حلیفوں کی پوزیشن مجروح ہوگی اور ممکنہ اگلے مذاکرات میں شامی حکومت سے اپنے لئے بھی اور اپنے حلیف عبریوں اور عربوں کے لئے بھی رعایتیں حاصل کرسکیں گے چنانچہ انھوں نے یہ محدود حملہ سرانجام دیا۔ ایک بڑا مقصد یہ تھا کہ غوطہ شرقیہ میں شام اور محاذ مزاحمت کی عظیم کامیابی کو چھپایا جائے اور دنیا کی رائے عامہ کو ان کامیابیوں سے منحرف کیا جائے۔

ایک مقصد یہ بھی تھا کہ روس اور شام کی درخواست پر کیمیائی تخفیف اسلحہ کی بین الاقوامی تنظیم کے کچھ وفود شام روانہ ہوگئے تھے اور اگر وہ پہنچ کر وہاں سے رپورٹ دیتے تو ان کے پاس مطلق العنانیت پر مبنی حملے کا کوئی جواز باقی نہ رہتا۔ چنانچہ انھوں نے ان کے کام شروع کرنے سے پہلے ہی شام پر حملہ کیا۔

مغرب کو شام اور عراق میں وسیع ناکامیوں اور اندرون ملک ناکامیوں کی وضاحت کرنے کے مطالبات کا سامنا تھا چنانچہ انھوں نے حملہ کیا گوکہ یہ حملہ فاتح ملکوں کا نہیں بلکہ ناکام ملکوں کا حملہ تھا اور ان تین ملکوں اور ان کے علاقائی حلیفوں کو اس حملے کے بعد زیادہ صراحت کے ساتھ معلوم ہوچکا ہے کہ شام کے مستقبل میں ان کا کوئی کردار نہيں ہوگا اور امریکہ کو بھی اپنے دوہزار سپاہی فوری طور پر شام سے نکالنا پڑیں گے۔

آج اگر مغرب طاقتور ہے اور اقوام عالم ان سے بازخواست کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو تاریخ نے کم از کم ان کے اس نامنصفانہ اقدام کو ثبت کرلیا تھا اور کسی دن تو ضرور انہیں ان اقدامات کے آگے جوابدہ ہونا ہی پڑے گا۔

لیکن انہیں یہ سارے مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور محاذ مزاحمت ـ بشمول شام، ایران، روس اور حزب اللہ ـ نے گذشتہ سات برسوں سے کچھ انداز سے عمل کیا ہے کہ فتح و نصرت ان کے قدم ضرور چومے گی۔بشکریہ ابنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

"انفرادی” مزاحمتی حملوں سے غاصب صہیونیوں کی نیندیں حرام!

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران فلسطینیوں کی طرف سے ...