پیر , 22 اکتوبر 2018

انسانی جانوں سے کھیلنے کا سفارتی لائسنس

احمد شاہ)
اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ملٹری اتاشی جوزف ایمانیول کا نشے میں دھت ہو کر گاڑی چلانے اور ایک نوجوان کو ہلاک اور ایک کو زخمی کرنے کے واقعے نے پاکستانی عوام کے پرانے زخم تازہ کردیے۔ امریکی سفارتکاروں کی جانب سے پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی اور انسانی جانوں کے ارزاں سمجھے جانے پر پاکستان میں امریکی سفارت خانے اور اس کے اہلکاروں کیخلاف شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق سفارت خانے کے اہلکاروں کو تعینات کردہ ملک کے سول اور کرمنل قوانین سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ پراپرٹی خریدنے اور دیگر اثاثوںکی منتقلی کے حوالے سے قوانین میں تھوڑی سی تبدیلی پائی جاتی ہے لیکن ویانا کنونشن آن ڈپلومیٹک ریلیشنز (وی سی سی آر) 1961ء کے آرٹیکل 31 کے تحت کسی بھی سفارتکارکو اس ملک کے قوانین کے تحت سزا نہیں دی جاسکتی جہاں پر وہ تعینات ہوتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ کوئی بھی سفارتکار اپنی مرضی کے مطابق جو چاہے کر سکتا ہے کیونکہ مذکورہ کنونشن کے آرٹیکل 41 کے مطابق سفارتکار پر لازم ہے کہ وہ اس ملک کے قوانین کا احترام کرے جہاں پر وہ رہتا ہے اور اپنے ملک کی عزت وتکریم کا خیا ل کرے کیونکہ وہ دوسرے ملک میں اپنے ملک کے نمائندے کے طور پر کام کرتا ہے۔ سفارتی استثنیٰ کے برعکس قونصلر کو حاصل ہونے والے استثنیٰ کو ویانا کنونشن آن قونصلر ریلیشنز (وی،سی،سی،آر) 1963ء میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے جس کے مطابق قونصلر کو صرف اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران پیش آنے والے کسی بھی واقعے پر استثنیٰ حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قونصل خانے کے ملازمین کو صرف پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کے دوران استثنیٰ حاصل ہے جبکہ سفارت خانے کے ملازمین کو ذاتی کام کے دوران بھی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔

پاکستان ان دونوں بین الاقوامی معاہدوں (وی سی سی آر اور وی سی ڈی آر) کا دستخط کنندہ ہے اور ڈپلومیٹک اینڈ قونصلر پری ویلیجز ایکٹ 1972ء کے ذریعے ان کا اطلاق بھی کرچکا ہے کیونکہ کرنل ایمانیول ایک سفارتی ایجنٹ ہیں اسلئے پاکستان ان کیخلاف صرف ایک اقدام اُٹھا سکتا ہے اور وہ ہے مذکورہ ملٹری اتاشی کو ناپسندیدہ فرد قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دینا۔ اس کے علاوہ پاکستان چند دیگر طریقوں سے بھی کرنل ایمانیول کیخلاف اقدامات کر سکتا ہے جن میں سے پہلا امریکہ کوکرنل کے سفارتی استثنیٰ ختم کرنے کی درخواست کرنا ہے۔ اس درخواست میں پاکستان کی جانب سے کہا جاسکتا ہے کہ کرنل ایمانیول نے اپنی سفارتی رعایت کا غلط استعمال کیا ہے جس کی وجہ سے ان کا استثنیٰ ختم کیا جائے تاکہ پاکستان کے قوانین کے مطابق ان پر مقدمہ چلایا جاسکے۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی ملک کسی دوسرے ملک میں اپنے سفارتی عملے کا استثنیٰ ختم کردے اور ایسا اس صورت میں ہوتا ہے جب سفارتی عملہ بھیجنے والے ملک پر بہت زیادہ دباؤ ڈالاجائے یا مذکورہ ملک کو بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ کی خرابی کا اندیشہ ہو۔

جنوبی کوریا میں تعینات امریکی فوجیوںکا استثنیٰ اس وقت ختم کیا گیا تھا جب ان پر جنسی زیادتی کے الزام عائد ہوئے تھے جن کی وجہ سے امریکہ نے ان پر جنوبی کورین قوانین کے تحت مقدمات چلانے کی اجازت دے دی تھی۔ حالیہ حادثے کی بات کی جائے تو پاکستان امریکہ سے یہ درخواست بھی کرسکتا ہے کہ کرنل جوزف ایمانیول پر امریکی عدالت میں امریکی قوانین کی خلاف ورزی کا مقدمہ چلایا جائے۔ امریکہ میں نشے میں دھت ہو کر گاڑی چلانا بہت بڑا جرم ہے اور امریکی ریاستوں کے اندر سفارتکاروں کو بھی اس جرم سے استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔سفارتی استثنیٰ کا قانون ایک متنازعہ قانون ہے اور بہت سے ماہرین اس کے حق میں اور اس کیخلاف اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ روڈ ایکسیڈنٹ کی صورت میں کچھ ممالک متاثرہ فریق کو زرِ تلافی بھی ادا کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کچھ ممالک اپنے سفارت خانے کی گاڑیوں کی انشورنش کرواتے ہیں تاکہ ادائیگی انشورنش سے حاصل ہونے والی رقم سے کی جاسکے۔ ایسے خطرات میں مزید کمی کیلئے سفارتکاروں کی نقل وحرکت کو محدود بھی کردیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ کوئی بھی دو ممالک ایسا کوئی معاہدہ کرسکتے ہیں جس کے تحت ایسے کسی بھی واقعے کے بعد سفارتکار کے استثنیٰ کو اس ملک کی جانب سے ختم کردیا جائے جس کی وہ نمائندگی کر رہا ہو۔ اگراسلام آباد میں ہونے والے حالیہ واقعے کی بات کی جائے تو پاکستان کی جانب سے مندرجہ بالاکوئی بھی اقدام کیا جانا خارج ازامکان ہے۔ حال ہی میں ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کو ’’سبق‘‘ سکھانے کیلئے پاکستان کی امداد میں خاطر خواہ کمی کی ہے جس کی وجہ افغان طالبان کی معاونت کرنا بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کی کوششوں کی وجہ سے رواں سال جون میں پاکستان کو گلوبل ٹیرر لسٹ میں بھی شامل کردیا جائے گا۔ ان حالات اور پاکستانی وزارتِ خارجہ کی خاموشی کو مدِنظر رکھتے ہوئے باآسانی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان 22 سالہ نوجوان عتیق بیگ کی ہلاکت پر ایسا کوئی ردِعمل نہیں دینا چاہتا جس سے امریکہ مزید ناراض ہوجائے۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

"انفرادی” مزاحمتی حملوں سے غاصب صہیونیوں کی نیندیں حرام!

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران فلسطینیوں کی طرف سے ...