بدھ , 15 اگست 2018

شہید آیت اللہ سید محمد باقر صدر کی زندگی کی مختصر داستان

الشهيد محمد باقر الصدر

مکمل نام :سید محمد باقر صدر
تاریخ پیدائش :یکم مارچ 1935
جائے پیدائش :کاظمین ، عراق
والد : سید حیدر الصدر
والدہ : شیخ عبد الحسین آل یاسین کی صاحبزادی
دادا : سید اسماعیل صدر ( چودہویں صدی ہجری کے نیمہ اول میں شیعہ مراجع تقلید میں سے تھے)
رہائش :نجف اشرف، عراق
تاریخ شہادت:18اپریل1980ء
مدفن: قبرستان وادی السلام، نجف اشرف، عراق
نامور اقرباء:امام موسی صدر(چچا زاد ) ، سید محمدصادق صدر(چچا زاد ) ،مقتدیٰ صدر ( داماد )،آمنہ’’ بنت الھدی‘‘ صدر(ہمشیرہ )

سید محمد باقر صدرعراق سے تعلق رکھنے والے شیعہ مرجع تقلید اور مفکرہیں۔ انہوں نے دینی علوم کی تعلیم آیت اللہ خوئی اور نجف اشرف کے دوسرے علماء سے حاصل کی۔ بیس سال کی عمر سے پہلے ہی انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کر لی اور نجف کے حوزہ علمیہ میں دینی علوم کی تدریس میں مشغول ہو گئے۔ سید محمد صدر، سید محمد باقر حکیم، سید کاظم حسینی حائری اور سید محمود شاہرودی ان کے تلامذہ میں سے ہیں۔

سید محمد باقر صدر نے اصول فقہ، فقہ، فلسفہ سیاست اور معرفت شناسی جیسے علوم میں جدید نظریات پیش کئے ہیں۔ ان کے بعض مشہور نظریات یہ ہیں: نظریہ حق الطاعۃ، توالد ذاتی معرفت و منطقۃ الفراغ، انہوں نے بہت ساری کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں سے مہم ترین فلسفتنا، اقتصادنا، دروس فی علم الاصول (مشہور بہ حلقات) اور الاسس المنطقیہ للاستقراءہیں۔

حزب الدعوۃ الاسلامیۃ جیسی تنظیم کی تاسیس میں مشارکت، عراق کی بعث پارٹی میں مسلمانوں کی رکنیت کی حرمت کے سلسلہ میں فتوی صادر کرنا اور جنوب عراق کے شہروں اور بغداد کے شیعہ نشین علاقوں میں مظاہروں کی دعوت دینا، ان کے بعض سیاسی کارنامے ہیں۔ یہ اقدامات سبب بنے کہ صدام حسین نے انہیں اور ان کی ہمشیرہ آمنہ صدر کو گرفتار کرکے شہید کر ڈالا۔

ولادت اور خانوادہ:
سید محمد باقر صدر، یکم مارچ 1935ء میں عراق کے شہر کاظمین میں پیدا ہوئے۔ان کے والد سید حیدر صدر عاملی اور والدہ شیخ عبد الحسین آل یاسین کی بیٹی ہیں۔ان کے دادا سید اسماعیل صدر چودہویں صدی ہجری کے نیمہ اول میں شیعہ مراجع تقلید میں سے تھے۔ ان کا سلسلہ نسب امام موسی کاظم علیہ السلام اور ان دینی علماء تک پہنچتا ہے جو ایران، لبنان اور عراق میں زندگی بسر کرتے تھے۔

ان کے بڑے بھائی اور استاد سید اسماعیل صدر کا شمار بھی نجف اشرف کے جوان مجتہدین میں سے ہوتا تھا ۔ ان کی ہمشیرہ بنت الہدی (آمنہ صدر) شاعرہ اور مصنفہ تھیں جنہیں ان کے ساتھ گولی مار کر شہید کردیا گیا تھا ۔ تین سال کی عمر میں وہ والد کے سایہ سے محروم ہو جاتے ہیںاور اپنی والدہ اور بھائی سید اسماعیل صدر کے زیر سایہ پروان چڑھتے ہیں۔

حصول تعلیم:
شہید صدر نے اپنی ابتدائی تعلیم کو تین سال میں مکمل کر لیا اور اس کے بعد دینی و حوزوی تعلیم کا آغاز کیا۔ انہوں نے محمد رضا مظفر کی کتاب المنطق اور معالم الاصول کو اپنے بڑے بھائی سید اسماعیل صدر سے پڑھا۔ انہوں نے حوزہ میں سطوح کے دروس کو نہایت کم مدت میں مکمل کیا۔ ان کے سطوح کے اساتذہ میں محمد تقی جواہری، عباس شامی، سید باقر شخص، صدرا بادکوبی اور سید محمد روحانی شامل ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے سید ابو القاسم خوئی اور شیخ محمد رضا آل یاسین کے فقہ و اصول کے درس خارج میں شرکت کی۔

شاگرد:
سید محمد باقر صدر نے بیس سال کی عمر میں کفایۃ الاصول کی تدریس کا آغاز کیا۔ پچیس سال کی عمر میں انہوں نے اصول فقہ کے درس خارج اور اٹھائیس برس کے سن میں فقہ کے درس خارج کی ابتداء کی۔ انہوں نے تقریباً تیس سال کے عرصہ تک تدریس میں بہت سے شاگردوں کی تربیت کی۔ ان میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:

سید محمد باقر حکیم ،سید نورالدین إشکوری ،سید محمودہاشمی شاہرودی،سید کاظم حسینی حائری ،سید عبدالہادی حسینی شاہرودی ،سید عبدالغنی اردبیلی،سید کمال حیدری ،سید محمد باقر مُہری ،سید حسین حسینی شاہرودی ،غلام رضا عرفانیان ،محمد باقر ایروانی ،محمد رضا نعمانی ،سید محمد غروی ،حسن عبد الساتر۔

مرجعیت:
شہید صدر نے اپنے سابقہ علمی، جدید ترین علمی مسائل پیش کرنے اور آیت اللہ خوئی کی حمایت کی وجہ سے بہت کم عرصہ میں خواص و عوام کے درمیان میں مقبولیت حاصل کر لی۔ ان کی سیاسی فعالیت خاص طور پر حزب الدعوۃ الاسلامیہ کی تاسیس عوام کے ان کی طرف اور زیادہ مائل ہونے کا سبب بنی۔ عراق و لبنان میں عوام کے بہت سے گروہ ان کی تقلید کرنے لگے تھے۔

سیاسی و سماجی فعالیت:
حزب الدعوۃ الاسلامیہ کی تشکیل:
1957ء میں شہید صدر نے عراق کے بعض علماء کے ساتھ مل کر، عراقی مسلمانوں کی سیاسی فعالیت کو منظم و مرتب کرنے کی غرض سے حزب الدعوۃ الاسلامیۃ کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے پانچ سال کے بعد بعض مصلحتوں کی بناء پر اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ لیکن وہ اس کے دوسرے اعضاء و اراکین کو اس میں کام کرنے رہنے کی تاکید کرتے تھے۔

جماعۃ العلماءکے ساتھ تعاون:
سید محمد باقر صدر کا تعاون جماعۃ العلماء فی النجف الاشرف کے ساتھ بھی رہا۔ جس کے ارکان میں شیخ مرتضیٰ آل یاسین، شیخ محمد رضا مظفر اور سید مھدی حکیم جیسے علماءشامل تھے۔ وہ جوان ہونے کے سبب اس کے ارکان میں شامل نہیں تھے مگر ان کے ساتھ سنجیدہ طور پر تعاون کرتے تھے اور جماعۃ العلماء کے بعض بیانات اور مجلہ الاضواء میں شائع ہونے والے بعض مقالات کو وہ خود تحریر فرمایا کرتے تھے۔

انقلاب اسلامی ایران کی حمایت:
سید محمد باقر صدر، ایران میں امام خمینی کی تحریک کی حمایت کرتے تھےاور آپ نے اپنی چھ جلدی کتاب الاسلام یقود الحیاۃ اسی مقصد کے تحت تالیف کی۔ نجف اشرف میں امام خمینی کی سکونت کے ایام میں بھی وہ ان سے نزدیکی رابطہ رکھتے تھے۔

شہید صدر نے امام خمینی کے سلسلہ میں ایک جملہ کہا ہے جس کا مضمون یہ ہے: امام خمینی میں اس طرح جذب ہو جاؤ جیسے وہ اسلام میں جذب ہو گئے ہیں۔

بعث پارٹی سے جڑنے کی حرمت:
جس وقت عراقی حکومت نے تمام عوام کے لئے بعث پارٹی کی عضویت کو ضروری و لازمی قرار دیا تو شہید صدر نے اس کے رد عمل کے طور بعث پارٹی سے ملحق ہونے کے سلسلہ میں حرام کا فتوی دے دیا۔ جس کے نتیجہ میں بہت سے افراد نے اس کا عضو بننے سے پرہیز کیا۔شہید صدر وہ واحد عراقی مرجع تقلید ہیں جنہوں نے اس قسم کا فتویٰ جاری کیا ۔

شہادت:
9اپریل 1980ءعراقی حکومت نے سید محمد باقر صدر کو ۹ ماہ گھر میں نظر بند رکھنے کے بعد گرفتار کر لیا اور ان سے کہا گیا کہ وہ اعلان کریں کہ وہ حکومت سے دشمنی نہیں رکھتے ہیں،اور اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو انہیں قتل کردیا جائے گی۔ شہید صدر نے ان کی بات کو قبول نہیں کیا اور کہا کہ وہ شہادت کے لئے آمادہ ہیں۔آخرکار انہیں18اپریل 1980ء میں ان کی ہمشیرہ آمنہ ( بنت الہدیٰ )کے ہمراہ شہید کر دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں صدام حسین نے خود گولی ماری تھی ۔

محل دفن:
عراقی حکومت نے شہید صدر کے جنازہ کو خاموشی کے ساتھ قبرستان وادی السلام میں دفن کر دیا۔ ۱۹۹۱ ع میں انتفاضہ شعبانیہ کے بعد شیعوں کی قبروں کو مٹانے کی غرض سے اس قبرستان میں بہت سے راستے بنائے گئے۔ جس کے نتیجہ میں شہید صدر کی قبر شاہراہ پر آ گئی۔ جن لوگوں کو ان کے محل دفن کی اطلاع تھی انہوں نے ان کے جنازہ کو وادی السلام میں ہی ایک دوسری جگہ منتقل کر دیا لیکن کچھ عرصہ کے بعد اس وجہ سے کہ دوسرے لوگ بھی قبر سے واقف ہو گئے تھے اسے ایک تیسری جگہ پر منتقل کر دیا گیا۔ آخرکار ماہ مبارک رمضان 2006ء میں شہید صدر کے جنازہ کو شہر نجف کے ورودی دروازہ کے پاس منتقل کیا گیا تا کہ وہاں پر علمی و سماجی ادارے قائم کئے جائیں۔ اس بار قبر کو کھولے بغیر اس کے اطراف کے تمام قطعہ زمین کو اس جدید مقام پر منتقل کیا گیا۔

یہ بھی دیکھیں

ترکی کے صدر اورقطر کے بادشاہ کی ٹیلیفونی گفتگو

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک)ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ٹیلیفون پر قطر کے بادشاہ سے ...