پیر , 22 اکتوبر 2018

اگر بن سلمان نے شام میں امریکی فوجیوں کی جگہ اپنے فوجی بھیجے تو مقابل میں امریکہ سعودی عرب کو کیا دے گا؟

(تسنیم خیالی)
ایک امریکی عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انکشاف کیا ہے کہ شام میں موجود امریکی فوجیوں کی جگہ عرب فوجیوں کی تعیناتی ’’مفت‘‘ میں نہیں ہوگی اور سعودی عرب کو اس کے بدلے امریکہ نے کچھ دینا ہے۔امریکی عہدیدار کے مطابق اگر سعودی عرب اپنے یا پھر اسلامی اتحاد کے فوجیوں کو شام بھیجتا ہے اور اس سارے عمل کی فنڈنگ کرتا ہے تو امریکہ بھی سعودی عرب کو ’’انعام‘‘ دے گا۔

’’انعام‘‘ کے حوالے سے امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں امریکہ متعدد آپشنز پر غور کررہا ہے جن میں سرفہرست یہ آپشن ہے کہ امریکہ سعودی عرب کو امریکہ کا غیر نیٹو رکن اہم اتحادی ممالک کا رتبہ دے،جیسا کہ اس وقت اسرائیل ،اردن اور جنوبی کوریا کی پوزیشن ہے۔

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو امریکہ کے غیر نیٹو رکن اتحادی ممالک کی فہرست میں شامل کرنا غیر معمولی بات ہے ،اس فہرست میں شامل ممالک امریکہ کی طرف سے متعدد امتیازات شامل ہیں اور اگر امریکہ سعودی عرب کو اپنی اس خصوصی فہرست میں شامل کرتا ہے تو امریکہ سعودی عرب پر کسی بھی حملے کی صورت میں اس کے دفاع کے لیے پیش پیش ہوگا اور سعودی عرب کی کسی بھی جنگ میں عسکری طور پر شریک ہوگا۔

سعودی عرب کے موقف کی بات کی جائے تو وہ پہلے سے ہی شام میں ’’اسلامی اتحاد‘‘ کے فوجیوں کو بھیجنے پر آمادگی ظاہر کرچکا ہے اور اسے اس حوالے سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔اگر ایسا ہوجاتا ہے اور سعودی عرب’’اسلامی اتحاد‘‘ کے فوجیوں کو شام بھیج دیتا ہے اور ساتھ ہی امریکہ سعودی عرب کو اپنے خصوصی اتحادیوں میں شامل کرلیتا ہے تو سعودی عرب بے لگام ہوجائے گا اور بن سلمان بے فکر ہو کر علاقے میں مزید کشیدگیاں پیدا کریں گے جو کہ امریکہ کی بھی دیرینہ خواہش ہے۔

میرے خیال میں اگر بن سلمان شام میں امریکی فوجیوں کی جگہ اسلامی اتحاد کے فوجیوں کو بھیج دیتے ہیں تو امریکہ سعودی عرب کو اپنے خصوصی اتحادیوں میں شامل کرلے گا کیونکہ ویسے بھی امریکہ نے ایک عرب ملک کو یہ درجہ دیا ہے اور اس کے لیے ایک اور عرب ملک کو یہ درجہ دینا کوئی بڑی بات نہیں ہوگی۔

اس پورے معاملے میں ایک مخصوص ملک کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے اور وہ ملک ایران ہے،سعودی عرب دراصل ایران کے مقابلے میں خود کو مضبوط کرنا چاہتا ہے تاکہ اگر مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان خدانخواستہ کوئی جنگ ہوتی ہے تو سعودی عرب اکیلا نہ ہو،لہٰذا سعودی عرب کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی اور انعام نہیں کہ اسے امریکہ کےخصوصی اتحادی کا درجہ حاصل ہو۔

اس انکشاف سے ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ سعودی عرب کے اس ’’اسلامی اتحاد‘‘ سے فائدہ صرف سعودی عرب کو حاصل ہوگا۔اسلامی اتحاد کے فوجی متعدد اسلامی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، صرف سعودی عرب سےنہیں مگر ان فوجیوں کے شام جانے سے خصوصی اتحادی کا رتبہ صرف سعودی عرب کو حاصل ہوگا جبکہ باقی ممالک کو اپنے فوجیوں کی جان خطرے میں ڈالنے کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

سعودی عرب نے انتہائی مکاری کے ساتھ اپنی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف نام نہاد اسلامی اتحاد کی تشکیل دی ہے اور واضح ہورہا ہے کہ اس اتحاد کا اصل مقصد دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ سعودی مفادات کا تحفظ ہے اور آنے والے دنوں میں اس کا اندازہ اس اتحاد میں شامل ممالک کو ہوجائے گا۔

یہ بھی دیکھیں

"انفرادی” مزاحمتی حملوں سے غاصب صہیونیوں کی نیندیں حرام!

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران فلسطینیوں کی طرف سے ...