منگل , 23 اکتوبر 2018

جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کی صورت میں ایران کے پاس آپشنز موجود ہیں

(تسنیم خیالی)
آنے والے مئی کے مہینے میں امریکی صدر ٹرمپ نے ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے اعلان کرنا ہے اور امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ٹرمپ اس معاہدے سے امریکہ کی دستبرداری کرنے جارہے ہیں،دیکھا جائے تو ٹرمپ نے صدراتی انتخابات کی مہم کے دوران ایران کے ساتھ طے پائے جانے والے جوہری معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے معاہدے سے امریکہ کی دستبرداری کا وعدہ کیا تھا۔

اقتدار میں آنے کے بعد ٹرمپ نے متعدد مرتبہ عالمی برادری بالخصوص معاہدے میں شامل روس،چین ،برطانیہ ،فرانس ،جرمنی اور ایران کو معاہدے سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ معاہدے میں بہت ذیادہ خامیاں موجود ہیں،جنہیں درست کیا جانا چاہیے ،بصورت دیگر امریکہ اس معاہدے سے دستبردار ہوجائے گا۔

ایران کے لیے معاہدے میں امریکی خواہشات پر مبنی ترامیم یا پھر درستگی کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں اور یہی موقف روس اور چین کا ہے جو کہتے ہیں کہ معاہدہ موزوں ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے لیے فائدہ مند ہے۔

امریکہ کے اتحادی یورپی ممالک بالخصوص برطانیہ،فرانس اور جرمنی بھی ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکہ سے اختلاف رکھتے ہیں،ان کے مطابق یہ معاہدہ ایک تاریخی کامیابی ہونے کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ ایک پیش رفت ہے اور اس معاہدے میں ایسا کچھ نہیں جس پر امریکہ کو تحفظات ہوں۔

یورپی یونین اس وقت معاہدے سے دستبردار نہ ہونے کے لیے ٹرمپ کی منت سماجت کررہا ہے اور اس ضمن میں رواں ماہ جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور فرانسیسی صدر میکرون الگ الگ امریکہ کا دورہ کریں گے اور ٹرمپ کو منانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔جوہری معاہدے کے حوالے سے ایران کا موقف واضح ہے،ایرانیوں کے نزدیک معاہد ہ یہی رہے گا اور اس میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی ایران کو قابل قبول نہیں۔

اس ضمن میں ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران معاہدے سے امریکہ کی ممکنہ دستبرداری کے لیے تیار اور ایران کے پاس امریکہ کو جواب دینے کے لیے متعدد آپشنز موجود ہیں جو کہ امریکہ کے لیے تکلیف دہ بھی ہوں گے،لہٰذا ٹرمپ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل اچھی طرح سے سوچ لے۔

جواد ظریف نے اپنی اس دھمکی میں آپشنز کے بارے میں کچھ نہیں کہالیکن یہ بات واضح ہے کہ ایران امریکہ کو جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ٹرمپ کے فیصلے کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے مگر ایک بات تو طے ہے اور وہ یہ کہ اس اقدام سے سب سے زیادہ نقصان امریکہ کو ہوگا اور امریکہ کے بعد یورپ کو جو ایران کے ساتھ بڑے پیمانے پر اقتصادی معاہدے کر چکا ہے۔

جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد اس معاہدے پر ایران نے مکمل طور پر عمل کیا ہے جس کی گواہی پوری دنیا دے رہی ہے اور سبھی جانتے ہیں کہ امریکہ نے ہمیشہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کی مگر ایران نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا اور امریکہ کی بےضابطگیاں برداشت کیں۔جب یہ معاہدہ طے ہوا تھا تو اس وقت اوباما امریکہ کے صدر تھے، انہوں نے بھی معاہدے کی خلاف ورزی کی اور اب ٹرمپ کے آنے کی نوبت معاہدے سے دستبرداری تک پہنچ گئی ہے،یہ معاہدہ کسی امریکی صدر کا ذاتی عمل نہیں جسے آنے والا صدر ختم کردے،یہ معاہدہ متعدد ممالک کے درمیان طے پایا ہے اور تمام ممالک پر لازم ہے کہ وہ اس پر عمل کریں خواہ اقتدارمیں کوئی بھی ہو اگر امریکہ نے دستبردار ہونا ہی تھا تو پھر معاہدے پر آمادہ کیوں ہوا؟اور اگر امریکہ معاہدے سے دستبردار ہوجاتا ہے تو ایران کا ردعمل تو دور کی بات سب سے پہلے اخلاقی طور پر امریکہ کی ساکھ بدترین انداز میں متاثر ہوگی۔

یہ بھی دیکھیں

کیا آل سعود 9 ستمبر کے واقعہ کی طرح خاشقجی کے معاملے سے بچ پائے گی؟

عبدالباری عطوان (ترجمہ تسنیم خیالی) خاشقجی کے قتل کے معاملے کے حوالے سے سعودی عرب ...