اتوار , 19 اگست 2018

شامی میدان پر مفاد پرستوں کی لڑائی ختم ہونا مشکل کیوں؟

(ڈاکٹر آصف شاہد)
مشن مکمل ہوگیا، سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے 2003ء میں امریکی جنگی بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر کھڑے ہوکر عراق میں کامیابی کا اعلان کیا، اس موقع پر ان کے الفاظ مختلف تھے لیکن ان کے پس منظر میں ایک بینر آویزاں تھا جس پر یہ الفاظ تحریر تھے کہ ’مشن مکمل ہوگیا۔‘

جارج بش جب تک صدر رہے یہ الفاظ ان کا پیچھا کرتے رہے۔ اب ایک اور امریکی صدر ان الفاظ کا نہ صرف استعمال کررہے ہیں بلکہ ان الفاظ کو شاندار فوجی اصطلاح قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع بھی کررہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیمیائی ہتھیاروں کے مبیّنہ استعمال پر شام کے صدر بشارالاسد اور ان کے اتحادی روس کو سخت پیغام پہنچانے کے لیے برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر شامی فوجی تنصیبات پر فضائی حملے کیے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے طویل جنگ کے بجائے محدود فضائی حملے کیے اور کسی جنگی بیڑے پر کھڑے ہوکر اعلان نہیں کیا۔

صدر ٹرمپ کا مشن مکمل تو ہوگیا لیکن سوال یہ ہے کہ مشن آخر تھا کیا؟ شام میں شروع ہونے والی جنگ گزشتہ ماہ آٹھویں سال میں داخل ہوچکی ہے۔ اس جنگ میں شام کے تمام قابلِ ذکر شہر تباہی سے دوچار ہوئے۔ ساڑھے 3 لاکھ سے زائد انسان مارے گئے اور 60 لاکھ بے گھر ہوئے۔ اتنی بڑی تباہی کے باوجود سوال اب بھی یہی ہے کہ کیا 3 بڑی طاقتوں کی بمباری سے شام کا مسئلہ حل ہوگیا؟

شام میں کون کس سے لڑ رہا ہے اور کیوں؟ اس لڑائی کا انجام جاننے کے لیے اس سوال کا جواب جاننا سب سے اہم ہے۔ شام میں داعش کو شکست ملنے کے دعوؤں کے باوجود مسئلہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے کیوں کہ اس کی وجہ شام میں دیگر متحارب قوتوں کے متضاد ایجنڈے اور مفادات ہیں۔

امریکا کے تقریباً 2 ہزار فوجی شام میں تعینات ہیں اور واشنگٹن اس جنگ پر 30 ارب ڈالر خرچ کرچکا ہے اور 2018ء میں شام کے لیے امریکی افواج کو اضافی 13 ارب ڈالر درکار ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع شام سے انخلاء کے لیے تیار نہیں جبکہ صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کے دورہ واشنگٹن کے دوران شام سے جلد از جلد انخلاء کی خواہش کا کھلا اظہار کیا۔

امریکی محکمہ دفاع کا خیال ہے کہ شام سے جلد انخلاء کی صورت میں شکست خوردہ داعش کو آکسیجن مل سکتی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع اپنے مؤقف کے حق میں عراق کی مثال پیش کرتا ہے جہاں سے سابق صدر بارک اوباما نے فوج نکالی تو داعش کو پاؤں جمانے کا موقع ملا۔

شام میں امریکا نے داعش کے مقابلے کے لیے کُردوں کو استعمال کیا اور اب واشنگٹن کُردوں کو تنہا چھوڑنا نہیں چاہتا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ نیٹو اتحادی تُرکی کو بھی ناراض کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ تُرکی ایک طرف امریکا کا اتحادی ہے تو دوسری طرف روس کا دوست بھی۔

تُرکی کے لیے ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ روس کا دوست ہے لیکن صدر پیوٹن کے اتحادی شامی صدر بشارالاسد کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے۔ تُرکی امریکا کے اتحادی کُردوں پر عفرین میں حملے بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ کُردوں کے خلاف تُرکی کا مشن صدر رجب طیب اردوان کی اندرونی سیاست کے لیے بھی اہم ہے۔

صدر اردوان کُردوں کے خلاف فوجی آپریشن سے نہ صرف اس سال کے الیکشن میں سیاسی پوزیشن بہتر بنانا چاہتے ہیں بلکہ شام میں کُردوں کی ممکنہ آزاد ریاست بھی تُرکی کے لیے خطرہ ہے۔ تُرکی میں ڈیڑھ کروڑ کُرد آباد ہیں اور تُرکی کی سرحد پر کُردوں کی اپنی حکومت اور ریاست کا تصور ان کُردوں میں بھی قومیت پرستی ابھار سکتا ہے۔ یہ تصور تُرکی کی سالمیت کے خلاف ہے۔

ان حالات میں تُرکی شام میں امریکا کو روس کے خلاف کسی بھی قسم کی مدد دینے سے کترا رہا ہے۔ تُرکی بشار حکومت کا خاتمہ بھی چاہتا ہے لیکن شام میں روس کے اثر و رسوخ کو بھی نقصان پہنچتا نہیں دیکھ سکتا تاکہ شام کے مستقبل کے بارے میں کسی بھی موقع پر مذاکرات میں روس کی حمایت بھی حاصل رہے۔

شام میں امریکا کا سب سے بڑا حریف روس ہے جو طرطوس میں واقع فوجی اڈا ہر صورت قائم رکھنا چاہتا ہے۔ ماسکو شام میں اپنے اسٹرٹیجک اور فوجی مفادات کے لیے ایسی حکومت چاہتا ہے جو اس کے زیرِ اثر رہے۔ اس کے لیے بشار موزوں ہیں لیکن روس اپنے مفادات کی خاطر بشارالاسد کی قربانی دے کر مرضی کی حکومت لانے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ روس کو شام میں مداخلت کی بھاری معاشی قیمت بھی چکانا پڑ رہی ہے۔ داعش کی شکست کی صورت میں صدر پیوٹن کو شام کا مشن ختم کرنے کے لیے اندرونی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔

شام کے مسئلے کا بڑا علاقائی فریق ایران ہے۔ ایران نے صدر بشارالاسد کی مدد کے لیے پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ افسر تعینات کر رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران شام کو اربوں ڈالر امداد بھی کر رہا ہے۔ شام میں ایران کے مقاصد اسٹرٹیجک بھی ہیں اور معاشی بھی۔ ایران شام میں فوجی اڈے بنانا چاہتا ہے جو امریکا کے ساتھ کسی بھی تنازع کی صورت میں اسرائیل کے لیے خطرہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایران خطے میں سعودی اثر و رسوخ کے مقابلے کے لیے شام میں حزب اللہ کی طرز پر اتحادی بھی چاہتا ہے۔

ایران کے ایٹمی پروگرام پر عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو صدر ٹرمپ کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور مستقبل قریب میں یہ معاہدہ توثیق کے لیے امریکی صدر کو پیش کیا جانا ہے۔ اگر صدر ٹرمپ معاہدے کی توثیق سے انکار کرتے ہیں اور معاہدے سے ملنے والے معاشی فوائد رک جاتے ہیں تو اس صورت میں ایران کے معاشی مفادات بھی شام سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایران شام میں امن کے بعد تعمیرِ نو کے ٹھیکوں پر نظر رکھے ہوئے ہے جو اس کی معیشت کے لیے سہارا بن سکتے ہیں۔

شام کے مسئلے کا ایک اور فریق سعودی عرب ہے۔ ایران اور سعودی عرب عشروں سے ایک دوسرے کے خلاف پراکسی وار میں مصروف ہیں اور شام ان جنگوں کا ایک میدان ہے۔ سعودی عرب شام میں داعش اور صدر بشارالاسد دونوں کا دشمن ہے اور بشارالاسد حکومت کے باغی گروپوں کو اسلحہ اور فنڈز فراہم کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب امریکی جنگی مشینری کے لیے بھی شام میں سرمایہ جھونک رہا ہے۔

داعش کی شکست سے بشارالاسد حکومت مضبوط ہو رہی ہے۔ سعودی عرب کے حمایت یافتہ باغی ناکام ہوچکے ہیں اور سعودی عرب اب امریکا کی مدد کے بغیر شام میں مقاصد حاصل کرنے کے قابل نہیں۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ واشنگٹن کے بعد صدر ٹرمپ نے انخلاء کی خواہش کے باوجود ایک بار پھر شام میں بڑی مداخلت کی ہے، اس پہلو کو بھی بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔

اسرائیل بھی شام میں ایک فریق بن چکا ہے۔ اسرائیلی فوج شام میں ایرانی اڈوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ اسرائیل گولان کی پہاڑیوں کے قریب ممکنہ ایرانی اڈوں سے خوفزدہ ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی ڈرونز اور ایئر ڈیفنس سسٹم خطے میں اسرائیل کی بالادستی کے لیے چیلنج ہیں۔ اس سال فروری میں اسرائیل نے شام کے شہر حمص سے اڑایا گیا ایرانی ڈرون اپنی حدود میں مار گرایا۔ اس کے جواب میں شامی فوج نے اسرائیل کا ایف سولہ (ٖF-16) طیارہ تباہ کیا جو مبّینہ طور پر حمص میں ایرانی اڈے پر کارروائی کرنے کے بعد واپس جا رہا تھا۔ اُس حملے میں کئی ایرانی فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں تھیں۔

شام میں داعش کی شکست کا اعلان ٹرمپ اور بشارالاسد دونوں کرچکے ہیں، لیکن اس کے باوجود جنگ جاری ہے۔ مگر سوال اب بھی وہی ہے کہ آخر اس کا اختتام ہوگا کب؟ کیا بشارالاسد حکومت کا خاتمہ ہی اس جنگ کا انجام ہے؟ یہی سوال سینیٹر لنزے گراہم نے مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کے کمانڈر جوزف ووٹل سے کیا کہ امریکی پالیسی ہے کہ بشار کو ہر صورت جانا ہوگا؟ اس پر جنرل جوزف ووٹل نے کہا اگر آپ کو یہ معلوم نہیں تو مجھے شبہ ہے کہ کسی کو بھی اس کا جواب معلوم نہیں ہوگا، کیونکہ یہ پالیسی بنانا کانگریس کا کام ہے۔

امریکی فوجی کمانڈر اور سینیٹر لنزے گراہم کے مکالمے سے واضح ہوتا ہے کہ امریکا کی شام کے بارے میں پالیسی ابہام کا شکار ہے۔ 21ویں صدی میں جنگ میں فتح کا تصور بھی بدل چکا ہے۔ امریکی فضائیہ کے جنرل مائیک ہومز نے گزشتہ سال ایک تقریر میں کہا تھا کہ جنگ کو ختم نہ کر پانا شکست نہیں، بلکہ کھیل میں رہ کر اپنے مقاصد کے حصول کی کوشش کرنا ہی اصل فتح ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام پر حملے کے حوالے سے روس کو بھی دھمکی دی تھی کہ تیار رہو، اس دھمکی سے تاثر پیدا ہوا تھا کہ امریکا اور روس شام کے معاملے پر آمنے سامنے آسکتے ہیں، مگر روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ٹرمپ کی دھمکی کو نظرانداز کرکے ثابت کیا ہے کہ اب دنیا کا امن ان کے ہاتھ میں ہے کیونکہ ٹرمپ کے جذباتی اعلانات کے بعد کوئی بھی وائٹ ہاؤس کے مکین پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔

اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ فضائی حملے روس اور شام کے لیے پیغام تھے، واضح کرتا ہے کہ امریکا کے پاس مشرق وسطیٰ کے حوالے سے کوئی پالیسی نہیں۔ جرمنی کا امریکی فضائی حملوں سے لاتعلق رہنا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ یورپ بھی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے یکسو نہیں اور نیٹو کی سطح پر بھی پالیسی کا فقدان ہے۔

درحقیقت شام سے متعلق عالمی دنیا کے یہ ہیں وہ معاملات جو شام کی صورتحال کو ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب کررہے ہیں۔ فی الوقت تو اِس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں کہ اس جنگ سے شام میں نبردآزما فریقین حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں اور وہ کون سا نکتہ ہے جب سب کے دلوں کو قرار حاصل ہوجائے گا۔ لیکن اپنی بات کا اختتام شام سے متعلق امریکی مصنف کرسٹوفر فلپس کے تبصرے سے کرنا چاہوں گا جس کو پڑھ کر صورتحال بہت حد تک سمجھ آجائے گی۔

کرسٹوفر فلپس کا کہنا ہے کہ خانہ جنگی کی تاریخ بتاتی ہے کہ جتنی زیادہ طاقتیں اس میں ملوث ہوں گی، اس کا خاتمہ اسی قدر مشکل ہوگا، کیونکہ جب تک یہ طاقتیں تھک نہ جائیں یا ان کے دعوے اور مقاصد پورے نہ ہوجائیں یا پھر جنگ کے خاتمے پر وہ رضامند نہ ہوجائیں۔بشکریہ شفقنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کی حلف برداری کی تصویری جھلکیاں

وزیراعظم عمران خان کی حلف برداری کی تصویری جھلکیاں