پیر , 28 مئی 2018

بلوچستان کیلئے سی پیک کا لولی پاپ!

(رپورٹ: نوید حیدر)
ماضی میں بلوچستان کی تقدیر کو بدلنے کے لئے متعدد میگا پروجیکٹس پر کام کا آغاز کیا گیا۔ جب پہلی مرتبہ 1951ء میں سوئی کے مقام پر گیس دریافت ہوئی، تو اسے صوبے بھر کی ترقی و خوشحالی کیلئے سنگ بنیاد قرار دیا گیا۔ لیکن خود صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے بعض علاقوں کو پہلی مرتبہ 1970ء میں گیس ملی۔ سوئی گیس آج بھی بلوچستان کے محض چند بڑے شہروں تک محدود ہے، جبکہ لورالائی جیسے بڑے شہروں میں آج تک گیس میسر نہیں۔ اسی طرح 1970ء کی دہائی میں چاغی کے مقام پر سیندک میں کاپر کے ذخائر دریافت کی جاتی ہے، لیکن اس منصوبے کو ایک چینی کمپنی کے سپرد کیا گیا، جس کا زیادہ تر فائدہ آج تک چین لے جا رہا ہے اور خود بلوچستان کی عوام کو اس سے کچھ حاصل نہیں۔ اسی طرح 1978ء کو چاغی کے ہی مقام پر ریکوڈک میں سونے اور تانبے کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے۔ اس منصوبے کو بھی ایک آسٹریلوی کمپنی کے سپرد کیا گیا، لیکن آج تک اس منصوبے سے بلوچستان کسی بھی لحاظ سے فیض یاب نہیں ہو پایا۔ 70 سالوں کی طویل محرومی کے بعد بلوچستان میں اب مرتبہ پھر ایک اور سونے کی چڑیا یعنی گوادر بندرگاہ دریافت ہوئی۔ میاں نواز شریف کہتے ہیں کہ سی پیک میرا کارنامہ ہے، جبکہ زرداری صاحب کہتے ہیں کہ یہ پودا ان کا لگایا ہوا ہے، حالانکہ یہ چین کا لگایا ہوا پودا اور انہی کا کارنامہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ون بیلٹ ون روڑ کے تحت چین سات اقتصادی راہداریاں بنا رہا ہے، جن میں ایک چین پاکستان اقتصادی راہداری بھی ہے۔ پہلی اقتصادی راہداری نیو ایرو ایشین لینڈ برج ہے، جو مغربی چین سے روس تک جاتا ہے۔ دوسرا چائنا، منگولیا اور روسی راہداری ہے، جو منگولیا کے راستے مشرقی روس تک جاتا ہے۔ تیسرا چائنا، سینٹرل ایشیا راہداری ہے، جو سینٹرل ایشیاء کے راستے ترکی تک جاتا ہے۔ چوتھا انڈو چائنا پننسلویلا راہداری ہے، جو جنوبی چین سے انڈونیشیا کے راستے سنگاپور تک جاتا ہے۔ پانچواں چین پاکستان اقتصادی رہداری ہے، جو مغربی چین سے گوادر تک جاتا ہے۔ چھٹا بنگلہ دیش، چین، انڈیا، میانمار راہداری ہے، جو جنوبی چین سے انڈیا اور بنگلہ دیش کے راستے برما تک جاتا ہے، جبکہ ساتواں میری ٹائم سلک روٹ ہے، جو ساحلی چین کو سنگاپور اور ملائشیا کے راستے بحیرہ ہند اور بحیرہ عرب کو ملاتا ہے۔

سی پیک چین کی تجویز تھی، جس کے ایم او یوز پر آصف علی زرداری کے دور میں دستخط ہوئے اور میاں نواز شریف کے دور میں اس پر کام کا آغاز ہوا۔ اس منصوبے کی آڑ میں موجودہ حکومت نے کئی مظالم ڈھائے، جن میں پہلا ظلم یہ تھا کہ میاں نواز شریف اور ان کے پیارے احسن اقبال نے اس منصوبے کو داخلی سیاست کے لئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ دوسرا ظلم یہ تھا کہ بنیادی طور پر گوادر تک سڑک کے راستے رسائی کے پروجیکٹ کو انرجی کا پروجیکٹ بنا لیا اور انرجی کے پروجیکٹس کو بھی ہائیڈل کی بجائے کول پروجیکٹ لگا دیئے۔ تیسرا ظلم یہ کیا کہ ملکی اسٹرٹیجک ضروریات کی بجائے، سیاسی اور علاقائی ضروریات کو مدنظر رکھا۔ زیادہ حق گلگت بلتستان، بلوچستان اور فاٹا وغیرہ کا بنتا تھا، لیکن اسے بنیادی طور پر چین اور پنجاب کا پروجیکٹ بنا دیا گیا۔ چوتھا ظلم یہ کیا کہ شفافیت کی بجائے سارے معاملات کو اخفا میں رکھا اور غالب امکان یہ ہے کہ جب سی پیک کے سودوں کے اسکینڈلز باہر آئیں گے تو لوگ شاید پانامہ کیس کو بھی بھول جائیں گے۔ پانچواں ظلم یہ کیا کہ چین کی اپنے پسماندہ علاقوں سے متعلق پالیسی کے بالکل برعکس منصوبوں اور روٹ کا سارا رخ نسبتاً ترقی یافتہ علاقوں کی طرف موڑ دیا، جس کی وجہ سے گلگت بلتستان، بلوچستان اور فاٹا کی محرومیاں دور ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئیں۔ چھٹا ظلم یہ کیا کہ مغربی روٹ کی بجائے مشرقی روٹ کو ترجیح دینے سمیت تمام ترجیحات خود بنائیں اور اس پر چین کو بھی مجبور کیا، لیکن پاکستانی قوم کو یہ جھوٹا تاثر دیتے رہے کہ یہ سب کچھ چین کے کہنے پر ہو رہا ہے۔ ساتواں ظلم یہ ڈھایا کہ سی پیک سے متعلق قوم سے مسلسل غلط بیانی کی گئی۔ مثلاً پہلے یہ کہا جاتا رہا کہ لاہور اورنج لائن سی پیک منصوبے کا حصہ نہیں، لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا کہ عدالت میں پنجاب حکومت نے یہ موقف اپنایا کہ وہ اورنج لائن منصوبے کی تفصیلات اس لئے سامنے نہیں لاسکتی، کیونکہ یہ سی پیک کا حصہ ہے۔ سب سے زیادہ غلط بیانی مغربی روٹ سے متعلق کی گئی۔

مشرقی روٹ کے حوالے سے جب احتجاج کی صدائیں بڑھنے لگی تو وزیراعظم نے اے پی سی بلائی اور اس میں ہونے والے فیصلے کی رو سے قوم کے سامنے یہ غلط دعوٰی کیا کہ پہلے مغربی روٹ مکمل کیا جائے گا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اصل کام مشرقی روٹ پر ہو رہا تھا، جبکہ ڈی آئی خان اور ژوب کی طرف صرف ایک سڑک بنانے پر آمادگی ظاہر کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ روٹ وہی ہے، جو موٹر وے کی صورت میں شاہرام قراقرم کو اسلام آباد، لاہور اور پھر سکھر کے راستے گوادر تک ملاتا ہے۔ اسی لئے ایبٹ آباد اور اسلام آباد کے مابین نئی موٹر وے بنائی گئی، جس کا افتتاح گذشتہ ماہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کیا۔ گذشتہ سال جب میں خود زمینی راستے سے سفر پر نکلا تو پنجاب کی جانب جانے والے دونوں راستوں یعنی لورالائی اور ژوب کی حالت انتہائی خراب تھی۔ پوچھنے پر مجھے علم ہوا کہ سی پیک کے نام پر یہاں گذشتہ چار سالوں سے کام جاری ہے، لیکن صرف ابھی تک سنگل روڈ کے تین سو کلو میٹر والے راستے کو نہیں بنایا جاسکا۔ دوسری جانب حکومت نے اپنے اتحادیوں یعنی مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کے ساتھ مل کر ڈی آئی خان ژوب کی سڑک کو سی پیک کے روٹ کا نام دیا اور مغربی کاریڈور کے نام سے اس کا افتتاح کیا۔ پھر جب حکومت کی چوری پکڑی گئی تو ایک بار پھر اے پی سی بلائی گئی۔ اس اے پی سی میں ملکی قیادت کو یہ جھوٹا تاثر دیا گیا کہ اصل روٹ مغربی ہوگا، لیکن اعلامیے میں یہ مبہم الفاظ رکھے گئے کہ (There will be one route with multiple connectives)۔ پاکستانی سیاستدانوں کو یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ ون روٹ سے مراد مغربی روٹ ہے، جبکہ چین کے ساتھ یہ افہام و تفہیم تھی کہ ون روٹ سے مراد مشرقی روٹ ہے، جبکہ ڈی آئی خان اور ژوب وغیرہ کنیکٹیوٹی ہوں گے۔

اب جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم ہو رہی ہے تو مشرقی روٹ موٹر وے کی صورت میں مکمل ہو رہا ہے، جبکہ نام نہاد مغربی روٹ جو بنیادی طور پر ایک عام سڑک ہے، مکمل نہیں ہوئی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ مغربی سڑک کو کاریڈور نہیں، بلکہ ایک زمینی سڑک کے طور پر سی پیک میں شامل کرنے کی تجویز اب ساتویں جے سی سی میں پیش کی گئی ہے۔ یوں سی پیک کے مغربی روٹ یا کاریڈور نام کی چیز نہ ماضی میں موجود تھی اور نہ آج موجود ہے۔ پہلے تو نہ جانے ژوب ڈی آئی خان کے راستے سڑک کب مکمل ہوتی ہے، لیکن اگر مکمل ہو بھی جائے تو مشرقی روٹ پر موٹر وے کے ہوتے ہوئے کوئی احمق ہی ہوگا جو اس سنگل سڑک پر سفر کا انتخاب کریں، جس پر نہ تو سکیورٹی ہوگی، نہ ہی سہولتیں اور نہ اکنامک زونز۔ تاہم مغربی روٹ کے نام پر پوری قوم اور خصوصاً بلوچستان کو جو دھوکہ دیا گیا، اس گناہ میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے ساتھ ساتھ محمود خان اچکزئی، حاصل بزنجو اور مولانا فضل الرحمان بھی برابر کے شریک ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے اپنے علاقے کے لئے سڑک اور دیگر مراعات کی خاطر حکومت کے اس دھوکے کو سند جواز فراہم کیا، جبکہ محمود خان اچکزئی اور حاصل بزنجو بھی سیاسی مصلحتوں کی خاطر قرآنی آیات کے حوالے دے کر مسلم لیگیوں کی طرف سے پختونوں کو دھوکہ دینے کے عمل میں ان کا ہاتھ بٹاتے رہے۔ سی پیک جس شکل میں بھی ہو پاکستانی عوام کو اس کا فائدہ ضرور ہوگا، لیکن جس طرح صوبہ بلوچستان کو ماضی میں میگا پروجیکٹس کے نام پر دھوکہ دیا گیا، شاید وہ تاریخ مستقبل میں دوبارہ دہرائی جائے گی۔

یہ بھی دیکھیں

مائیک پمپیو نے بن سلمان کو اسکی اوقات دکھادی

(تسنیم خیالی) امریکہ ایک ایسا ملک ہے جس کے اتحادی اور دشمن ممالک دونوں ہی ...