پیر , 22 اکتوبر 2018

مرنے کے بعد فحش فلموں کے اسیکنڈل نے سعودی شہزادے کو پھر سے منظر عام پر زندہ کردیا

(تسنیم خیالی)
سابق سعودی فرمانروا شاہ فیصل کے بیٹے سعود الفیصل 1975ء سے 2015ء تک سعودی عرب کے وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز رہے اور 9 جولائی 2015 میں وفات پاگئے،سعود الفیصل قریب 40 سال وزیر خارجہ کے منصب پر فائز رہے جس کے ساتھ وہ جدید تاریخ میں وزیرخارجہ کے منصب پر طویل ترین عرصہ فائز رہنے والے شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں،سعودی سیاست میں سعود الفیصل کا کلیدی کردار رہا اور دنیا بھر میں آج بھی سعود الفیصل کو سیاست کا ماہر کھلاڑی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

اس سب کے باوجود امریکی میگزین نیوز ویک نے سعود الفیصل کے حوالے سے ایک شرمناک انکشاف کیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ آل سعود خاندان کے افراد عجیب و غریب قسم کے ہوس کے شکار ہیں اور ان کے شرمناک کارنامے موت کے بعد بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔

نیوزویک کے مطابق فحاشی کی فلمیں بنانے والی ایک فرانسیسی کمپنی نے سعود الفیصل کے خلاف فرانسیسی عدالت میں رٹ دائر کرتےہوئے سعود الفیصل کے لیے خصوصی طور پر بنائی گئی فحش فلموں کے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس کمپنی کا نام SARLATYLAہے اور دائر رٹ میں کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ سعود الفیصل کے ساتھ طے شدہ ڈیل کے تحت ان کے لیے خصوصی طور پر فحش فلمیں بناتی تھی جس میں مراکش سے تعلق رکھنے والی ان کے بےحد قریب ایک خاتون فلم میں عکس بندی کراتی تھیں۔

SARLATLAکا کہنا ہے کہ سعود الفیصل نے متعدد فلموں کا معاوضہ کمپنی کو تاحال ادا نہیں کیا ہے جو کہ 90 ہزار یورو پر مشتمل ہے۔کمپنی کے مالک مارک بولائی کا کہنا ہے کہ انہوں نے رقم کی وصولی کے لیے آل سعود خاندان سے متعدد مرتبہ رابطہ کیا ہے مگر تاحال انہیں معاوضے کی رقم وصول نہیں ہوئی جس کے بعد انہیں عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔

بولائی نے فرانسیسی عدالت میں اس حوالے سے تمام ثبوت پیش کردیے ہیں جو کہ ای میلز اور دیگر دستاویزات پر مشتمل ہیں جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت کے لیے 15 نومبر کی تاریخ مقرر کردی ہے۔

ویسے تو آل سعود خاندان کی داستان جنسی اسیکنڈلز سے بھری پڑی ہے مگر اس بار افسوس کی بات یہ ہے کہ منظر عام پر آنے والا یہ اسکینڈل دنیا سے رکصت ہونے والے سعود الفیصل کا ہے جسے دنیا بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور کسی کی سوچ میں بھی نہیں تھا کہ انہیں جنسی فلموں کا اس قدر ہوس تھا کہ وہ اپنے لیے خصوصی فلمیں بنواتے تھے،جن میں اداکاری مراکش سے تعلق رکھنے والی ان کی قریبی دوست کیا کرتی تھیں۔

اسلام کے ٹھیکیدار بنے ہوئے آل سعود خاندان کے افراد کے کرتوتوں پر نظر ڈالی جائے تو ان کا دور دور تک اسلام اور اسلامی اقدار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

"انفرادی” مزاحمتی حملوں سے غاصب صہیونیوں کی نیندیں حرام!

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران فلسطینیوں کی طرف سے ...