اتوار , 19 اگست 2018

فلسطینی سائنسدان کے قتل میں موساد کا ہاتھ ہوسکتا ہے:حماس

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک)اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے گذشتہ روز ملائیشیا میں ایک فلسطینی سائنسدان ڈاکٹر فادی البطش کی نامعلوم افراد کے ہاتھوں شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ حماس نے کہا ہے کہ ڈاکٹر البطش کی شہادت میں صہیونی ریاست اور اس کا خفیہ ادارہ موساد ملوث ہوسکتا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر فادی البطش کی شہادت پوری فلسطینی قوم کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ حماس کی قیادت، کارکن اور پوری فلسطینی قوم اس واقعے پر گہرے دکھ اور صدمے سے دوچار ہے۔

بیان میں کہا گیاہے کہ ڈاکٹر البطش اللہ کی کتاب کے حافظ، ایک محب وطن شہری، سائنسدان، عالم اور قوم کے ہیرو تھے۔ ان کی شہادت میں صہیونی ریاست کے ملوث ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ اسرائیلی دشمن فلسطینی قوم کے ہیروز کو ماضی میں بھی اندرون اور بیرون ملک چن چن کر نشانہ بناتا رہا ہے۔خیال رہے کہ ملائیشیا کے دارالحکومت کولالمپور میں ہفتے کو علی الصباح نامعلوم افراد نے فلسطینی سائنسدان ڈاکٹر فادی البطش کو گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے انہیں اس وقت گولیاں ماریں جب وہ نماز فجر کے لیے جا رہے تھے۔

حملہ آوروں نے انہیں 14 گولیاں ماریں جن میں سے چار گولیاں ان کے سر اور سینے پر لگیں جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ ان کے اہل خانہ نے اس مجرمانہ واقعے کی ذمہ داری صہیونی ریاست پرعاید کی ہے۔ دوسری طرف اسرائیل اس واقعے پر خاموش ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ اس مجرمانہ واقعے میں اسرائیل ہی ملوث ہے۔

یہ بھی دیکھیں

معاشی بحران ،ترکی کا آئی ایم ایف سے رابطہ نہ کرنیکا اعلان

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک)ترکی نے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس ...