اتوار , 19 اگست 2018

شامی بحران کا نیا موڑ

(حیدر جاوید سید)
کئی برسوں سے جاری شامی بحران کا حالیہ تماشا7اپریل(15دن قبل) اس وقت شروع ہوا جب شام کے مشرقی شہر دوما پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا انکشاف ہوا، دوما شہر پر حکومت مخالف عسکری گروپ جیش الاسلام قابض ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق شہر کے ایک حصے میں داعش، جہادالعالمی اور القاعدہ کے عسکریت پسند اور ان کے خاندان بھی موجود ہیں۔ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا الزام جیش الاسلام نے عائد کیا اور زیرزمین بنکروں میں نیٹ کی سہولتوں کے مزے اڑاتی وائٹ ہیلمٹس نامی تنظیم نے کسی تاخیر کے بغیر اس کی تائید کردی وائٹ ہیلمٹس نے ہی بی بی سی اور سی این این کو یہ اطلاع دی کہ دوما پر کیمیائی حملہ شامی حکومت نے کیا اور ہیلی کاپٹروں سے گرائے گئے بیرل بمبوں8 میں کلورین اور سارین بھری ہوئی تھی۔

جیش الاسلام کے دعوے اور وائٹ ہیلمٹس کی تصدیق بس امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہی دوثبوت کافی تھے ڈرانے دھمکانے میں چند دن گزارے گئے اور پھر 14اپریل کی صبح پھوٹنے سے کچھ دیر قبل امریکہ فرانس اور برطانیہ کے طیاروں نے شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں قائم کیمیائی ہتھیار بنانے والی مبینہ فیکٹریوں پر 100میزائل داغ دیئے۔ اس عالمی غنڈہ گردی کے اختتام پر امریکی صدر ٹرمپ نے مکمل فتح کا اعلان کیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ دوما میں کمیائی ہتھیاروں کے حملے 70افراد کی ہلاکت اور پھر سات دن کے وقفہ سے کیمیائی ہتھیار بنانے والی لیبارٹریز اور فیکٹروں کی تباہی ہردو دعوؤں کو دنیا کے ایک بڑے حصے نے چوں چراں کے بغیر تسلیم کرلیا اور عرب لیگ کے اجلاس میں اس پر پُرجوش تالیاں بجائی گئیں۔

شام پر عالمی سامراج کی تگڑم(امریکہ برطانیہ اور فرانس) کے حملے کی روس اور ایران نے کھل کر مذمت کی جبکہ چین نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اقدام کو امن دشمن پر مبنی قرار دیا۔ عرب لیگ اور سعودی عرب کی لے پالک نام نہاد مسلم دنیا قرضوں اور امدادوں کے لالچ میں دوحرفی مذمتی بیان بھی جاری نہ کرپائی۔سچ یہ ہے کہ کرہ ارض میں مسلم دنیا نام کی کوئی مخلوق موجود نہیں۔ یمن کے بحران میں جو ابھی جاری ہے ہم دیکھ چکے کہ چار پانچ مسلم ممالک کے سوا باقی کے مسلم ممالک ریاض کے شاہی محل کی دہلیز پر ڈھیر ہوگئے۔ ادلب اور غوطہ کا نوحہ پڑھنے والوں کو یمن میں عرب امریکہ اتحاد کی وحشیانہ بمباریوں سے تباہ ہونے والے سکول، ہسپتال، حوثیوں کی بستیاں دیکھائی دیں نہ یمن المیئے میں مرنے والے 3ہزار سے زائد بچے غالباً نام نہاد مسلم دنیا کے نزدیک بچے صرف وہابیوں اور دیوبندیوں کی مائیں جنتی ہیں صوفی سنی اور شیعہ مائیں تو بچے جنتی ہی نہیں اس لئے اگر یمن و شام میں صوفی سنیوں یا شیعوں کے بچے مرتے ہیں تو اس سے سعودی فہم اسلام کی آبیاری ہوتی ہے۔

مسلم منافقت کا زندہ ثبوت یہ ہے کہ یمن و شام پر عرب امریکہ اتحاداور عالمی تگڑم کے حملے درست ہیں افغانستان میں امریکہ اور اتحادیوں کی موجودگی غلط اور کارروائیاں اسلام دشمنی، شامی بحران کے آغاز سے اب تک حکومت مخالف عسکریت پسندوں کے چھ بڑے حامی ہیں۔ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، امریکہ، برطانیہ اور فرانس ۔ ایک ساتواں کردار بھی ہے اور وہ اسرائیل ہے ابھی پچھلے ماہ اسرائیل نے شام کے بعض عسکری اہمیت کے مراکز پر حملہ کیا تھا۔ شام دو وجہ سے لائق سزا قرار پایا ایک حماس و حزب اللہ کی سرپرستی اور ان سے تعاون اور ثانیاً پچھلے چالیس برسوں سے جاری سعودی ایرانی کشمکش میں ایران کا ساتھ دینا۔

یہاں ایک سوال دریافت کرلیتے ہیں کیا جو حکومت مخالف عسکریت پسندی شام میں جائز سمجھی کہی جا رہی ہے اور اس سے عرب دنیا کے مسلم حکمران تعاون کر رہے ہیں ویسی حکومت مخالف عسکریت پسندی سعودی عرب میں جائز ہوگی؟۔یمن میں علی عبداللہ صالح کی جگہ سعودی طاقت اور امریکی دھونس سے منصور ہادی کو مسلط کرنے پر جس بحران اور تصادم کا دروازہ کھلا تھا دونوں ابھی تک جاری ہیں۔بحران اور تصادم کا دروازہ کھولنے والوں کے دامن یمنی عوام کے لہو سے تر ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ جس سیاسی برتری کا حق سعودی عرب کو حاصل ہے اسی طرح کے سیاسی مفادات دوسروں کے لئے کفر قرار پاتے ہیں۔ اس پر ستم یہ ہے کہ سعودی فنڈنگ سے ہندوستان اور پاکستان ریاض کے ہم خیالوں کا ایک بڑا طبقہ شام کے حوالے سے حقائق کو مسخ کرکے پیش کرنے میں مصروف ہے، ہندوستان میں جنم لینے والے ایک مسلم مذہب کے دونوں طرف کے پیروکاران اور علماء آگ کو اس طرح بھڑکانے میں مصروف ہیں کہ اگر لوگوں کی اکثریت امن پسند نہ ہوتی تو اب تک سرحد کے دونوں اور ایک نئی قسم کی خانہ جنگی ہمارے درودیوار کے باہر ناچ رہی ہوتی۔

شامی بحران میں پچھلے چند سالوں کے دوران حکومت مخالف عسکریت پسندوں کی کارروائیوں سے جتنے بھی المیے رونما ہوئے ان پر عالمی سامراجی تکون کا میڈیا ہو یا مسلم دنیا کے ذرائع ابلاغ دونوں نے صحافتی ذمہ داریوں کی آدائیگی میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا البتہ حکومت مخالف عسکریت پسندوں اور زیرزمین بنکروں میں انٹر نیٹ کی سہولتوں سے استفادہ کرکے کہانیاں گھڑنے والی وائٹ ہیلمٹس کے پروپیگنڈے کو آگے بڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

شامی بحران کے حالیہ دنوں میں بھی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے اس الزام کو اہمیت دی گئی جو حکومت مخالف اس دہشت گرد تنظیم نے لگایا جو اپنے قیام سے ہی سعودی عرب اور قطر کی مالی امداد پر سرگرم ہے۔ کیا ہم اس تلخ حقیقت کو بھول گئے ہیں کہ آج عرب لیگ اور عالمی سامراج کی تگڑم جو الزام شام پر لگا رہی ہے ایسے ہی الزامات صدام حسین اور اس کی حکومت کے خلاف عائد کئے گئے تھے اور پھر عراق پر جنگ مسلط کردی گئی بہت بعد میں امریکہ اور برطانیہ نے اعتراف کیا کہ عراق میں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے نہ انہیں تیار کرنے کی فیکٹریوں کا وجود تھا۔ٹونی بلئیر نے تو جنگ میں شرکت پر معافی بھی مانگی تھی نام نہاد اسلامی دنیا کا ایک بھی ملک ایسا نہیں جس نے امریکہ اور برطانیہ سے عراق کی تباہی پر احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہو کہ دونوں ملک اور ان کے اتحادی عراقی عوام کو زرِتلافی ادا کریں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ شامی بحران کو عرب لیگ یا امریکہ کی آنکھ سے دیکھنے کی بجائے زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھنا ہوگا بشارالاسد کے اقتدار کا فیصلہ کرنے کا حق شامی عوام کو ہے عرب لیگ کے غنڈوں یا عالمی سامراجی تگڑم اور ان کے پالے ہوئے دہشت گردوں کو ہرگز نہیں۔حرف آخر یہ ہے کہ مشرق وسطی کی سیاست اور عسکریت پسند ی کے معروف تجزئیہ نگار رابٹ فسک نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دوما پر کیمیائی ہتھیاروں کا حملہ نہیں ہوا۔بشکریہ یو این این

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کی حلف برداری کی تصویری جھلکیاں

وزیراعظم عمران خان کی حلف برداری کی تصویری جھلکیاں