پیر , 28 مئی 2018

شامی بحران اور سامراجی گماشتے

شام میں امریکی میزائل حملے کے بعد اسرائیلی حکام یہ دعویٰ کر رہے ہیں، حملہ امریکہ نے نہیں اسرائیل نے کیا ہے۔جبکہ امریکی کہتے ہیں میزائل حملہ مشرقی غوطہ میں بیرل نامی کیمیائی بم پھینکے جانے کا جواب ہے۔ مہینہ بھر قبل ایک افسوس ناک واقعہ جس کے حوالے سے بہت سارے عالمی ذرائع امریکہ کو مورد الزام ٹھہرارہے ہیں کو جواز بنا کر کیا گیا میزائل حملہ بنیادی طور پر امریکہ کے لے پالکوں جیش اسلام، داعش، النصرہ اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کی عسکری اعانت ہی قرار پائے گا۔ شام میں بیرونی جہادیوں کے لگائے زخموں کا مداوا تو کس نے کرنا ہے البتہ یہ ضرور ہو رہا ہے کہ جب بھی شامی ریاست دہشت گردوں کے خلاف کوئی بڑی کامیابی حاصل کرتی ہے امریکہ اور اس کے حواری پروپیگنڈے کا طوفان برپا کردیتے ہیں سوال یہ ہے کہ غیر ریاستی لشکروں کی جو سرگرمیاں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے نزدیک شام و عراق میں جائز ہیں وہ افغانستان میں ناجائز اور قابل گردن زدنی کیوں؟۔

شامی تنازعہ کے آغاز سے اب تک ریاست مخالف دہشت گردوں کی پشت پر امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب چند اتحادیوں سمیت کھڑے ہیں جبکہ روس ایران اور حزب اللہ شامیحکومت کے ہمنواہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ سلفی اتحاد اپنی جارحیت اور اعانت یافتہ دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے کئے جانے والے جنگی جرائم کو تو بحالی جمہوریت پروگرام کا حصہ قرار دیتا ہے لیکن شامی حکومت اگر اپنی رٹ کو قائم رکھنے کے لئے اقدامات کرے تو جارح قوتوں کے ہمنوا مغربی و عربی ذرائع ابلاغ آسمان سر پر اٹھالیتے ہیں۔

امر واقعہ یہ ہے کہ شامی تنازعہ کی ابتداء سے اب تک ہوئے خون خرابے کی ذمہ داری جارح قوتوں اور ان دہشت گردوں پر عائد ہوتی ہے جو بظاہر تو انقلاب اسلامی کے علمبردار ہیں مگر درحقیقت وہ اپنے آقا امریکی سامراج کے منصوبے کے مطابق خطے میں اسرائیل کی بالا دستی کو یقینی بنانے کے لئے سرگرم عمل ہیں اندریں حالات اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کو شام کے مسئلہ پر غور کرتے ہوئے جارح قوتوں اور دہشت گردوں کے خلاف موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔بشکریہ یو این این

یہ بھی دیکھیں

مائیک پمپیو نے بن سلمان کو اسکی اوقات دکھادی

(تسنیم خیالی) امریکہ ایک ایسا ملک ہے جس کے اتحادی اور دشمن ممالک دونوں ہی ...