اتوار , 19 اگست 2018

سعودیہ میں تبدیلی کے پیچھے کون؟

(تحریر: سید اسد عباس)
شنید ہے کہ سعودیہ کے متوقع بادشاہ محمد بن سلمان سعودیہ کو بدل رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے متعدد بیانات میں کہا کہ ہم اپنی اصل کی جانب لوٹ رہے ہیں، یعنی ملک میں نافذ کڑا نظام جو سعودی علماء کے فہم اسلام پر استوار ہے، ہماری اصل نہیں ہے۔ انہوں نے گارڈین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ قدامت پسندی مناسب نہیں ہے اور ہماری ریاست گذشتہ تیس برس سے شدید قدامت پسندی کا شکار ہے، جو کہ ایرانی انقلاب کے جواب میں سامنے آئی۔ محمد بن سلمان کے مطابق ماقبل کے بادشاہوں کو سمجھ نہیں آئی کہ اس سے کس طرح نمٹا جائے۔ انہوں نے حال ہی اپنے دورے کے دوران میں امریکہ میں دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ سعودیہ نے سرد جنگ کے دوران میں اپنے فوجی اتحادیوں کے کہنے پر سوویت رسوخ کو روکنے کے لئے مسلم ممالک میں مساجد اور مدارس پر سرمایہ کاری کی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی سعودی حکومتیں اس سلسلے میں غلطی کا شکار ہوئیں۔ محمد بن سلمان نے کہا کہ اب ہم معتدل اسلام کی جانب جا رہے ہیں، ایک ایسا اسلام جو تمام ممالک اور ادیان کو قبول کرے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ تیس سال قبل ملک میں سینما تھے، خواتین کاریں چلاتی تھیں، مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی تھیں اور پھر یہ شدت پسند آئے، جنھوں نے ہمارے معاشرے کو بدل کر رکھ دیا۔ اب محمد بن سلمان چاہتے ہیں کہ معاشرے کو واپس اعتدال کی جانب لے جائیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے سعودیہ میں بہت سی انقلابی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ خواتین کو زیادہ آزادیاں، ملک میں تفریحی مقامات کا قیام، سیاحتی شعبے میں تبدیلیاں، نجکاری، معاشی اصلاحات، کرپشن کے خاتمے کے لئے اقدامات ان تبدیلیوں کا حصہ ہیں۔

امریکہ میں تعینات سعودیہ کے سفیر شہزادہ خالد بن سلمان جو ولی عہد محمد بن سلمان کے چھوٹے بھائی بھی ہیں، نے ان تبدیلیوں کے حوالے سے ایک کالم لکھا، جو کہ سعودیہ کے نشریاتی ادارے العربیہ کی اردو سائٹ پر بھی شائع ہوا۔ اس کالم میں خالد بن سلمان لکھتے ہیں کہ سعودی مملکت کئی عشروں سے سماجی اور ثقافتی اقدار کے ساتھ چل رہی تھی اور ان کو چیلنج نہیں کیا جاتا تھا، مگر اس سے ہماری ترقی کی رفتار سست ہوتی جا رہی ہے۔ اب ہماری قیادت نے نیا لائحہ عمل وضع کیا ہے۔ اس لائحہ عمل کا مقصد معیشت اور معاشرے میں تبدیلی اور اصلاح کے عمل کو بروئے کار لانا ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ہمارا سابقہ لائحہ عمل پائیدار نہیں تھا، لیکن اب زندگی کے تمام شعبوں میں مختلف پہلوؤں سے تبدیلی کا عمل جاری ہے۔ ہم خواتین کو زیادہ حقوق دے رہے ہیں، عازمین حج و عمرہ کے لئے خدمات کو بہتر کیا جا رہا ہے، مختلف صنعتوں میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، ملک کو سیاحت کے لئے کھولا جارہا ہے، تفریحی صنعت کو نئے سرے سے قائم کیا جا رہا ہے، عرب ثقافت اور ورثے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ خالد بن سلمان لکھتے ہیں کہ اسی طرح ہم اپنی صحت اور تعلیم کے نظام کی نئے سرے سے تنظیم نو کر رہے ہیں۔ امریکہ اور سعودیہ کے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے سعودی شہزادے نے لکھا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں، خفیہ معلومات کا تبادلہ ہو رہا ہے، دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے عالمی مرکز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، ہزاروں سعودی طلباء امریکہ میں زیر تعلیم ہیں، سعودیہ کے سرمایہ کاروں نے امریکہ میں صنعت، ٹیکنالوجی، رئیل سٹیٹ اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ شہزادہ خالد نے لکھا کہ اب سعودیہ اور امریکہ کے روابط اوول آفس، فوجی اڈوں، تجارتی راہداریوں تک محدود نہیں بلکہ بہت وسیع ہوچکے ہیں۔

العربیہ کے ہی ایک لکھاری نیز امریکہ میں قائم تھنک ٹینک کے سربراہ علی شہبانی امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ریاض نے تیل کی قیمتوں کے بحران کے ذریعے واشنگٹن کی مدد کی، جس سے سوویت یونین کا معاشی دھڑن تختہ ہوا۔ ان کے مطابق سعودیہ نے چین اور روس کے دباؤ کے باوجود امریکہ کے مفاد میں تیل کی قیمت کو ڈالر سے منسلک رکھنے پر زور دیا ہے، اسی طرح ڈالر کی دنیا میں ریزو کرنسی کی حیثیت سے باقی رکھنے کی حمایت کی ہے، جس سے امریکی محکمہ خزانہ کو قرضوں پر انحصار کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ قطر پر حالیہ پابندیوں کا مقصد خلیج کی چھوٹی ریاستوں کو دہشت گردی کی حمایت سے باز رکھنا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو اچانک اس تبدیلی کا خیال کیوں آیا؟ وہ کیا اسباب و عوامل ہیں، جو جن کے سبب ملک کی قدیم پالیسیوں کو بدلنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس سلسلے میں کئی ایک عوامل کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ محمد بن سلمان کی شخصیت ہی ایسی ہے کہ وہ حقائق کا جرات سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے اور تبدیلی لانے کے قابل ہے، بعض اس کے تدبر، حکمت اور تعلیم کو اس کا سبب قرار دیتے ہیں، بعض کے خیال میں اس تمام تبدیلی کے پیچھے سعودیہ کی گذشتہ چند برسوں سے بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال ہے۔

میری نظر میں سعودیہ ایک اہم دور سے گزر رہا ہے۔ حاکم خاندان کے لئے سب سے اہم مسئلہ اقتدار کی اگلی نسل کو پرامن منتقلی نیز خطے اور عالم اسلام میں اپنی حیثیت اور رسوخ کو قائم رکھنا ہے۔ گرتی ہوئی معیشت کی بحالی بھی ایک اہم چیلنج ہے۔ اقتدار کی منتقلی کے لئے پہلے مرحلے میں ولی عہد کو معزول کیا گیا، پھر اگلے ولی عہد کی جگہ دوسرا ولی عہد لایا گیا اور آخرکار محمد بن سلمان کی ولی عہدی کا اعلان کر دیا گیا۔ دوسرے مرحلے میں ولی عہد کے تمام ممکنہ حریفوں کو راستے سے ہٹانے کے لئے کرپشن کے الزامات لگا کر شاہ عبدالعزیز کے تقریباً تمام پوتوں اور ان کے وفاداروں کو حکومتی عہدوں سے ہٹانے کے ساتھ ساتھ نظر بند کر دیا گیا۔ تیسرا مرحلہ عوامی مقبولیت کے حصول کا مرحلہ ہے۔ وژن 2030ء اسی سلسلے کی ایک کاوش ہے۔ محمد بن سلمان کا یہ وژن اور اس پر ہونے والے سریع اقدامات نیز نظر آنے والے نتائج رائے عامہ کو محمد بن سلمان کے لئے ہموار کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ محمد بن سلمان دن رات اس وژن پر عملدرآمد کے لئے کوشاں ہے۔

معاشی اصلاحات، معیشت کی ترقی، معاشرتی اعتدال ایسی چیزیں نہیں ہیں، جن پر تشویش کا اظہار کیا جائے بلکہ سعودیہ جیسے ملک میں اعتدال کا قیام پوری امت مسلمہ کے لئے بہت ہی خوش آئند خبر ہے، تاہم اس کے لئے جس فہم و فراست، تدبر، احتیاط اور معلومات کی ضرورت ہے، اس کا فقدان نظر آتا ہے۔ یہ کہنا کہ ہماری ریاست گذشتہ تیس برس سے شدید قدامت پسندی کا شکار ہے، جو کہ ایرانی انقلاب کے جواب میں سامنے آئی، حقائق کے بالکل منافی ہے۔ وہابی فکر کا سرے سے انکار اور یہ کہنا کہ یہ اصطلاح دشمن نے ہمارے لئے استعمال کی، تاکہ ہمیں دنیا میں تنہا کرسکے، تاریخی طور پر ثابت نہیں ہے۔ دہشتگردی کی اصطلاح کو اپنا معنی و مفہوم بخش کر اس کے خاتمے کی جدوجہد کا سرخیل بن جانا دانشمندی کی جانب اشارہ نہیں کرتا۔ حقیقی دشمن کی گود میں بیٹھ کر ہمسایوں کو دشمن بنانا بھلا کہاں کی عقلمندی ہے۔ اسی طرح برادر اسلامی ملک کو دشمن سمجھنا اور جارح صہیونیوں کو ریاست کا حقدار کہنا نہایت تشویشناک صورتحال کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امام رضاؑ کا پرچم قراقرم کی 6250 میٹربلند چوٹی پر

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)برگنچھو پیک پر تاریخ میں پہلی بار امام رضاؑ اور حضرت عباسؑ علمدار ...