پیر , 28 مئی 2018

چیف جسٹس کا نوازشریف کی سیکیورٹی بحال کرنے کا حکم

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس ثاقب نثار نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی سیکیورٹی بحال کرنےکاحکم دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی کی جان کوخطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے، قانون کے تحت جو سیکیورٹی بنتی ہے وہ نوازشریف کو دی جائے۔پیر کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے غیرمتعلقہ افراد سیکیورٹی ازخود نوٹس پر سماعت کی۔

چیف جسٹس نے غیر متعلقہ افراد سے سیکیورٹی واپس لینے کی تفصیلات مانگیں اور ساتھ ہی ریمارکس دیئے کہ میڈیا ہاؤسزسمیت جن لوگوں کی جان کو خطرہ ہےان سے سیکیورٹی واپس نہ لی جائے اور تمام صوبے سیکیورٹی فراہمی کا فارمولا ایک ہفتے میں طے کرلیں۔آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ جن افراد کے نام وزارت داخلہ نے دیئے ہیں ان کو سیکیورٹی فراہم کرتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ لوگوں کو سیکیورٹی واپس لینے پر تحفظات ہیں،جس کی زندگی کو خطرہ ہے اس کو سیکیورٹی ملنی چاہیے، اس سے سیکیورٹی واپس نہ لیں، کسی کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے، نواز شریف کو بطور سابق وزیراعظم سیکیورٹی ملی ہے، قانون کے مطابق نواز شریف کی جوسیکیورٹی بنتی ہے ملنی چاہیے، معلوم کریں اسفند یار ولی خان کو سیکیورٹی ملی؟۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ پنجاب میں غیرمتعلقہ افراد کی سیکیورٹی پرایک ارب 38 کروڑ خرچہ بنتا ہے، سفید کپڑوں میں ملبوس افراد کو بھی سیکیورٹی پر مامور کیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ تمام صوبے اپنے سیکیورٹی کے قوائد یا طریقہ کار بنا لیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور میں دیکھا ہے سرکاری گاڑیاں بچے چلارہے ہیں، سرکاری گاڑیوں کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے، تمام صوبے سیکیورٹی فراہمی سے متعلق یکساں فارمولہ بنائیں، ایسے لوگوں کو سیکیورٹی نہیں ملنی چاہیے جو اہلیت نہیں رکھتے، سیکیورٹی سے متعلق ایکشن لینے کا مقصد ٹیکس کا پیسہ بچانا ہے۔عدالت نے تمام صوبوں کوسیکیورٹی سے متعلق فارمولا طے کرکے 7 روز میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیااورکیس کی مزید سماعت ملتوی کردی ۔

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم آج گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی آج ایک روزہ دورے پرگلگت پہنچیں گے ...