منگل , 23 اکتوبر 2018

سعودی عرب خطرناک انجام کی طرف رواں دواں

(تسنیم خیالی)
حال ہی میں سعودی عرب کے ایک شاہی محل پر ہونے والے حملے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آل سعود خاندان کے افراد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے کس قدر نالاں ہیں،حملے کے پیش نظر یہ کہنا بے جا نہیں کہ سعودی عرب ایک خطرناک انجام کی طرف رواں دواں ہے۔شاہی محل پر ہونے والاحملہ دراصل ایک فوجی انقلاب کی کوشش تھی اور سعودی میڈیا پر شائع ہونے والی خبر کہ محل میں فائرنگ ڈرون کیمرے پر کی گئی ہے،درست نہیں۔

اصل میں ہوا یہ ہے کہ سابق ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کے وفادار فوجیوں نے محل پر حملہ کیا اور اس حملے میں’’آل الشیخ‘‘ خاندان کے متشدد مذہبی رہنما بھی شامل تھے۔آل شیخ کا اس انقلاب میں شامل ہونا سعودی عرب کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔سعودی عرب کی بنیاد دراصل آل سعود اور آل الشیخ کے اتحاد پر قائم ہے خواہ وہ آ ل سعود کی پہلی ریاست ہو،دوسری ہو یا پھر موجودہ تیسری ۔یہ ریاستیں آل سعود اور آل الشیخ کے اتحاد سے قائم ہوئیں۔جس میں سیاست آل سعود نے سنبھالی اور مذہبی معاملات آل الشیخ کے ہاتھ میں آئے ۔البتہ موجودہ دور میں محمد بن سلمان نے اس اتحادد کو اپنے فیصلوں اور تبدیلیوں کے ذریعے ختم کر دیا ہے۔

حملے کے حوالے سے بات کریں تو اس میں دونوں اطراف سے متعدد افراد مارے گئے اور جس ڈرون کا ذکر سعودی میڈیا پر ہورہا ہے اسے حملے میں نشانہ بننے والے محل سے ایک قریبی محل سے اڑایا گیا ہے جو اسماء آل الشیخ نامی خاتون کی ملکیت ہے۔اس ڈرون کے ذریعے کارروائی کی لائیو ویڈیو بنائی جارہی تھی۔

حملے کی ناکامی کے بعد آل الشیخ خاندان کے تمام افراد کے محلوں کو محاصرے میں لے لیا گیا ہے اور ان میں موجودتمام افراد اپنے اپنے محلوں میں نظر بند ہیںاور سعود ی نظام کےپاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انقلابیوں کو انہی محلوں سے لاجسٹک سپورٹ حاصل تھی۔

سعودی عرب کی موجودہ صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے اور حکمران خاندان کے اندر اختلافات عروج پر ہیں،جنہیں اب چھپانا بھی ممکن نہیں۔دیکھا جائے تو بانی سعودی عرب شاہ عبدالعزیزآل سعود کے بعد والی نسل یعنی موجودہ شاہ سلمان کے علاوہ ان کے باقی زندہ بیٹے جیسا کہ محمد،احمد ،مقرن اور طلال کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔جبکہ دوسری نسل کے بعض اہم شہزادے(یعنی عبدالعزیز کے پوتے) جیسا کہ بندر بن سلطان اور محمد بن سلطان کسی بھی اجلاس میں شرکت نہیں کرسکتے خواہ وہ خاندانی اجلاس ہی کیوں نہ ہو۔

سعودی نظام نے دہائیوں سے انتھک کوشش کی کہ خاندان کے اندر موجود اختلافات منظر عام پر نہ آئیں مگر اب یہ ناممکن ہوچکا ہے اور قابل غور بات یہ ہے کہ سعودی عرب میں صف اول کے طاقتور شہزادوں نے اب تک بن سلمان کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھایا،ممکن ہے کہ یہ شہزادے شاہ سلمان کی وفات کے منتظر ہیں کیونکہ اس حالت میں بن سلمان اکیلا اور اپنے فرمانروا والد کی حمایت سے محروم ہوجائے گا۔

شاہی محل پر حالیہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب اس وقت تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے ،ولی عہد محمد بن سلمان اگرچہ تخت سعودی عرب کے بہت قریب ہیں مگر انہیں تخت تک پہنچنے کے لیے بہت سی رکاوٹوں سے گزرنا ہوگا۔

سعودی عرب کی انتہائی سنگین اقتصادی صورتحال ،یمن جنگ،قطر بائیکاٹ اور خود سعودی عرب کی اندرونی صورتحال کی وجہ سے آل سعود خاندان کے افراد بن سلمان کو بطور فرمانروا قبول نہیں کریں گے اور اسے اقتدار سے دور رکھنے کے لیے تمام حدیں پار کر دیں گے جیسا کہ حالیہ حملے میں پار کیا گیا۔

یہ بھی دیکھیں

گیلانی کے خلاف ریفرنس، نوازشریف کے بعد سننے کا فیصلہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف اختیارات ...