پیر , 22 اکتوبر 2018

یہ بے گناہوں کا قتل عام نہیں تو اور کیا ہے؟

(تسنیم خیالی)
یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جاری جارحیت کو تین سال اور ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس طویل عرصے میں جارح ممالک نے ہمیشہ اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ وہ اپنی فضائی کارروائیوں میں شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے کیونکہ وہ اپنے حملوں میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔جس کی وجہ سے شہریوں کی صفوں میں نقصان کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہوجاتی ہے،مگر چند روز قبل سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بناتے ہوئے 25 افراد کا قتل عام کیا اور دیگر 40 افراد کو زخمی کردیا جن میں بیشتر تعداد بچوں پر مشتمل ہے۔

اس حملے سے واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کا شہریوں کو نشانہ نہ بنانے کے دعوے بالکل جھوٹے ہیں،شادی کی تقریب پر ہونے والاحملہ قتل عام کے زمرے میں آتا ہے،مارے جانے والے افراد اس وقت خوشی منارہے تھے اور وہ بھی ایک ایسے موقع پر جس میں خوشی نصیب ہونا بہت بڑی بات ہے کیونکہ یمن میں جنگ،قتل و غارت گری،بھوک،مفلسی ،بیماری اور تکالیف کے علاوہ کچھ نہیں۔

یمنی طبی ذرائع کے مطابق شادی کی تقریب میں موجود دلہن شہید ہوچکی ہےجبکہ دولہا شدید زخمی ہونے کے بعد زندگی کی لڑائی لڑ رہا ہے اور زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ بھی شہید ہوجائے گا۔

یہ پہلی بار نہیں جس میں سعودی اتحاد کے طیاروں نے شہریوں کو نشانہ بنایا ہو،اس سے پہلے ستمبر2015 میں سعودی اتحاد کے طیاروں نے ایک شادی کی تقریب پر حملہ کیا جس میں 131 افراد مارے گئے ،یہ واقعہ یمن کے ساحلی شہر المخا میں پیش آیا۔

اکتوبر2016 میں سعودی اتحاد کے ایک ایف 16 نوعیت کے لڑاکا طیارے نے ایک جنازے کو نشانہ بنایا تھا اور اس کارروائی میں 140 افراد مارے گئے تھے،ان حملوں کے بعد سعودی عرب نے عالمی برادری کو کئی مرتبہ باور کرایا تھا کہ اس قسم کے حملے آئندہ نہیں ہوں گے اور فضائی کارروائیوں میں احتیاط برتے جانے کا وعدہ کیا تھا،البتہ یہ سب جھوٹ تھا اور اس سعودی اتحاد نےبے گناہوں کا قتل عام جاری رکھا۔

خود کو یمن کے آئینی صدر کہنے والے عبدربہ منصور ہادی بھی سعودی اتحاد کے ہاتھوں ہونے والے یمنی عوام کے قتل عام پر خاموش رہتے ہیں اور دعویٰ کرتے پھرتے ہیں کہ یمنی عوام کا تحفظ ان کی اور انکی کابینہ کی ذمہ داری ہے جو کہ موجودہ صورتحال اور زمینی حقائق کے منافی ہے۔

یمن میں تین سال ایک ماہ سے صرف اور صرف جنگی جرائم کا ارتکاب کیا جارہا ہے اور بے گناہ شہریوں کا خون بہایا جارہا ہے اور آگے بھی یہی ہوتا رہے گا اگر عالمی برادری متحرک نہیں ہوتی۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادی یمنی مزاحمت کے ہاتھوں ذلیل اور رسوا ہوتے ہیں جس کا بدلہ وہ یمنی عوام سے لے رہے ہیں جو کہ انتہائی شرمناک فعل ہے،عالمی برادری تو خاموش ہے مگر ایک دن سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو یمن میں ہونے والے قتل عام اور جنگی جرائم کی سزا سود سمیت ملے گی۔

یہ بھی دیکھیں

"انفرادی” مزاحمتی حملوں سے غاصب صہیونیوں کی نیندیں حرام!

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران فلسطینیوں کی طرف سے ...