بدھ , 15 اگست 2018

اگر ایسی بات ہے تو بوریا بستر اٹھاؤ اور گھر جاؤ

(تسنیم خیالی)
اقوام متحد ہ کے جنرل سیکرٹری انٹونیو گوٹیریش نے اعتراف کیا ہے کہ دنیا میں سرد جنگ ایک بار پھر سے شروع ہوچکی ہے جس کی وجہ اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے تنظیمی ڈھانچے میں موجود خامیاں ہیں۔گوٹیریش کے بقول موجودہ دور کی صورت حال سوویت یونین کے دور میں موجود صورتحال سے کافی مختلف ہے،ان کے مطابق امریکہ اور روس پہلے کی طرح اپنے اپنے گروپوں کی قیادت نہیں کررہے اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک خود میں اہم کردار ادا کررہے ہیں،جیسا کہ ترکی،ایران اور سعودی عرب۔

گوٹریش کہتے ہیں کہ سلامتی کونسل اس وقت طاقت کے توازن کی عکاسی نہیں کررہا اور ویٹو والے ممالک اپنے اس ویٹو کے اختیار کا غلط استعمال کررہے ہیں،گوٹریش کے مطابق اقوام متحدہ کی اصلاح سلامتی کونسل کی اصلاح کے بغیر ناممکن ہے۔

گوٹریش نے اس بات کا اعتراف اقوام متحدہ کے قیام کے 73 سال بعد کیا ہے ،24 اکتوبر 1945 میں اقوام متحدہ کے قیام کو عمل میں لایا گیا،مقصد یہی تھا کہ دنیا میں جنگ کے رجحان کو روکا جائے اور ایک امن کا گہوراہ بنایا جائے،مگر کیا اقوام متحدہ کے قیام کے بعد دنیا میں کوئی جنگ نہیں ہوئی؟

اقوام متحدہ کے قیام کے بعد بھی دنیا میں بہت سی جنگیں ہوئیں اور ہوبھی رہی ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ جس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کو بنایا گیا ہے وہ مقصد پورا نہیں ہوسکا،ٹھیک اس طرح جس طرح پہلی عالمی جنگ کے اختتام پر قائم ہونے والی جمعیت الاقوام دنیا کو جنگ سے محفوظ رکھنے کے مقصد میں ناکام ہوئی۔

اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کی بات کی جائے تو در حقیقت یہ ایک ناکام ادارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بے بس ادارہ ہے جو امریکہ ،برطانیہ اور فرانس کی خلاف ورزیوں کے آگے تماشائی بنا رہتا ہے۔گوٹیریش نے اپنے حالیہ بیان میں جو کچھ کہا وہ سچ ہے ایک ایسا سچ جو پوری دنیا کے علم میں ہے،پچھلے 15 سالوں میں اقوام متحدہ کی کارکردگی پر غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اس ادارے کو متعدد جنگیں شروع کرنے کے لیے بے دردی سے استعمال کیا گیا اور اگر اس ادارے کو اعتراض ہوتا تھا تو امریکہ ،برطانیہ،فرانس اور اسرائیل جیسے ممالک نے اقوام متحدہ کو نظر انداز کر کے متعدد جنگوں کا آغاز کیا۔

اقوام متحدہ کوشروع دن سے ہی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے قائم کیا گیا،اس ادارے کا دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے سے کوئی تعلق نہیں اور اب جب کہ گوٹیریش نے اس ادارے کی ناکامی کا اعتراف کرلیا ہے تو برائے مہربانی وہ اقوام متحدہ کو بند کرتے ہوئے اپنا بوریا بستر اٹھائیں اور گھر چلے جائیں۔

یہ بھی دیکھیں

بے دخلی کی سیاست، مرابطین کو قبلہ اول سے محروم کرنے کی سازش!

قابض صہیونی مسجد اقصیٰ کا ہرطرف سے گھیراؤ کرنے اور مقدس مقام کو اہالیان فلسطین ...