پیر , 22 اکتوبر 2018

کابل و کوئٹہ پر پڑتے داعش کے منحوس سائے

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس)
دشمن کو کبھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب دشمن کو کمزور سمجھا جاتا ہے تو انسان اپنے تحفظ سے غافل ہو جاتا ہے اور اسی غفلت کے نتیجے میں نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ چند ماہ پہلے افغانستان کے سابق صدر جناب حامد کرزئی صاحب کا یہ بیان بار بار بین الاقوامی میڈیا پر آیا، جس میں انہوں نے خبردار کیا کہ بڑی تیزی کے ساتھ اور بڑے منظم انداز میں داعش کو افغانستان کے بارڈر پر لایا جا رہا ہے۔ کرزئی صاحب کا یہ بیان لرزا دینے والا تھا، وہ جن قوتوں کی طرف اشارہ کر رہے تھے، وہ دعویدار تھیں کہ ہم تو افغانستان میں امن کے لئے کوشاں ہیں۔ اب ایک اور منظر دیکھیئے، حلب، دوما اور دیگر کئی شہروں میں جب شدت پسند شامی افواج کے گھیرے میں آگئے تو انہوں نے شام کی افواج سے معاہدے کئے۔ ان کے نتیجے میں وہ اپنا بھاری اسلحہ چھوڑ کر اپنے اہلخانہ کے ساتھ علاقہ چھوڑ گئے۔ یہ علاقہ چھوڑ کر کہاں گئے؟ بی بی سی پر ایک تفصیلی رپورٹ آئی تھی، جس میں قدم بقدم ان کا پیچھا کرکے انہیں صحرا میں گم کر دیا گیا تھا۔ شام کی جیل توڑی جاتی ہے اور اس سے بڑے پیمانے پر داعشی اور دیگر گروہوں کو فرار کرایا جاتا ہے۔ ویڈیوز موجود ہیں کہ انہیں لینے کے لئے ہیلی کاپٹرز آ رہے ہیں اور بڑے اطمنان کے ساتھ وہ ان میں سوار ہوتے ہیں اور نامعلوم مقام کی طرف چلے جاتے ہیں۔

یوں لگتا ہے کہ مشرق وسطٰی کا پلان اے ناکام ہوچکا ہے۔ اس پلان کے مطابق شام اور عراق کو لمبے عرصے کے لئے ان دہشتگردوں گروہوں کے قبضے میں دیئے رکھنا تھا، تاکہ عوام ان کے ذریعے اسلام سے متنفر ہو جائے اور یہ لوگ انسانیت کو نجات دلانے کے بہانے عراق شام سے داعش کا قلع قمع کریں، مگر عراق کی غیور عوام اور مرجعیت اعلٰی نے ان کے منصوبے کو خاک میں ملا دیا۔ شام کی افواج نے بے شمار قربانیاں دے کر اپنے ملک کے اقتدار اعلٰی کا تحفظ کیا ہے۔ قرآن مجید کی کیا خوبصورت آیت ہے:”وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ”: "انہوں (بنی اسرائیل) نے (عیسٰیؑ کیخلاف) مکاری کی اور اللہ نے بھی اپنی (جوابی) تدبیر و ترکیب کی اور اللہ سب سے بہتر تدبیر و ترکیب کرنے والا ہے۔” اب یوں لگتا ہے پلان بی کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت ان داعشیوں اور انسانی قاتلوں کو افغانستان منتقل کیا گیا ہے۔ کافی عرصے سے اندرون خانہ ان کی طالبان سے جھڑپیں جاری ہیں۔ بہت ساری جگہوں پر جب یہ طالبان کے نرغے میں آگئے تو انہیں بچانے کے لئے امریکہ کی اتحادی افواج کی ائر سٹرائیک کی خبریں بھی موجود ہیں۔ یہاں پر مفادات کا باہمی ٹکراؤں پاکستان اور امریکہ کو بھی آمنے سامنے لے آیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی طالبان کو داعش کے ذریعے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں اور بعد میں پاکستان کے اندر بارڈر پر ہمیشہ پاکستان کے لئے مسائل پیدا کئے رکھنا چاہتا ہے۔ داعش وہ واحد گروہ ہے جو یہ کام کرسکتا ہے اور کر رہا ہے۔

داعش کی وجہ شہرت کئی چیزین ہیں، ان میں سے ایک شیعہ دشمنی ہے۔ آپ پچھلے کچھ عرصے میں افغانستان میں داعش کی سرگرمیوں کا مطالعہ کر لیں، آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ داعش نے شیعہ مزدورں، پروفیشنلز حتی خواتین اور بچوں کو بھی شہید کیا ہے۔ ابھی تازہ واقعات میں افغانستان میں ووٹوں کی رجسٹریشن کراتے ہوئے نہتے لوگوں کو شہید کر دیا گیا۔ اسی طرح کوئٹہ میں آئے روز شیعہ ہزارہ شہید ہو رہے ہیں اور پچھلے پانچ سال میں پانچ سو دس ہزارہ شہید ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی گیم میں بارڈر کے دونوں طرف آباد عوام کا بہت نقصان ہوا ہے، مگر ہزارہ برادری کی تو نسل کشی ہوئی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ طالبان اور داعش آپس میں لڑ رہے ہیں مگر یہ دونوں ہزارہ کو مارتے ہیں۔ داعش کی مثال القاعدہ جیسی ہوگئی ہے، جس طرح القاعدہ کے نام پر افغانستان سمیت کئی اسلامی ملکوں کو برباد کیا گیا، بالکل اسی طرح اب داعش کے بہانے مسلمان ملکوں کی نابودی کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔

عراق و شام کی تباہی کے بعد اب یہ منحوس سائے ہمارے بارڈرز پر پہنچ چکے ہیں۔ سکیورٹی اداروں اور علماء کی ذمہ داری ہے کہ عملی اور علمی طور پر اس فتنے سے نمٹنے کی بھرپور تیاری کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جس طرح حلب اور موصل ان دہشتگردوں کے ہاتھوں برباد ہوگئے، اسی طرح وطن عزیز کے کسی حصے پر بھی آنچ آئے۔ اردن کے ایک سابق جہادی کی ویڈیو دیکھ رہا تھا، اس میں وہ تمام جہادیوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ دیکھو تم لوگوں سے اسلام کے نام پر شہروں کو برباد کرائیں گے، بچوں اور خواتین تک کا قتل عام کرائیں گے۔ جب ریاست تباہ ہو جائے گی تو یہ اپنے ایجنٹ لے کر آجائیں گے، تم اس بات کا تصور بھی نہ کرنا کہ یہ تمہیں اسلام کے نام پر حکومت کرنے دیں گے۔ یہ تمہیں استعمال کریں گے اور استعمال کرنے کے بعد خود تم پر بمباری کرکے تمہیں ختم کر دیں گے، خاتمے کا کریڈت کسی کو نہیں لینے دیں گے۔ داعش کا مستقبل بھی یہی ہے۔ خدا اس منحوس سائے سے کابل و وطن عزیز کی حفاظت فرمائے۔

یہ بھی دیکھیں

"انفرادی” مزاحمتی حملوں سے غاصب صہیونیوں کی نیندیں حرام!

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران فلسطینیوں کی طرف سے ...