بدھ , 15 اگست 2018

سیدہ آمنہ ’’بنت الہدی‘‘ صدرکی زندگی مختصر داستان

تاریخ پیدائش : 23 فروری 1937
جائے پیدائش : کاظمین ، عراق
والد : فقیہ و محقق آیت اللہ سید حیدر صدر
والدہ: شیخ عبد الحسین آل یاسین کی صاحبزادی
تاریخ شہادت : 18 اپریل 1980ء
مدفن:قبرستان وادی السلام، نجف اشرف
بھائی : سید اسماعیل صدر او رآیت اللہ شہید سید محمد باقر صدر( مشہور عراقی مرجع تقلید )
اساتذہ :سید محمد باقر صدر، شیخ زہیر الحسون و ام‌ علی الحسون

آمنہ صدر ( بنت الہدی و شہیدہ صدر) کے نام سے معروف، عراق کی صاحب تصنیف، ثقافتی و سیاسی خواتین میں سے تھیں۔ ان کی ثقافتی و دینی سرگرمیوں میں نجف و کاظمین کے الزہرا مدارس کی سرپرستی، گھروں میں دینی جلسوں کی تشکیل، مجلہ الاضواء میں مقالہ نویسی، مذہبی کہانیاں اور شعر گوئی شامل ہیں۔بنت الہدی کو اپنے بھائی سید محمد باقر صدر کی گرفتاری پر اعتراض اور حرم امام علی (ع) میں تقریر، جس کا نتیجہ مختلف شہروں اور ملکوں میں مظاہروں کی شکل میں ظاہر ہوا، کی وجہ سے صدام حسین کی بعثی حکومت نے گرفتار کیا اور قید میں طویل صعوبتوں کے بعدبھائی کے ہمراہ گولی مار کر قتل کردیا ۔

سوانح حیات:
سیدہ آمنہ صدر آیت اللہ سید حیدر صدر کی بیٹی ہیں۔ ان کی والدہ آیت اللہ محمد رضا آل یاسین کی بہن تھیں۔ سید اسماعیل صدر اور شہید سید محمد باقر صدر ان کے بھائی ہیں۔ دو سال کی عمر میں وہ والد کے سایہ سے محروم ہو گئیں۔ انہوں نے لکھنا پڑھنا گھر ہی میں سیکھا اور اس کے بعد نحو، منطق، فقہ و اصول جیسے علوم حاصل کئے۔ انہوں نے سید محمد باقر صدر، شیخ زہیر الحسون اور ام علی الحسون سے تعلیم حاصل کی۔

تبلیغی سرگرمیاں:
گھریلو جلسات اور مجلہ الاضواء:
بنت الہدی دینی معاملات میں خواتین کے کردار کی اہمیت سے واقف تھیں۔ لہذا انہوں نے اپنے گھر میں اور اسی طرح سے دوسرے گھروں میں امور دین کی تبلیغ کے لئے جلسوں کو تشکیل دیا۔ وہ مجلہ الاضواء میں عراقی اور عرب لڑکیوں کے لئے مضامین تحریر کیا کرتی تھیں۔اس مجلہ میں ان کی تحریر کا موضوع مسلمان خواتین کے لئے دینی امور کی پابندی اور مغربی آئیڈیل اور نعروں سے دوری ہوا کرتا تھا۔

سرپرستی مدارس الزہراء:
مدارس الزہراء، چند مدارس پر مشتمل ایک مجموعہ تھا جو اسلامی فلاحی ادارہ سے تعلق رکھتا تھا۔ ان مدارس کی تاسیس کا مقصد بصرہ، دیوانیہ، حلہ، نجف، کاظمین اور بغداد کے بچوں کی دینی ثقافت کو تقویت پہچانا تھا۔ ان مدارس کا مرکز بغداد میں تھا۔ شہیدہ بنت الہدی نے ان مدارس میں وہاں کے رائج تعلیمی نصاب میں دو دروس کا اضافہ کیا اور اس کے لئے انہوں نے ایسے اساتذہ معین کئے جو اسلامی امور کی پابندی کے سلسلہ میں خاص اہتمام کرتے تھے۔

1967 ءمیں بنت الہدی نجف و کاظمین کے شعبوں کی سرپرست مقرر ہوئیں۔ اس زمانہ میں وہ نجف میں ایک اور دینی مدرسہ کی سرپرست تھیں۔ اس لئے انہوں نے ہفتہ کے ایام کو تقسیم کر رکھا تھا، آدھا ہفتہ وہ نجف میں اور آدھا کاظمین میں بسر کرتی تھیں۔ وہ مدرسہ کی چھٹی کے بعد اساتذہ کی تربیت میں وقت صرف کرتی تھیں اور بعد از ظہر کا وقت انہوں نے اسٹوڈینس کے سوالوں کے جوابات سے مخصوص کر رکھا تھا۔

1972 ء میں عراقی حکومت کی طرف سے ان مدارس کے حکومت عراق کی وزارت تعلیم و تربیت سے الحاق کے لازمی ہونے کا دستور صادر ہوا۔ اس حکم کے صادر ہونے کے ساتھ ہی بنت الہدی نے ان مدارس سے استعفی دے دیا اور حکومت کی طرف سے خط ملنے کے باوجود انہوں نے ان کے ساتھ تعاون کرنا قبول نہیں کیا۔انہوں نے ان کے ساتھ تعاون نہ کرنے کے سوال کا جواب ان الفاظ میں تحریر کیا:

’’میں خوشنوی خدا حاصل کرنے کی خاطر ان مدارس میں خدمت انجام دے رہی تھی۔ اب ان مدارس کے حکومت سے الحاق ہونے (بعثی حکومت کی نظارت) کے بعد میرے یہاں رہنے کی بھلا کیا توجیہ ہو سکتی ہے؟‘‘

مذہبی کہانیاں اور شعر گوئی:
بنت الہدی نے اپنی گفتگو کے لئے مخاطبین کا دائرہ مزید بڑھانے کے لئے تحریر کو ترجیح دی؛ عربی و اسلامی ممالک کی بہت سی خواتین ان کی کتابوں کے مطالعہ کے ذریعہ اسلامی افکار تک رسائی حاصل کر سکتی تھیں۔گھریلو مسائل، کار و شغل اسلامی، جاب کرنے والی خواتین کی دشواریاں، مزاق اڑانا، خواتین کی حیثیت کو زیر سوال لانا، خوب صورتی، میکپ و آرایش، حجاب وغیرہ ان کی تحریر و افسانوں کے مرکز ہیں۔انہوں نے اسی مقصد کے تحت شعر بھی کہے۔ ان کے زیادہ تر اشعار دینی و مذہبی رنگ میں رنگے نظر آتے ہیں۔

سیاسی سرگرمیاں اور شہادت
شہیدہ صدر عراق میں خواتین کی اسلامی تحریک میں پیش قدم تھیں۔ وہ اپنے بھائی سید محمد باقر صدر کی اسلامی تحریک کے نقش قدم پر چل رہی تھیں۔ ان کے زمانہ میں پیش آنے والے مہم ترین واقعات یہ ہیں:

1972 ع میں کوفہ کے ہسپتال سے شہید صدر کی گرفتاری

1974 ع میں عراق کی اسلامی تنظیموں کے بہت سے اعضاء کی گرفتاری اور ان میں سے 5 کو پھانسی کی سزا

1977 ع میں انتفاضہ نجف، جس میں کچھ جوانوں کو اس دلیل کے ساتھ کہ انہوں نے قانون توڑا اور عوام کو حکومت سے بغاوت پر ابھارا ہے، پھانسی دے دی گئی۔شہید صدر کو اس واقعہ کی وجہ سے بغداد طلب کیا گیا اور ان کے ذریعہ ان کاموں کی مذمت نہ کرنے کے سبب انہیں مورد عتاب قرار دیا گیا۔

1979 ءمیں شہید صدر کو ان کی سیاسی فعالیت کی وجہ سے عراق کی بعثی حکومت نے گرفتار کیا۔ ان کی گرفتاری کے ساتھ ہی بنت الہدی حرم امیر المؤمنین امام علی (علیہ السلام) میں گئیں اور وہاں تقریر کی اور عوام کو ان کے مرجع تقلید کی گرفتاری کی خبر سے آگاہ کیا۔ اس تقریر کے نتیجہ میں نجف کی عوام نے مظاہرہ کیا اور شہید صدر کو آزاد کر دیا گیا۔ اس خبر کے دوسرے شہروں اور ملکوں تک پہنچتے ہی بغداد، کاظمین، فہود، نعمانیہ، سماوہ، لبنان، بحرین اور ایران میں مظاہرے ہوئے۔ حکومت عراق نے ان مظاہروں کے مد نظر صدر خاندان کو ان کے گھر میں نظربند کر دیا اور 5 اپریل 1980ءسنیچر کے روز شہید صدر اور ان کی خواہر بنت الہدی کو جیل میں ڈال دیا گیا اور 9اپریل 1980 ء کو شہید کر دیاگیا ۔ کہا جاتا ہے کہ صدام حسین قتل کی یہ کارراوئی خود کی تھی ۔

شہیدہ کی چند مشہور کتابیں :
الفضیلہ تنتصر، لیتنی کنت أعلم، امرأتان و رجل، صراع مع واقع الحیاۃ، لقاء فی المستشفی، الخالہ الضائعہ، الباحثہ عن الحقیقہ، کلمہ و دعوہ، ذکریات علی تلال مکہ، بطولہ المرأۃ المسلمہ، المرأۃ مع النبی(ص)، المجموعہ القصصیہ الکاملہ۔

یہ بھی دیکھیں

امارات کا یمن جنگ میں بچوں کو بطور جنگجو استعمال کرنے کا انکشاف

(تسنیم خیالی) کچھ عرصہ قبل میں نے ایک کالم میں اس بات کا تذکرہ کیا ...