پیر , 28 مئی 2018

ہم ابھی زندہ ہیں

(عبدالقادر حسن) 
برصغیر پر ایک ہزار سال حکمرانی کے بعد مسلمانوں کی حکومت ختم ہو گئی اور ان کی جگہ انگریزوں نے برصغیر پر قبضہ کر لیا لیکن اس طویل غلامی کے باوجود ہندوستان کے اسلامی دل و دماغ نے غیروںکی غلامی قبول نہ کی۔ قیام پاکستان تک مسلمانوں نے کسی نہ کسی صورت میں مسلسل بغاوت کا علم بلند کیے رکھا یعنی اپنی آزادی کے لیے جدو جہد جاری رکھی اور پاکستان اسی نہ ختم ہونے والی آزادی کی جدو جہد کا نتیجہ تھا۔

اپنی سابقہ قلم رو یعنی پورا ہندوستان نہ سہی اس سر زمین پر ایک خطہ ہی سہی جہاں مسلمان اپنی مرضی کی آزادانہ زندگی بسر کر سکیں اور اس کے ساتھ ہی بلا کے متعصب پڑوسی ہندوؤں کے استحصال سے بھی محفوظ رہیں ۔ مسلمانوں کی جنگ آزادی جس کو بالاخرتحریک پاکستان کا نام دیا گیا صرف ان مسلمانوں کے لیے نہیں تھی جو کل پاکستان کی حدود میں آباد ہوئے تھے یہ ملک درحقیقت اس پرانے ہندوستان کا وارث تھا جس کی فرمانروائی صدیوں تک کبھی مسلمانوں کے پاس تھی چنانچہ مضبوط پاکستان ان مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی بھی ضمانت تھا جو بھارت میں رہ گئے تھے اور وہاں کے شہری بن کر آباد تھے۔

یہی وہ یقین دہانی تھی جس کی وجہ سے پورے ہندوستان کے مسلمانوں نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا تھا اور یہ حقیقت جاننے کے باوجود کہ ایک بڑی تعدادکو پاکستان سے باہر زندگی بسر کرنی تھی اور یہ پاکستان صرف ہندوستان کے مسلمانوں کا ہی محافظ نہیں تھا بلکہ اس ملک کو مسلمانوں کا قلعہ کہا گیا۔ دنیا بھر کے لیے ایک جدید اسلامی ریاست کا نمونہ قرار دیا گیا اور یہ دعویٰ اس بنیاد پر کیا گیا کہ اسلامی تاریخ میں یہ پہلا نظریاتی ملک تھا جو عدم سے وجود میں آیا تھا کسی اور کی نہیں خود بانی پاکستان کی تقریریں اس ملک کا بھر پور تعارف ہیں جو بعد میں مسلمانان برصغیر کی تحریک کے نتیجے میں قائم ہونے والا تھا۔

قائد اعظم اپنے نوزائیدہ پاکستان کو اپنے پیچھے تڑپتا چھوڑ کر چلے گئے اور اپنے پیچھے ان کھوٹے لیڈروں کو چھوڑ گئے جو قائد اعظم کے پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے تھے چنانچہ ان سے قرار داد مقاصد زبردستی منظور کرانی پڑی تو دوسری طرف پاکستان کی معاشی آزادی کے لیے کوئی منصوبہ بندی موجود نہیں تھی، غیر مسلموں کی جگہ منافع خور مسلمان تاجر مسلط ہو گئے اوراس ملک کے زمیندار جوں کے توں برقرار رہے ۔

ایک کمیونسٹ شاعر نے کمیونزم سے محروم پاکستان کو شب گزیدہ سحر کہا لیکن مسلمان بھی اسے شب گزیدہ سحر کہہ سکتے تھے کہ انھیں جس پاکستان کی جھلک دکھائی گئی تھی قیام پاکستان کے بعد اس کا سراغ نہ مل سکا، اس نئے نظریاتی ملک کو ا ستحکام تو کیا ہوتا کہ اس کے حکمران اسلام کو سیاست سے الگ رکھنا چاہتے تھے اور اسلام کو صرف مسجد تک محدود کر دینا چاہتے تھے، یہ لوگ تو اس کی جغرافیائی سرحدوں کو بھی برقرار نہ رکھ سکے اور ایسی رسوائی کرائی کہ برصغیر میں آباد مسلمانوں کی تاریخ ہی بدل گئی،ان کی نفسیات میں شکست بھر دی ۔

ہندوستان میں یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں کو ایسی شکست ہوئی، اس کے سامنے ان کی ماضی کی پیہم فتوحات بھی شرمندہ ہو گئیں، تب سے اب تک ہم بھارت کے ہندوؤں سے شکست خوردہ کیفیت میں چلے آرہے ہیں اور اب تو ہماری بزدلی اور شکست خوردگی کا یہ عالم ہے کہ بھارتیوں کی خوشنودی کو ہم اپنی سیاست کی کامیابی قرار دیتے ہیں ۔ وہ جو ہندو بنئے کے استحصال سے نجات کی بات کی گئی تھی، اس وعدے پر خط تنسیخ کھینچ کر ہم بھارت کے ساتھ آزادانہ تجارت کے لیے مرے جارہے ہیں اور اس کے لیے ہم اپنے ملک کی ہر طرح کی سبکی کے لیے ہر وقت تیار ہیں ۔

بہانہ یہ بنایا جاتا ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت ہماری ضرورت ہے، ہمیں وہا ں سے سستے داموں سبزیاں اور پھل مل جاتے ہیں،یہ بات اگر درست بھی مان لی جائے توحکمرانوں سے یہ پوچھنا چاہیے کہ ہمارے اپنے کسانوں کا کیا قصور ہے اور وہ کیوں سستے داموں سبزیاں اور پھل فراہم کرنے سے قاصر ہیں چونکہ بھارتی پنجاب کے کسانوں کو مفت بجلی اور سستے داموں زرعی پیداوار کی اشیاء جن میں ٹریکٹر، ڈیزل اور کھادیں شامل ہیںوہاں کی حکومت فراہم کر رہی ہے جب کہ ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے اور کسانوں کو قرضہ جات کے بوجھ تلے دبا دیا جاتا ہے اور اگر فصل اچھی نہ ہو تو یہ قرض مزید بڑھ جاتا ہے جو بعد میں ناقابل ادائیگی بھی ہو جاتا ہے اور بالاخر کسان اپنی زمین بیچ کر یہ قرض ادا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بات وہی ہے کہ ہم بھارت سے پہلے فوجی اور اب ذہنی شکست کھا چکے ہیں اور یہ اس کی ایک مثا ل ہے ایسی کئی مثالیں اب آتی رہیں گی قومی غیرت کے زوال کا سلسلہ جاری ہے۔

جو صورتحال بنتی جا رہی ہے اور جس طرح بھارت جارحیت پر اترا ہو اہے تو اس کے دو ہی نتیجے نکل سکتے ہیں کہ یہ قوم بھی اپنے سیاستدانوں کے ساتھ بھارت کی غلامی قبول کر لے اور آنے والی نسلوں کو کسی نئے پاکستان کے لیے چھوڑ دے یا پھر اس کا ردعمل اتنا شدید ہو کہ تحریک پاکستان کی یاد تازہ ہو جائے لیکن اس کے لیے کوئی لیڈر چاہیے۔

قوم نے ہمیشہ ہر لیڈر کا استقبال کیا، اس امید پر کہ ہو سکتا ہے یہ لیڈر اسے منزل پر لے جائے لیکن ابھی تک کسی لیڈر نے اس قوم کے ساتھ وفا نہیں کی ۔اگرمختصراً یہ کہا جائے کہ ہمارا بحران نہ معاشی ہے نہ کوئی اور بلکہ اصل بحران قیادت کا فقدان ہے توشاید غلط نہ ہوگا۔قوم کو کسی ایسے قائد کی تلاش ہے جو ہمارا پاکستان تلاش کر کے واپس لے آئے ۔ اس قوم میں ابھی امید کے چراغ جل رہے ہیں، منزل کے نشان ابھی مٹے نہیں مگر گزشتہ ستر برسوں میں سازشی سیاستدانوں نے قوم کی قیادت کا ایسا فارمولا بنا دیا ہے جس پر وہ خود ہی پورا اترتے ہیں ۔ قوم انتظار میں ہے اور ابھی اتنی ناامیدی بھی نہیں ہوئی ۔ مسلمان اتنے گناہ گار بھی نہیں کہ اﷲ کی ذات کو ان پر رحم نہ آئے ۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

مائیک پمپیو نے بن سلمان کو اسکی اوقات دکھادی

(تسنیم خیالی) امریکہ ایک ایسا ملک ہے جس کے اتحادی اور دشمن ممالک دونوں ہی ...